عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھی
عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھی وہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھی وہ اک چراغ کدہ جس میں کچھ نہیں تھا مرا جو جل رہی تھی وہ قندیل بھی پرائی تھی نہ جانے کتنے پرندوں نے اس میں شرکت کی کل ایک پیڑ کی تقریب رو نمائی تھی ہواؤ آؤ مرے گاؤں کی طرف دیکھو جہاں یہ ریت ہے پہلے یہاں ترائی ...