شاعری

پردے میں خامشی کے سخن بولنے لگے

پردے میں خامشی کے سخن بولنے لگے کاٹی گئی زباں تو نین بولنے لگے قاتل تو مطمئن تھا ٹھکانے لگا کے لاش کافور چیخ اٹھے کفن بولنے لگے اہل چمن نے کھو دی بصیرت تو یوں ہوا گلشن کے سارے زاغ و زغن بولنے لگے یوں بھی ہوا ہے لاکھ مکھوٹوں کے باوجود سب آؤ تاؤ چال چلن بولنے لگے جب تان لی ہے رات ...

مزید پڑھیے

دیوار وقت پر ہیں نوشتے عجیب سے

دیوار وقت پر ہیں نوشتے عجیب سے رقصاں گلی گلی میں ہیں سائے مہیب سے حیرت ہے کیوں جو آئینہ ٹوٹا حبیب سے ٹھوکر ہمیشہ لگتی ہے بالکل قریب سے نکبت کا درد ترسی نظر دل میں اضطراب غربت کا کرب پوچھیے جا کر غریب سے گھر کے مکین خیر سے لوٹیں نہ جب تلک خدشات گھیرے رہتے ہیں دل کو عجیب سے مخلص ...

مزید پڑھیے

باتوں باتوں میں بڑے ہی پیار سے چھڑکا نمک

باتوں باتوں میں بڑے ہی پیار سے چھڑکا نمک زخم دشمن کی عطا احباب کا تحفہ نمک موسم غم میں سدا ہوتا رہا پیدا نمک جزر و مد دل میں اٹھے اور آنکھ سے برسا نمک ضبط جب بھی ٹوٹنے کی حد تلک بڑھنے لگا حلق میں گولے کی صورت بارہا اٹکا نمک بھول بیٹھے ہیں نمک کا پاس رکھنا لوگ اب جس طرف بھی ...

مزید پڑھیے

چہرے پہ کسی کرب کی تنویر نہیں کی

چہرے پہ کسی کرب کی تنویر نہیں کی محسوس ہی کرتے رہے تفسیر نہیں کی قدموں کو حقیقت کی زمیں پر ہی دھرا ہے خوش فہمی کی جنت کبھی تعمیر نہیں کی واعظ کے کبھی نقش قدم پر نہ چلے ہم خود کر کے دکھایا کبھی تقریر نہیں کی معصوم چراغوں کو ہواؤں نے بجھایا کیوں بھڑکے ہوئے شعلوں پہ تعذیر نہیں ...

مزید پڑھیے

محبت میں زباں کو میں نواسنج فغاں کر لوں

محبت میں زباں کو میں نواسنج فغاں کر لوں شکستہ دل کی آہوں کو حریف ناتواں کر لوں نہ میں بدلا نہ وہ بدلے نہ دل کی آرزو بدلی میں کیوں کر اعتبار‌‌ انقلاب ناتواں کر لوں نہ کر محو تماشا اے تحیر اتنی مہلت دے میں ان سے داستان درد دل کو تو بیاں کر لوں سبب ہر ایک مجھ سے پوچھتا ہے میرے ...

مزید پڑھیے

حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیں

حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیں درد آفریں نظر درد آشنا نہیں ننگ عاشقی ہے وہ ننگ زندگی ہے وہ جس کے دل کا آئینہ تیرا آئینہ نہیں آہ اس کی بے کسی تو نہ جس کے ساتھ ہو ہائے اس کی بندگی جس کا تو خدا نہیں حیف وہ الم نصیب جس کا درد تو نہ ہو اف وہ درد زندگی جس کی تو دوا نہیں دوست یا عزیز ہیں ...

مزید پڑھیے

حشر میں پھر وہی نقشا نظر آتا ہے مجھے

حشر میں پھر وہی نقشا نظر آتا ہے مجھے آج بھی وعدۂ فردا نظر آتا ہے مجھے خلش عشق مٹے گی مرے دل سے جب تک دل ہی مٹ جائے گا ایسا نظر آتا ہے مجھے رونق چشم تماشا ہے مری بزم خیال اس میں وہ انجمن آرا نظر آتا ہے مجھے ان کا ملنا ہے نظر بندیٔ تدبیر اے دل صاف تقدیر کا دھوکا نظر آتا ہے مجھے تجھ ...

مزید پڑھیے

اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج

اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج حسن نظر نواز حریف نظر ہے آج ہر راز داں ہے حیرتیٔ جلوہ ہائے راز جو با خبر ہے آج وہی بے خبر ہے آج کیا دیکھیے کہ دیکھ ہی سکتے نہیں اسے اپنی نگاہ شوق حجاب نظر ہے آج دل بھی نہیں ہے محرم اسرار عشق دوست یہ راز داں بھی حلقۂ بیرون در ہے آج کل تک تھی دل میں ...

مزید پڑھیے

محبت میں زیاں کاری مراد دل نہ بن جائے

محبت میں زیاں کاری مراد دل نہ بن جائے یہ لا حاصل ہی عمر عشق کا حاصل نہ بن جائے مجھی پر پڑ رہی ہے ساری محفل میں نظر ان کی یہ دل داری حساب دوستاں در دل نہ بن جائے کروں گا عمر بھر طے راہ بے منزل محبت کی اگر وہ آستاں اس راہ کی منزل نہ بن جائے ترے انوار سے ہے نبض ہستی میں تڑپ پیدا کہیں ...

مزید پڑھیے

ایک منزل ہے ایک جادہ ہے

ایک منزل ہے ایک جادہ ہے زندگی میری کتنی سادہ ہے تو مجھے اپنا ایک پل دے گا یہ کرم مجھ پہ کچھ زیادہ ہے جو رکے ہیں سوار ہیں سارے چلنے والا تو پا پیادہ ہے صدق دل سے پکارنا مجھ کو لوٹ آؤں گا میرا وعدہ ہے پھر جو کرنے لگا ہے تو وعدہ کیا مکرنے کا پھر ارادہ ہے ظرف دنیا جو تنگ ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 460 سے 4657