شاعری

باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کی

باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کی کس قدر ممنون ہے باد بہاری آپ کی بے وفائی آپ کی غفلت شعاری آپ کی میرے دل نے عادتیں سیکھی ہیں ساری آپ کی ہے یقیں باہم گلے ملنے کو اٹھیں دست شوق ہو اگر تصویر بھی یکجا ہماری آپ کی میکدے میں ٹوٹے جاتے ہیں بہم لڑ لڑ کے جام مفسدہ پرداز ہے چشم ...

مزید پڑھیے

کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے

کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہے عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیں عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں میں بٹ رہی ہے میں اس کو ہر روز بس یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا سنو یہاں کوئی مسئلہ ہے تمہاری ...

مزید پڑھیے

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں جو دیکھتا ہوں میں وہ بھولتا نہیں کسی منڈیر پر کوئی دیا جلا پھر اس کے بعد کیا ہوا پتا نہیں میں آ رہا تھا راستے میں پھول تھے میں جا رہا ہوں کوئی روکتا نہیں تری طرف چلے تو عمر کٹ گئی یہ اور بات راستہ کٹا نہیں اس اژدھے کی آنکھ پوچھتی رہی کسی کو خوف آ ...

مزید پڑھیے

تو نے کیا قندیل جلا دی شہزادی

تو نے کیا قندیل جلا دی شہزادی سرخ ہوئی جاتی ہے وادی شہزادی شیش محل کو صاف کیا ترے کہنے پر آئنوں سے گرد ہٹا دی شہزادی اب تو خواب کدے سے باہر پاؤں رکھ لوٹ گئے ہیں سب فریادی شہزادی تیرے ہی کہنے پر ایک سپاہی نے اپنے گھر کو آگ لگا دی شہزادی میں تیرے دشمن لشکر کا شہزادہ کیسے ممکن ہے ...

مزید پڑھیے

سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گے

سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گے ہم ترے خواب دیکھتے رہیں گے تو کہیں اور ڈھونڈھتا رہے گا ہم کہیں اور ہی کھلے رہیں گے راہگیروں نے رہ بدلنی ہے پیڑ اپنی جگہ کھڑے رہے ہیں برف پگھلے گی اور پہاڑوں میں سالہا سال راستے رہیں گے سبھی موسم ہیں دسترس میں تری تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے لوٹنا ...

مزید پڑھیے

نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے

نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے کہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہے کسی درخت کی حدت میں دن گزارنا ہے کسی چراغ کی چھاؤں میں رات کرنی ہے وہ پھول اور کسی شاخ پر نہیں کھلنا وہ زلف صرف مرے ہاتھ سے سنورنی ہے تمام ناخدا ساحل سے دور ہو جائیں سمندروں سے اکیلے میں بات کرنی ...

مزید پڑھیے

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں میں جو بھی دیکھتا ہوں بھولتا نہیں کسی منڈیر پر کوئی دیا جلا پھر اس کے بعد کیا ہوا پتا نہیں ابھی سے ہاتھ کانپنے لگے مرے ابھی تو میں نے وہ بدن چھوا نہیں میں آ رہا تھا راستے میں پھول تھے میں جا رہا ہوں کوئی روکتا نہیں تری طرف چلے تو عمر کٹ گئی یہ اور ...

مزید پڑھیے

ویسے میں نے دنیا میں کیا دیکھا ہے

ویسے میں نے دنیا میں کیا دیکھا ہے تم کہتے ہو تو پھر اچھا دیکھا ہے میں اس کو اپنی وحشت تحفے میں دوں ہاتھ اٹھائے جس نے صحرا دیکھا ہے بن دیکھے اس کی تصویر بنا لوں گا آج تو میں نے اس کو اتنا دیکھا ہے ایک نظر میں منظر کب کھلتے ہیں دوست تو نے دیکھا بھی ہے تو کیا دیکھا ہے عشق میں بندہ ...

مزید پڑھیے

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے تیرے جانے کا غم کیا گیا ہے تا قیامت ہرے بھرے رہیں گے ان درختوں پہ دم کیا گیا ہے اس لیے روشنی میں ٹھنڈک ہے کچھ چراغوں کو نم کیا گیا ہے کیا یہ کم ہے کہ آخری بوسہ اس جبیں پر رقم کیا گیا ہے پانیوں کو بھی خواب آنے لگے اشک دریا میں ضم کیا گیا ہے ان کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

بچھڑ کر اس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گا

بچھڑ کر اس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گا وو تھک جائے گا اور میرے گلے سے آ لگے گا میں مشکل میں تمہارے کام آؤں یا نہ آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا میں جس کوشش سے اس کو بھول جانے میں لگا ہوں زیادہ بھی اگر لگ جائے تو ہفتہ لگے گا مرے ہاتھوں سے لگ کر پھول مٹی ہو رہے ہیں مری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 466 سے 4657