شاعری

کہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھی

کہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھی نہ کسی کا دامن چاک تھا نہ کسی کی طرف کلاہ تھی کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی دل کم الم پہ وہ کیفیت کہ ٹھہر سکے نہ گزر سکے نہ حضر ہی راحت روح تھا نہ سفر میں رامش راہ تھی مرے ...

مزید پڑھیے

لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میں

لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میں سبب یہ ہے کہ اک مدت کنارے پر رہا ہوں میں یہ جھونکے جن سے دل میں تازگی آنکھوں میں ٹھنڈک ہے انہی جھونکوں سے مرجھایا ہوا شب بھر رہا ہوں میں ترے آنے کا دن ہے تیرے رستے میں بچھانے کو چمکتی دھوپ میں سائے اکٹھے کر رہا ہوں میں کوئی کمرہ ہے جس کے ...

مزید پڑھیے

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو یہ نیا کھیل ملا ہے مری تنہائی کو تھا جو سینے میں چراغ دل پر خوں نہ رہا چاٹیے بیٹھ کے اب صبر و شکیبائی کو دل افسردہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں کیا کریں آپ کی اس حوصلہ افزائی کو خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی ...

مزید پڑھیے

زندگی سے ایک دن موسم خفا ہو جائیں گے

زندگی سے ایک دن موسم خفا ہو جائیں گے رنگ گل اور بوئے گل دونوں ہوا ہو جائیں گے آنکھ سے آنسو نکل جائیں گے اور ٹہنی سے پھول وقت بدلے گا تو سب قیدی رہا ہو جائیں گے پھول سے خوشبو بچھڑ جائے گی سورج سے کرن سال سے دن وقت سے لمحے جدا ہو جائیں گے کتنے پر امید کتنے خوبصورت ہیں یہ لوگ کیا یہ ...

مزید پڑھیے

ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہے

ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہے شاید کسی کی چہرہ نمائی کا وقت ہے کہتی ہے ساحلوں سے یہ جاتے سمے کی دھوپ ہشیار ندیوں کی چڑھائی کا وقت ہے ہوتی ہے شام آنکھ سے آنسو رواں ہوئے یہ وقت قیدیوں کی رہائی کا وقت ہے کوئی بھی وقت ہو کبھی ہوتا نہیں جدا کتنا عزیز اس کی جدائی کا وقت ہے دل نے ...

مزید پڑھیے

چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے

چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے مجھ سے اچھے تو شب غم کے مقدر نکلے شام ہوتے ہی برسنے لگے کالے بادل صبح دم لوگ دریچوں میں کھلے سر نکلے کل ہی جن کو تری پلکوں پہ کہیں دیکھا تھا رات اسی طرح کے تارے مری چھت پر نکلے دھوپ ساون کی بہت تیز ہے دل ڈوبتا ہے اس سے کہہ دو کہ ابھی گھر سے نہ ...

مزید پڑھیے

روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا

روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا اب جہاں دیوار ہے پہلے وہاں دروازہ تھا درد کی اک موج ہر خواہش بہا کر لے گئی کیا ٹھہرتیں بستیاں پانی ہی بے اندازہ تھا رات ساری خواب کی گلیوں میں ہم چلتے رہے کھڑکیاں روشن تھیں لیکن بند ہر دروازہ تھا

مزید پڑھیے

اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں

اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں کون رہتا تھا کہاں یاد نہیں جلوۂ حسن ازل تھے وہ دیار جن کے اب نام و نشاں یاد نہیں کوئی اجلا سا بھلا سا گھر تھا کس کو دیکھا تھا وہاں یاد نہیں یاد ہے زینۂ پیچاں اس کا در و دیوار مکاں یاد نہیں یاد ہے زمزمۂ ساز بہار شور آواز خزاں یاد نہیں

مزید پڑھیے

نالۂ خونیں سے روشن درد کی راتیں کرو

نالۂ خونیں سے روشن درد کی راتیں کرو میں نہیں کہتا دعا مانگو مناجاتیں کرو دل کے گچھے میں ہیں سارے موسموں کی چابیاں دھوپ کھولو چاندنی چھٹکاؤ برساتیں کرو جو نہیں سنتے ہیں ان کو بھی سناؤ اپنی بات جو نہیں ملتے ہیں ان سے بھی ملاقاتیں کرو موت خاموشی ہے چپ رہنے سے چپ لگ جائے ...

مزید پڑھیے

اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا

اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا پھر قدم ہم نے تری راہ گزر پر رکھا ہم نے اک ہاتھ سے تھاما شب غم کا آنچل اور اک ہاتھ کو دامان سحر پر رکھا چلتے چلتے جو تھکے پاؤں تو ہم بیٹھ گئے نیند گٹھری پہ دھری خواب شجر پر رکھا جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپ مدتوں دھیان ترے سایۂ در پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4431 سے 4657