شاعری

راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے

راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے اس نے پوچھا تو ہے اتنا ترا حال اچھا ہے ماہ اچھا ہے بہت ہی نہ یہ سال اچھا ہے پھر بھی ہر ایک سے کہتا ہوں کہ حال اچھا ہے ترے آنے سے کوئی ہوش رہے یا نہ رہے اب تلک تو ترے بیمار کا حال اچھا ہے یہ بھی ممکن ہے تری بات ہی بن جائے کوئی اسے دے دے کوئی اچھی ...

مزید پڑھیے

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا میں نہیں تو کوئی تجھ کو دوسرا مل جائے گا بھاگتا ہوں ہر طرف ایسے ہوا کے ساتھ ساتھ جس طرح سچ مچ مجھے اس کا پتا مل جائے گا کس طرح روکو گے اشکوں کو پس دیوار چشم یہ تو پانی ہے اسے تو راستہ مل جائے گا ایک دن تو ختم ہوگی لفظ و معنی کی تلاش ایک دن تو ...

مزید پڑھیے

درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے

درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے سب کے سب آنسو نہیں ہوتے بہانے کے لیے عمر تنہا کاٹ دی وعدہ نبھانے کے لیے عہد باندھا تھا کسی نے آزمانے کے لیے یہ قفس ہے گھر کی زیبائش بڑھانے کے لیے یہ پرندے تو نہیں ہیں آشیانے کے لیے کچھ دیے دیوار پر رکھنے ہیں وقت انتظار کچھ دیے لایا ہوں ...

مزید پڑھیے

کیوں مرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے

کیوں مرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے عین ممکن ہے اسے خود ہی خیال آ جائے ہجر کی شام بھی سینے سے لگا لیتا ہوں کیا خبر یوں ہی کبھی شام وصال آ جائے گھر اسی واسطے جنگل میں بدل ڈالا ہے شاید ایسے ہی ادھر میرا غزال آ جائے دھنک ابھرے سر افلاک کڑی دھوپ میں بھی دشت وحشت میں اگر تیرا خیال آ ...

مزید پڑھیے

تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر

تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر تڑپ اٹھا مرا منصف بھی فیصلہ دے کر میں اب مروں کہ جیوں مجھ کو یہ خوشی ہے بہت اسے سکوں تو ملا مجھ کو بد دعا دے کر میں اس کے واسطے سورج تلاش کرتا ہوں جو سو گیا مری آنکھوں کو رت جگا دے کر وہ رات رات کا مہماں تو عمر بھر کے لیے چلا گیا مجھے یادوں کا سلسلہ ...

مزید پڑھیے

جو دیا تو نے ہمیں وہ صورت زر رکھ لیا

جو دیا تو نے ہمیں وہ صورت زر رکھ لیا تو نے پتھر دے دیا تو ہم نے پتھر رکھ لیا سسکیوں نے چار سو دیکھا کوئی ڈھارس نہ تھی ایک تنہائی تھی اس کی گود میں سر رکھ لیا گھٹ گیا تہذیب کے گنبد میں ہر خواہش کا دم جنگلوں کا مور ہم نے گھر کے اندر رکھ لیا میرے بالوں پہ سجا دی گرم صحراؤں کی ...

مزید پڑھیے

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا مجھے گھر کاغذی پھولوں سے مہکانا نہیں آتا میں جو کچھ ہوں وہی کچھ ہوں جو ظاہر ہے وہ باطن ہے مجھے جھوٹے در و دیوار چمکانا نہیں آتا میں دریا ہوں مگر بہتا ہوں میں کہسار کی جانب مجھے دنیا کی پستی میں اتر جانا نہیں آتا زر و مال و جواہر لے بھی اور ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا

آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا مٹی میں موتیوں کو بکھرنے نہیں دیا جس راہ پر پڑے تھے ترے پاؤں کے نشاں اس راہ سے کسی کو گزرنے نہیں دیا چاہا تو چاہتوں کی حدوں سے گزر گئے نشہ محبتوں کا اترنے نہیں دیا ہر بار ہے نیا ترے ملنے کا ذائقہ ایسا ثمر کسی بھی شجر نے نہیں دیا یہ ہجر ہے تو ...

مزید پڑھیے

لوگوں کے درد اپنی پشیمانیاں ملیں

لوگوں کے درد اپنی پشیمانیاں ملیں ہم شاہ غم تھے ہم کو یہی رانیاں ملیں صحراؤں میں بھی جا کے نظر آئے سیل آب دریا سے دور بھی ہمیں طغیانیاں ملیں آیا نہ پھر وہ دور کہ جی بھر کے کھیلئے بچپن کے بعد پھر نہ وہ نادانیاں ملیں رہ کر الگ بھی ساتھ رہا ہے کوئی خیال تنہائی میں بھی خود پہ ...

مزید پڑھیے

غم کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا

غم کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا وہ مرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا گھورتا تھا میں خلا میں تو سجی تھیں محفلیں میرا آنکھوں کا جھپکنا مجھ کو تنہا کر گیا ہر طرف اڑنے لگا تاریک سایوں کا غبار شام کا جھونکا چمکتا شہر میلا کر گیا چاٹ لی کرنوں نے میرے جسم کی ساری مٹھاس میں سمندر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4507 سے 4657