شاعری

عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھی

عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھی وہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھی وہ اک چراغ کدہ جس میں کچھ نہیں تھا مرا جو جل رہی تھی وہ قندیل بھی پرائی تھی نہ جانے کتنے پرندوں نے اس میں شرکت کی کل ایک پیڑ کی تقریب رو نمائی تھی ہواؤ آؤ مرے گاؤں کی طرف دیکھو جہاں یہ ریت ہے پہلے یہاں ترائی ...

مزید پڑھیے

زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں

زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں میں نے وقت سے پہلے ٹانکے کھولے ہیں باہر آنے کی بھی سکت نہیں ہم میں تو نے کس موسم میں پنجرے کھولے ہیں برسوں سے آوازیں جمتی جاتی تھیں خاموشی نے کان کے پردے کھولے ہیں کون ہماری پیاس پہ ڈاکا ڈال گیا کس نے مشکیزوں کے تسمے کھولے ہیں ورنہ دھوپ کا ...

مزید پڑھیے

ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہو

ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہو میرے لئے ذرا بھی ضروری نہیں کہ ہو رہتا ہے ذہن و دل میں جو احساس کی طرح اس کا کوئی پتا بھی ضروری نہیں کہ ہو انسان سے ملو بھی تو انسان جان کر ہر شخص دیوتا بھی ضروری نہیں کہ ہو کس نے تمہیں زبان عطا کی کہ آج تم کہتے ہو جو خدا بھی ضروری نہیں کہ ...

مزید پڑھیے

اک انوکھی رسم کو زندہ رکھا ہے

اک انوکھی رسم کو زندہ رکھا ہے خون ہی نے خون کو پسپا رکھا ہے اب جنون خود نمائی میں تو ہم نے وحشتوں کا اک دریچہ وا رکھا ہے شہر کیسے اب حقیقت آشنا ہو آگہی پر ذات کا پہرہ رکھا ہے تیرگی کی کیا عجب ترکیب ہے یہ اب ہوا کے دوش پر دیوا رکھا ہے تم چراغوں کو بجھانے پر تلے ہو ہم نے سورج کو ...

مزید پڑھیے

دل محبت میں مبتلا ہو جائے

دل محبت میں مبتلا ہو جائے جو ابھی تک نہ ہو سکا ہو جائے تجھ میں یہ عیب ہے کہ خوبی ہے جو تجھے دیکھ لے ترا ہو جائے خود کو ایسی جگہ چھپایا ہے کوئی ڈھونڈھے تو لاپتا ہو جائے میں تجھے چھوڑ کر چلا جاؤں سایا دیوار سے جدا ہو جائے بس وہ اتنا کہے مجھے تم سے اور پھر کال منقطع ہو جائے دل بھی ...

مزید پڑھیے

تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا

تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ اس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی تم ...

مزید پڑھیے

بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا

بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا ہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتا محاذ عشق سے کب کون بچ کے نکلا ہے تو بچ گیا ہے تو خیرات کیوں نہیں کرتا وہ جس کی چھاؤں میں پچیس سال گزرے ہیں وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا میں جس کے ساتھ کئی دن گزار آیا ہوں وہ میرے ساتھ بسر رات کیوں نہیں ...

مزید پڑھیے

خواہشوں کی بادشاہی کچھ نہیں

خواہشوں کی بادشاہی کچھ نہیں دل میں شوق کج کلاہی کچھ نہیں کیوں عدالت کو شواہد چاہئیں کیا یہ زخموں کی گواہی کچھ نہیں صبح لکھی ہے اگر تقدیر میں رات کی پھر یہ سیاہی کچھ نہیں سوچ اپنی ذات تک محدود ہے ذہن کی کیا یہ تباہی کچھ نہیں ظرف شامل ہے ہمارے خون میں یہ تمہاری کم نگاہی کچھ ...

مزید پڑھیے

بڑھ رہا ہوں خیال سے آگے

بڑھ رہا ہوں خیال سے آگے کچھ نہیں ماہ و سال سے آگے بس حقیقت ہے جو نظر آیا ہے فسانہ جمال سے آگے میں ترے ہجر میں جو زندہ ہوں سوچتا ہوں وصال سے آگے اس قدر با کمال ہیں یہ لوگ کچھ کریں گے کمال سے آگے شوق صدمے سے ہو گیا دو چار بڑھ نہ پایا دھمال سے آگے یہ جو ماضی کی بات کرتے ہیں سوچتے ...

مزید پڑھیے

میں اس کی محبت سے اک دن بھی مکر جاتا

میں اس کی محبت سے اک دن بھی مکر جاتا کچھ اور نہیں ہوتا اس دل سے اتر جاتا جس شام گرفتاری قسمت میں مری آئی اس شام کی لذت سے میں اور بکھر جاتا خوشبو کے تعاقب نے زنجیر کیا مجھ کو ورنہ تو یہاں سے میں چپ چاپ گزر جاتا آواز سماعت تک پہنچی ہی نہیں شاید وہ ورنہ تسلی کو کچھ دیر ٹھہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 468 سے 4657