شاعری

مجھ کو بھی حق ہے زندگانی کا

مجھ کو بھی حق ہے زندگانی کا میں بھی کردار ہوں کہانی کا جو مجھے آج پھر نظر آیا خواب ہے میری نوجوانی کا ہم کو درپیش ہے زمانے سے مسئلہ بخت کی گرانی کا کیوں نکلتا نظر نہیں آتا کچھ نتیجہ بھی خوش گمانی کا کل جو سیلاب آ گیا تو عظیمؔ ہم نے جانا مزاج پانی کا

مزید پڑھیے

اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میں

اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میں اپنی صورت دھندلائی ہے آنکھوں میں آج چمن کا حال نہ پوچھو ہم نفسو آج خزاں کی رت آئی ہے آنکھوں میں برسوں پہلے جس دریا میں اترا تھا اب تک اس کی گہرائی ہے آنکھوں میں ان باتوں پر مت جانا جو عام ہوئیں دیکھو کتنی سچائی ہے آنکھوں میں ان میں اب بھی حرف ...

مزید پڑھیے

موسم گل بہار کے دن تھے

موسم گل بہار کے دن تھے جو ترے میرے پیار کے دن تھے جو ترے انتظار میں گزرے بس وہی انتظار کے دن تھے جو بہت بے قرار رکھتے تھے ہاں وہی تو قرار کے دن تھے جن دنوں دل پہ اختیار نہ تھا کیا وہی اختیار کے دن تھے تھے مقید تری محبت میں زندگی سے فرار کے دن تھے

مزید پڑھیے

یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میں

یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میں ٹوٹ جاتا ہے بارہا مجھ میں میں ترے ہجر کی گرفت میں ہوں ایک صحرا ہے مبتلا مجھ میں من مہکتا ہے کس کی خوشبو سے کون رہتا ہے پھول سا مجھ میں کتنے لمحات کا تھا اک لمحہ زندگی بھر رکا رہا مجھ میں اس کی آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے اور سیلاب آ گیا مجھ میں جب بھی اپنی ...

مزید پڑھیے

محبت سے گزر جانا ہمارا

محبت سے گزر جانا ہمارا نہ تھا آسان مر جانا ہمارا وہاں جب منتظر کوئی نہیں ہے نہیں بنتا ادھر جانا ہمارا ذرا تم وقت کی رفتار دیکھو کہاں ممکن ٹھہر جانا ہمارا تمہارے راستے میں آ گئے ہیں بہت مشکل ہے گھر جانا ہمارا کہانی کا تو رخ ہی موڑ دے گا کسی کردار پر جانا ہمارا ہماری جان خطرے ...

مزید پڑھیے

جیسے سوال میں ہو کوئی جواب سا

جیسے سوال میں ہو کوئی جواب سا رکھ کر چلا گیا وہ آنکھوں میں خواب سا ان سا حسین کوئی اس شہر میں نہیں آنکھیں شراب جیسی چہرہ کتاب سا کانٹا چبھو گیا وہ دل خون ہو گیا اک چہرہ لگ رہا تھا ہم کو گلاب سا آوارہ ہو گیا ہے اے دوست عشق بھی پھرتا ہے شہر جاں میں اب بے حجاب سا پیتا رہا ہوں آنسو ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں وہ کدھر نہیں رہتا

کیا کہوں وہ کدھر نہیں رہتا ہاں مگر اس نگر نہیں رہتا تو ہو تیرا خیال ہو یا خواب کوئی بھی رات بھر نہیں رہتا جب سکوں ہی نہ دے سکے تو پھر گھر کسی طور گھر نہیں رہتا جس گھڑی چاہو تم چلے آؤ میں کوئی چاند پر نہیں رہتا یوں تو اپنی بھی جستجو ہے مجھے تجھ سے بھی بے خبر نہیں رہتا دل فگاروں ...

مزید پڑھیے

کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے

کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے کس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہے ایک طرہ سا تو میں دیکھ رہا ہوں لیکن کوئی بتلائے کہ دستار سے آگے کیا ہے ظلم یہ ہے کہ یہاں بکتا ہے یوسف بے دام اور نہیں جانتا بازار سے آگے کیا ہے سر میں سودا ہے کہ اک بار تو دیکھوں جا کر سر میدان سجی دار سے آگے ...

مزید پڑھیے

نہ دیکھیں تو سکوں ملتا نہیں ہے

نہ دیکھیں تو سکوں ملتا نہیں ہے ہمیں آخر وہ کیوں ملتا نہیں ہے محبت کے لیے جذبہ ہے لازم یہ آئینہ تو یوں ملتا نہیں ہے ہم اک مدت سے در پر منتظر ہیں مگر اذن جنوں ملتا نہیں ہے ہے جتنا ظرف اتنی پاسداری ضرورت ہے فزوں ملتا نہیں ہے عجب ہوتی ہے آئندہ ملاقات ہمیشہ جوں کا توں ملتا نہیں ...

مزید پڑھیے

یقیں سے جو گماں کا فاصلہ ہے

یقیں سے جو گماں کا فاصلہ ہے زمیں سے آسماں کا فاصلہ ہے ہوا پیمائی کی خواہش ہے اتنی کہ جتنا بادباں کا فاصلہ ہے خیالات اس قدر ہیں مختلف کیوں ہمارے درمیاں کا فاصلہ ہے کوئی اظہار کر سکتا ہے کیسے یہ لفظوں سے زباں کا فاصلہ ہے میں اس تک کس طرح پہنچوں گا تابشؔ یہاں سے اس جہاں کا فاصلہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 469 سے 4657