شاعری

گوشے بدل بدل کے ہر اک رات کاٹ دی

گوشے بدل بدل کے ہر اک رات کاٹ دی کچے مکاں میں اب کے بھی برسات کاٹ دی وہ سر بھی کاٹ دیتا تو ہوتا نہ کچھ ملال افسوس یہ ہے اس نے مری بات کاٹ دی دل بھی لہولہان ہے آنکھیں بھی ہیں اداس شاید انا نے شہ رگ جذبات کاٹ دی جب بھی ہمیں چراغ میسر نہ آ سکا سورج کے ذکر سے شب‌ ظلمات کاٹ دی جادوگری ...

مزید پڑھیے

کہیں خلوص کی خوشبو ملے تو رک جاؤں

کہیں خلوص کی خوشبو ملے تو رک جاؤں مرے لیے کوئی آنسو کھلے تو رک جاؤں میں اس کے سائے میں یوں تو ٹھہر نہیں سکتا اداس پیڑ کا پتا ہلے تو رک جاؤں کبھی پلک پہ ستارے کبھی لبوں پہ گلاب اگر نہ ختم ہوں یہ سلسلے تو رک جاؤں وہ ایک ربط جو اتنا بڑھا کہ ٹوٹ گیا سمٹ کے جوڑ دے یہ فاصلے تو رک ...

مزید پڑھیے

میں نہ کہتا تھا کہ شہروں میں نہ جا یار مرے

میں نہ کہتا تھا کہ شہروں میں نہ جا یار مرے سوندھی مٹی ہی میں ہوتی ہے وفا یار مرے کوئی ٹوٹے ہوئے خوابوں سے کہاں ملتا ہے ہر جگہ درد کا بستر نہ لگا یار مرے سلسلہ پھر سے جڑا ہے تو جڑا رہنے دے دل کے رشتوں کو تماشہ نہ بنا یار مرے اپنی چاہت کے شب و روز مکمل کر لے جا یہ سورج بھی ترے نام ...

مزید پڑھیے

کعبہ ہے اگر شیخ کا مسجود خلائق

کعبہ ہے اگر شیخ کا مسجود خلائق ہر بت ہے مرے دیر کا معبود خلائق نقصان سے اور نفع سے کچھ اپنے نہیں کام ہر آن ہے منظور مجھے سود خلائق میں دست دعا اس کی طرف کیونکہ اٹھاؤں ہوتا ہی نہیں چرخ سے مقصود خلائق پھرتا ہے فلک فکر میں گردش میں یہ سب کی ہرگز یہ نہیں چاہتا بہبود خلائق تاباںؔ ...

مزید پڑھیے

ترے مژگاں کی فوجیں باندھ کر صف جب ہوئیں کھڑیاں

ترے مژگاں کی فوجیں باندھ کر صف جب ہوئیں کھڑیاں کیا عالم کو سارے قتل لو تھیں ہر طرف پڑیاں دم اپنے کا شمار اس طرح تیرے غم میں کرتا ہوں کہ جیسے شیشۂ ساعت میں گنتا ہے کوئی گھڑیاں ہمیں کو خانۂ زنجیر سے الفت ہے زنداں میں وگرنہ ایک جھٹکے میں جدا ہو جائیں سب کڑیاں تجھے دیکھا ہے جب سے ...

مزید پڑھیے

جب مرے ہونٹوں پہ میری تشنگی رہ جائے گی

جب مرے ہونٹوں پہ میری تشنگی رہ جائے گی تیری آنکھوں میں بھی تھوڑی سی نمی رہ جائے گی سر پھرا جھونکا ہوا کا توڑ دے گا شاخ کو پھول بننے کی تمنا میں کلی رہ جائے گی ختم ہو جائے گا جس دن بھی تمہارا انتظار گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی کیا خبر تھی آئے گا اک روز ایسا وقت بھی میری ...

مزید پڑھیے

عجیب ہم ہیں سبب کے بغیر چاہتے ہیں

عجیب ہم ہیں سبب کے بغیر چاہتے ہیں تمہیں تمہاری طلب کے بغیر چاہتے ہیں فقیر وہ ہیں جو اللہ تیرے بندوں کو ہر امتیاز نسب کے بغیر چاہتے ہیں مزا تو یہ ہے انہیں بھی نوازتا ہے رب جو اس جہان کو رب کے بغیر چاہتے ہیں نہیں ہے کھیل کوئی ان سے گفتگو کرنا سخن وہ جنبش لب کے بغیر چاہتے ...

مزید پڑھیے

جس نے تیری یاد میں سجدے کئے تھے خاک پر

جس نے تیری یاد میں سجدے کئے تھے خاک پر اس کے قدموں کے نشاں پائے گئے افلاک پر واقعہ یہ کن‌ فکاں سے بھی بہت پہلے کا ہے اک بشر کا نور تھا قندیل میں افلاک پر دوستوں کی محفلوں سے دور ہم ہوتے گئے جیسے جیسے سلوٹیں پڑتی گئیں پوشاک پر مخملی ہونٹوں پہ بوسوں کی نمی ٹھہری ہوئی سانس الجھی ...

مزید پڑھیے

کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشی

کیا کریں کیوں کر رہیں دنیا میں یارو ہم خوشی ہم کو رہنے ہی نہیں دیتا ہے ہرگز غم خوشی ہم تو اپنے درد اور غم میں نپٹ محظوظ ہیں ہم کو کیا اس بات سے رہتا ہے گر عالم خوشی اے عزیزو اس خوشی کو کوئی خوشی نہیں پہونچتی عاشق اور معشوق جب ہوتے ہیں مل باہم خوشی اے فلک جس جس طرح کا غم تو چاہے ...

مزید پڑھیے

ایسا کہاں حباب کوئی چشم تر کہ ہم

ایسا کہاں حباب کوئی چشم تر کہ ہم لب خشک یہ محیط ہے کب اس قدر کہ ہم ایسا نہیں غریب کوئی گھر بہ گھر کہ ہم ایسا نہیں خراب کوئی در بدر کہ ہم مدام ہی مشبک مژگان یار ہے لیکن نہ اس قدر رہے خستہ جگر کہ ہم گو آج ہم ہیں بے سر و پا دیکھیے کہ کل یہ راہ پل صراط کرے شیخ سر کہ ہم ہم بحثتے ہیں چاک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 474 سے 4657