تم نہ گھبراؤ مرے زخم جگر کو دیکھ کر
تم نہ گھبراؤ مرے زخم جگر کو دیکھ کر میں نہ مر جاؤں تمہاری چشم تر کو دیکھ کر زخم تازہ کر رہا ہوں چارہ گر کو دیکھ کر راستہ میں نے بدل ڈالا خضر کو دیکھ کر زندگانی اک فریب دائمی ہے سر بسر مجھ پہ یہ ظاہر ہوا شام و سحر کو دیکھ کر گرچہ ان سے کوئی امید وفا مجھ کو نہیں جی بہل جاتا ہے پھر ...