شاعری

تلاش قبر میں یوں گھر سے ہم نکل کے چلے (ردیف .. ل)

تلاش قبر میں یوں گھر سے ہم نکل کے چلے کفن بغل میں لیا منہ پہ خاک مل کے چلے ہوا کھلانی تھی دنیا کی میری میت کو اٹھانے والے جو کاندھا بدل بدل کے چلے جگہ نہ دی ہمیں اس شمع رو نے پہلو میں ہوس بجھانے کو آئے تھے اور جل کے چلے اٹھا کے بزم سے ہم لے چلے جو خلوت میں قدم قدم پہ وہ روٹھے مچل ...

مزید پڑھیے

پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباں

پایا ترے کشتوں نے جو میدان بیاباں شان چمن خلد ہوئی شان بیاباں دیوانہ ترا مر کے ہوا زندۂ جاوید روح اس کی جو نکلی تو ہوئی جان بیاباں مجھ سا بھی جہاں میں کوئی سودائی نہ ہوگا سمجھا لحد قیس کو ایوان بیاباں ویرانہ نشینی ہے ازل سے مری جاگیر قسمت نے دیا ہے مجھے فرمان بیاباں وحشت پہ ...

مزید پڑھیے

خدا معلوم کس کی چاند سے تصویر مٹی کی

خدا معلوم کس کی چاند سے تصویر مٹی کی جو گورستاں میں حسرت ہے گریباں گیر مٹی کی نوازی سرفرازی روح نے تصویر مٹی کی خوشا تالع خوشا قسمت خوشا تقدیر مٹی کی حقیقت میں عجائب شعبدہ پرداز دنیا ہے کہ جو انسان کی صورت تھا وہ ہے تصویر مٹی کی جسے رویا میں دیکھا تھا ملایا خاک میں اس نے مقدر ...

مزید پڑھیے

ترے واسطے جان پہ کھلیں گے ہم یہ سمائی ہے دل میں خدا کی قسم

ترے واسطے جان پہ کھلیں گے ہم یہ سمائی ہے دل میں خدا کی قسم رہ عشق سے اب نہ ہٹیں گے قدم ہمیں اپنے ہی صدق و صفا کی قسم مرے پرزے اگرچہ اڑائیے گا تو گل زخم سے مہکے گی عشق کی بو کھنچے تیغ تری تو رگڑ دوں گلو مجھے تیرے ہی جور و جفا کی قسم مرا نام جو یار ہے پوچھ رہا میں بتا دوں تجھے جو لقب ...

مزید پڑھیے

ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں

ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں دل بے تاب کو رہتا ہے نامنظور پہلو میں عجب دل کو لگی ہے لو عجب ہے نور پہلو میں کیا ہے عشق نے روشن چراغ طور پہلو میں کہا جو میں نے میرے دل کی اک تصویر کھنچوا دو منگا کر رکھ دیا اک شیشہ چکناچور پہلو میں خوشی ہو ہو کے الفت میں جو بار غم اٹھاتا ...

مزید پڑھیے

الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیں

الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیں تأمل اس میں اگر واں نہیں تو یاں بھی نہیں کچھ ان گھر سے نہیں کم ہمارا خانۂ دل جو آدمی کا گزر واں نہیں تو یاں بھی نہیں وہ جان لیتے ہیں ہم ان پہ جان دیتے ہیں نصیحتوں کا اثر واں نہیں تو یاں بھی نہیں مرے مٹیں گے ہم اے دل یہی جو چشمک ہے صفائی مد ...

مزید پڑھیے

بلبل کا دل خزاں کے صدمے سے ہل رہا ہے

بلبل کا دل خزاں کے صدمے سے ہل رہا ہے گل زار کا مرقع مٹی میں مل رہا ہے عالم میں جس نے جس نے دیکھا ہے عالم ان کا کوئی تو ہم سے کہہ دے قابو میں دل رہا ہے رخصت بہار کی ہے کہرام ہے چمن میں غنچے سے غنچہ بلبل بلبل سے مل رہا ہے ہرگز شباب پر تم نازاں شرفؔ نہ ہونا ملنے کو خاک میں ہے جو پھول ...

مزید پڑھیے

رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں

رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں آنکھیں ہیں تر تو ہوں مرا دامن تو تر نہیں امید وصل سے بھی تو صدمہ نہ کم ہوا کیا درد جائے گا جو دوا کا اثر نہیں دن کو بھی داغ دل کی نہ کم ہوگی روشنی یہ لو ہی اور ہے یہ چراغ سحر نہیں تنہا چلیں ہیں معرکۂ عشق جھیلنے ان کی طرف خدائی ہے کوئی ادھر ...

مزید پڑھیے

چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاں

چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاں آشیاں جانوں جو ہوویں خار و خس کی پتلیاں ہو گئیں بے رنگ جب اگلے برس کی پتلیاں خون رو کر ہم نے کیں رنگیں قفس کی پتلیاں ہے یہ فولادی قفس مجھ ناتواں کا کیا کروں کس طرح توڑوں نہیں ہیں میرے بس کی پتلیاں کیا خدا کی شان ہے آتی ہے جب فصل بہار سب ہری ...

مزید پڑھیے

رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں

رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں بسے رہتے ہیں جیسے پھول اپنی اپنی نکہت میں کھچا حسن وفا ہو کر جو یہ تصویر وحدت میں خدا کا نور شامل ہو گیا انساں کی صورت میں نہیں ہے لذت دنیا و ما فیہا جو قسمت میں خدا معلوم حصہ ہے مرا کس خوان نعمت میں صفائی رخ بڑھی ایسی ہوا آئینہ حیرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4465 سے 4657