شاعری

تم نہ گھبراؤ مرے زخم جگر کو دیکھ کر

تم نہ گھبراؤ مرے زخم جگر کو دیکھ کر میں نہ مر جاؤں تمہاری چشم تر کو دیکھ کر زخم تازہ کر رہا ہوں چارہ گر کو دیکھ کر راستہ میں نے بدل ڈالا خضر کو دیکھ کر زندگانی اک فریب دائمی ہے سر بسر مجھ پہ یہ ظاہر ہوا شام و سحر کو دیکھ کر گرچہ ان سے کوئی امید وفا مجھ کو نہیں جی بہل جاتا ہے پھر ...

مزید پڑھیے

فلسفے عشق میں پیش آئے سوالوں کی طرح

فلسفے عشق میں پیش آئے سوالوں کی طرح ہم پریشاں ہی رہے اپنے خیالوں کی طرح شیشہ گر بیٹھے رہے ذکر مسیحا لے کر اور ہم ٹوٹ گئے کانچ کے پیالوں کی طرح جب بھی انجام محبت نے پکارا خود کو وقت نے پیش کیا ہم کو مثالوں کی طرح ذکر جب ہوگا محبت میں تباہی کا کہیں یاد ہم آئیں گے دنیا کو حوالوں کی ...

مزید پڑھیے

عشق میں غیرت جذبات نے رونے نہ دیا

عشق میں غیرت جذبات نے رونے نہ دیا ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدلیں گے نصیب عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں جن کو مجبورئ حالات نے رونے نہ دیا تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا تنگیٔ وقت ملاقات ...

مزید پڑھیے

گزرے لمحوں کے دوبارہ پنے کھول رہی ہوں میں

گزرے لمحوں کے دوبارہ پنے کھول رہی ہوں میں تھوڑے قصے یاد ہیں مجھ کو تھوڑے بھول گئی ہوں میں روز صبح اٹھ جایا کرتے ہیں مجھ میں کردار کئی پر بستر سے خود کو تنہا اٹھتے دیکھ رہی ہوں میں سوچا ہے میں درد چھپا لوں گی اپنے آسانی سے سینے میں جاسوس چھپا ہے یہ کیوں بھول رہی ہوں میں ایک سبب ...

مزید پڑھیے

لاکھ بدلا بدل نہیں پائے

لاکھ بدلا بدل نہیں پائے آئنے سے نکل نہیں پائے یوں تو دنیا جہان گھومے مگر لوگ گھر سے نکل نہیں پائے سامنے تجھ کو یک بیک پا کر لفظ ہم سے سنبھل نہیں پائے کتنے موتی ابھی بھی ایسے ہیں سیپ سے جو نکل نہیں پائے کاغذی لوگ گل گئے کب کے ہم تھے پتھر سو گل نہیں پائے

مزید پڑھیے

دنیا سے وفا کر کے صلہ ڈھونڈ رہے ہیں

دنیا سے وفا کر کے صلہ ڈھونڈ رہے ہیں ہم لوگ بھی ناداں ہیں یہ کیا ڈھونڈ رہے ہیں کچھ دیر ٹھہر جائیے اے بندۂ انصاف ہم اپنے گناہوں میں خطا ڈھونڈ رہے ہیں یہ بھی تو سزا ہے کہ گرفتار وفا ہوں کیوں لوگ محبت کی سزا ڈھونڈ رہے ہیں دنیا کی تمنا تھی کبھی ہم کو بھی فاکرؔ اب زخم تمنا کی دوا ...

مزید پڑھیے

دل کے دیوار و در پہ کیا دیکھا

دل کے دیوار و در پہ کیا دیکھا بس ترا نام ہی لکھا دیکھا تیری آنکھوں میں ہم نے کیا دیکھا کبھی قاتل کبھی خدا دیکھا اپنی صورت لگی پرائی سی جب کبھی ہم نے آئینہ دیکھا ہائے انداز تیرے رکنے کا وقت کو بھی رکا رکا دیکھا تیرے جانے میں اور آنے میں ہم نے صدیوں کا فاصلہ دیکھا پھر نہ آیا ...

مزید پڑھیے

کسی رنجش کو ہوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی

کسی رنجش کو ہوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی مجھ کو احساس دلا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی میرے رکتے ہی مری سانسیں بھی رک جائیں گی فاصلے اور بڑھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی زہر پینے کی تو عادت تھی زمانے والو اب کوئی اور دوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی چلتی راہوں میں یوں ہی آنکھ لگی ہے فاکرؔ بھیڑ ...

مزید پڑھیے

کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا

کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا اور کچھ تلخئ حالات نے دل توڑ دیا this world's benefaction broke my heart to some extent and then by bitter circumstance partly my heart was rent ہم تو سمجھے تھے کے برسات میں برسے گی شراب آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا showers of wine, I did think, would come with rainy clime but alas when it did rain my heart broke one more time دل تو روتا ...

مزید پڑھیے

سمجھتے تھے وہ، سمجھایا گیا ہے

سمجھتے تھے وہ، سمجھایا گیا ہے ہمیں ہم سے ہی ملوایا گیا ہے ہمارے نام کا بے نام حصہ کسی کے نام لکھوایا گیا ہے کبھی احسان کوئی کر گیا تھا برابر یاد دلوایا گیا ہے یہ آنکھیں نیند میں بھی جاگتی ہیں یہ کس کا ذکر دہرایا گیا ہے ہم اپنی گفتگو بھی تولتے ہیں ہمیں بیوپار سکھلایا گیا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 499 سے 4657