شاعری

شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں

شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں تتلی ملی حنوط پرانی کتاب میں دیکھوں گا کس طرح سے کسی کو عذاب میں سب کے گناہ ڈال دے میرے حساب میں پھر بے وفا کو بحر محبت سمجھ لیا پھر دل کی ناؤ ڈوب گئی ہے سراب میں پہلے گلاب اس میں دکھائی دیا مجھے اب وہ مجھے دکھائی دیا ہے گلاب میں وہ رنگ آتشیں ...

مزید پڑھیے

آغوش ستم میں ہی چھپا لے کوئی آ کر

آغوش ستم میں ہی چھپا لے کوئی آ کر تنہا تو تڑپنے سے بچا لے کوئی آ کر صحرا میں اگا ہوں کہ مری چھاؤں کوئی پائے ہلتا ہوں کہ پتوں کی ہوا لے کوئی آ کر بکتا تو نہیں ہوں نہ مرے دام بہت ہیں رستے میں پڑا ہوں کہ اٹھا لے کوئی آ کر کشتی ہوں مجھے کوئی کنارے سے تو کھولے طوفاں کے ہی کر جائے حوالے ...

مزید پڑھیے

تعلق اپنی جگہ تجھ سے برقرار بھی ہے

تعلق اپنی جگہ تجھ سے برقرار بھی ہے مگر یہ کیا کہ ترے قرب سے فرار بھی ہے کرید اور زمیں موسموں کے متلاشی! یہیں کہیں مری کھوئی ہوئی بہار بھی ہے یہی نہ ہو تری منزل ذرا ٹھہر اے دل وہی مکاں ہے دیوں کی وہی قطار بھی ہے یوں ہی تو روح نہیں توڑتی حصار بدن ضرور اپنا کوئی بادلوں کے پار بھی ...

مزید پڑھیے

بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی

بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی جیسے کوئی چیز چلتے وقت گھر میں رہ گئی کون یہ چلتا ہے میرے ساتھ بے جسم و صدا چاپ یہ کس کی مری ہر رہ گزر میں رہ گئی گونجتے رہتے ہیں تنہائی میں بھی دیوار و در کیا صدا اس نے مجھے دی تھی کہ گھر میں رہ گئی اور تو موسم گزر کر جا چکا وادی کے پار بس ذرا ...

مزید پڑھیے

سر صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے

سر صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے تمہارا ظرف ہے تم کو محبت بھول جاتی ہے ہمیں تو جس نے ہنس کر بھی پکارا یاد رہتا ہے محبت میں جو ڈوبا ہو اسے ساحل سے کیا لینا کسے اس بحر میں جا کر کنارہ یاد رہتا ہے بہت لہروں کو پکڑا ڈوبنے والے کے ہاتھوں ...

مزید پڑھیے

ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر

ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر کیسا ہے وہ اتنا تو بتا دے کوئی آ کر یہ بھی تو کسی ماں کا دلارا کوئی ہوگا اس قبر پہ بھی پھول چڑھا دے کوئی آ کر سوکھی ہیں بڑی دیر سے پلکوں کی زبانیں بس آج تو جی بھر کے رلا دے کوئی آ کر برسوں کی دعا پھر نہ کہیں خاک میں مل جائے یہ ابر بھی آندھی ...

مزید پڑھیے

شور سا ایک ہر اک سمت بپا لگتا ہے

شور سا ایک ہر اک سمت بپا لگتا ہے وہ خموشی ہے کہ لمحہ بھی صدا لگتا ہے کتنا ساکت نظر آتا ہے ہواؤں کا بدن شاخ پر پھول بھی پتھرایا ہوا لگتا ہے چیخ اٹھتی ہوئی ہر گھر سے نظر آتی ہے ہر مکاں شہر کا آسیب زدہ لگتا ہے آنکھ ہر راہ سے چپکی ہی چلی جاتی ہے دل کو ہر موڑ پہ کچھ کھویا ہوا لگتا ...

مزید پڑھیے

اسی ایک فرد کے واسطے مرے دل میں درد ہے کس لئے

اسی ایک فرد کے واسطے مرے دل میں درد ہے کس لئے مری زندگی کا مطالبہ وہی ایک فرد ہے کس لئے تو جو شہر میں ہی مقیم ہے تو مسافرت کی فضا ہے کیوں ترا کارواں جو نہیں گیا تو ہوا میں گرد ہے کس لئے نہ جمال و حسن کی بزم ہے نہ جنون و عشق کا عزم ہے سر دشت رقص میں ہر گھڑی کوئی بادگرد ہے کس لئے ترے حسن ...

مزید پڑھیے

گیا تو حسن نہ دیوار میں نہ در میں تھا

گیا تو حسن نہ دیوار میں نہ در میں تھا وہ ایک شخص جو مہمان میرے گھر میں تھا نجات دھوپ سے ملتی تو کس طرح ملتی مرا سفر تو میاں دشت بے شجر میں تھا غم زمانہ کی ناگن نے ڈس لیا سب کو وہی بچا جو تری زلف کے اثر میں تھا کھلی جو آنکھ تو افسون خواب ٹوٹ گیا ابھی ابھی کوئی چہرہ مری نظر میں ...

مزید پڑھیے

قفس سے چھٹنے پہ شاد تھے ہم کہ لذت زندگی ملے گی

قفس سے چھٹنے پہ شاد تھے ہم کہ لذت زندگی ملے گی یہ کیا خبر تھی بہار گلشن لہو میں ڈوبی ہوئی ملے گی جن اہل ہمت کے راستوں میں بچھائے جاتے ہیں آج کانٹے انہی کے خون جگر سے رنگیں چمن کی ہر اک کلی ملے گی وہ دن بھی تھے جب اندھیری راتوں میں بھی قدم راہ راست پر تھے اور آج جب روشنی ملی ہے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4508 سے 4657