کہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھی
کہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھی نہ کسی کا دامن چاک تھا نہ کسی کی طرف کلاہ تھی کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی دل کم الم پہ وہ کیفیت کہ ٹھہر سکے نہ گزر سکے نہ حضر ہی راحت روح تھا نہ سفر میں رامش راہ تھی مرے ...