شاعری

جس طرح چاہیے کب کار وفا ہوتا ہے

جس طرح چاہیے کب کار وفا ہوتا ہے حق محبت کا کہاں ہم سے ادا ہوتا ہے ہم بہت چاہتے ہیں امن و محبت ہر سو وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے مشکلوں میں بھی بزرگوں کا وظیفہ یہ تھا اچھے کاموں کا تو اچھا ہی صلا ہوتا ہے فطرتاً ساز میں آواز کہاں ہوتی ہے اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ...

مزید پڑھیے

رخت سفر یوں ہی تو نہ بے کار لے چلو

رخت سفر یوں ہی تو نہ بے کار لے چلو رستہ ہے دھوپ کا کوئی دیوار لے چلو طاقت نہیں زباں میں تو لکھ ہی لو دل کی بات کوئی تو ساتھ صورت اظہار لے چلو دیکھوں تو وہ بدل کے بھلا کیسا ہو گیا مجھ کو بھی اس کے سامنے اس بار لے چلو کب تک ندی کی تہہ میں اتاروگے کشتیاں اب کے تو ہاتھ میں کوئی پتوار لے ...

مزید پڑھیے

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے میں خاک سے ہوں مجھے خاک جذب کر لے گی اگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا سے ...

مزید پڑھیے

تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے

تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے تو بھی کچھ اور اور ہے ہم بھی کچھ اور اور ہیں جانے وہ تو کدھر گیا جانے وہ ہم کدھر گئے راہوں میں ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن ...

مزید پڑھیے

کس حوالے سے مجھے کس کا پتا یاد آیا

کس حوالے سے مجھے کس کا پتا یاد آیا حسن کافر کو جو دیکھا تو خدا یاد آیا ایک ٹوٹا ہوا پیمان وفا یاد آیا یاد آیا بھی مجھے آج تو کیا یاد آیا شام کے ہاتھ نے جس وقت لگا لی مہندی مجھے اس وقت ترا رنگ حنا یاد آیا کہیں آنکھوں کی نمی راز نہ افشا کر دے میں نے منہ پھیر لیا تو جو ذرا یاد ...

مزید پڑھیے

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہی جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا میں تری صورت لیے سارے زمانے میں ...

مزید پڑھیے

ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے

ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے تم بھی اک آدھ گھڑی کاش ہمارے ہوتے عکس پانی میں محبت کے اتارے ہوتے ہم جو بیٹھے ہوئے دریا کے کنارے ہوتے جو مہ و سال گزارے ہیں بچھڑ کر ہم نے وہ مہ و سال اگر ساتھ گزارے ہوتے کیا ابھی بیچ میں دیوار کوئی باقی ہے کون سا غم ہے بھلا تم کو ہمارے ہوتے آپ ...

مزید پڑھیے

جب بیاں کرو گے تم ہم بیاں میں نکلیں گے

جب بیاں کرو گے تم ہم بیاں میں نکلیں گے ہم ہی داستاں بن کر داستاں میں نکلیں گے عشق ہو محبت ہو پیار ہو کہ چاہت ہو ہم تو ہر سمندر کے درمیاں میں نکلیں گے رات کا اندھیرا ہی رات میں نہیں ہوتا چاند اور ستارے بھی آسماں میں نکلیں گے دیکھ تو کبھی شب کو کارواں ستاروں کا نور کے کئی محمل ...

مزید پڑھیے

اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیا

اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیا ایسے لگا کہ ایک زمانہ گزر گیا سب کے لیے بلند رہے ہاتھ عمر بھر اپنے لیے دعاؤں کا لمحہ گزر گیا کوئی ہجوم دہر میں کرتا رہا تلاش کوئی رہ حیات سے تنہا گزر گیا ملنا تو خیر اس کو نصیبوں کی بات ہے دیکھے ہوئے بھی اس کو زمانہ گزر گیا دل یوں کٹا ہوا ہے کسی ...

مزید پڑھیے

غم ہے وہیں پہ غم کا سہارا گزر گیا

غم ہے وہیں پہ غم کا سہارا گزر گیا دریا ٹھہر گیا ہے کنارہ گزر گیا بس یہ سفر حیات کا اتنی سی زندگی کیوں اتنی جلدی راستہ سارا گزر گیا وہ جس کی روشنی سے چمکنا تھا بخت کو کس آسمان سے وہ ستارہ گزر گیا کیا ذکر اس گھڑی کا کڑی تھی کہ سہل تھی جو وقت جس طرح بھی گزارا گزر گیا تفہیم دوستی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4506 سے 4657