شاعری

بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میں

بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میں اب جہاں کوئی نہیں وہاں رہتا ہوں میں دن ڈھلے کرتا ہوں بوڑھی ہڈیوں سے ساز باز جب تلک شب ڈھل نہیں جاتی جواں رہتا ہوں میں کیا خبر ان کو بھی آتا ہو کبھی میرا خیال کن ملالوں میں ہوں کیسا ہوں کہاں رہتا ہوں میں جگمگاتے جاگتے شہروں میں رہتا ہوں ...

مزید پڑھیے

ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہم

ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہم ہنستے رہیں گے شور مچاتے رہیں گے ہم لب سوکھ کیوں نہ جائیں گلا بیٹھ کیوں نہ جائے دل میں ہیں جو سوال اٹھاتے رہیں گے ہم اپنی رہ سلوک میں چپ رہنا منع ہے چپ رہ گئے تو جان سے جاتے رہیں گے ہم نکلے تو اس طرح کہ دکھائی نہیں دیے ڈوبے تو دیر تک نظر آتے ...

مزید پڑھیے

دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہے

دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہے اب تپ ہجر توقع سے بھی کم رہتا ہے کبھی شعلے سے لپکتے تھے مرے سینے میں اب کسی وقت دھواں سا کوئی دم رہتا ہے کیا خدا جانے مرے دل کو ہوا تیرے بعد نہ خوشی اس میں ٹھہرتی ہے نہ غم رہتا ہے رشتۂ تار تمنا نہیں ٹوٹا اب تک اب بھی آنکھوں میں تری زلف کا ...

مزید پڑھیے

مجھے اس نے تری خبر دی ہے

مجھے اس نے تری خبر دی ہے جس نے ہر شام کو سحر دی ہے گم رہا ہوں ترے خیالوں میں تجھ کو آواز عمر بھر دی ہے دن تھا اور گرد رہ گزار نصیب رات ہے اور ستارہ گردی ہے سرد و گرم زمانہ دیکھ لیا نہ وہ گرمی ہے اب نہ سردی ہے

مزید پڑھیے

دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے

دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے یہ شہر تو مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے جہاں کہ داغ ہے یاں آگے درد رہتا تھا مگر یہ داغ بھی جاتا دکھائی دیتا ہے پکارتی ہیں بھرے شہر کی گزر گاہیں وہ روز شام کو تنہا دکھائی دیتا ہے یہ لوگ ٹوٹی ہوئی کشتیوں میں سوتے ہیں مرے مکان سے دریا دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

میں اپنی ذات میں جب سے ستارا ہونے لگا

میں اپنی ذات میں جب سے ستارا ہونے لگا پھر اک چراغ سے میرا گزارا ہونے لگا مری چمک کے نظارے کو چاہیے کچھ اور میں آئنے پہ کہاں آشکارا ہونے لگا یہ کیسی برف سے اس نے بھگو دیا ہے مجھے پہاڑ جیسا مرا جسم گارا ہونے لگا زمیں سے میں نے ابھی ایڑیاں اٹھائی تھیں کہ آسمان کا مجھ کو نظارہ ہونے ...

مزید پڑھیے

ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا

ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا ایک ہی عشق دوبارہ تو نہیں ہو سکتا چند لوگوں کی محبت بھی غنیمت ہے میاں شہر کا شہر ہمارا تو نہیں ہو سکتا کب تلک قید رکھوں آنکھ میں بینائی کو صرف خوابوں سے گزارا تو نہیں ہو سکتا رات کو جھیل کے بیٹھا ہوں تو دن نکلا ہے اب میں سورج سے ستارہ تو نہیں ...

مزید پڑھیے

نیند آئی نہ کھلا رات کا بستر مجھ سے

نیند آئی نہ کھلا رات کا بستر مجھ سے گفتگو کرتا رہا چاند برابر مجھ سے اپنا سایہ اسے خیرات میں دے آیا ہوں دھوپ کے ڈر سے جو لپٹا رہا دن بھر مجھ سے کون سی ایسی کمی میرے خد و خال میں ہے آئنہ خوش نہیں ہوتا کبھی مل کر مجھ سے کیا مصیبت ہے کہ ہر دن کی مشقت کے عوض باندھ جاتا ہے کوئی رات کا ...

مزید پڑھیے

میں خود کو اس لیے منظر پہ لانے والا نہیں

میں خود کو اس لیے منظر پہ لانے والا نہیں کہ آئنہ مری صورت دکھانے والا نہیں ترے فلک کا اگر چاند بجھ گیا ہے تو کیا دیا زمیں پہ بھی کوئی جلانے والا نہیں سمندروں کی طرف جا رہا ہوں جلتا ہوا کہ میری آگ کو بادل بجھانے والا نہیں یہ کون نیند میں آکر سرہانے بیٹھ گیا میں اپنا خواب کسی کو ...

مزید پڑھیے

سب کو بتا رہا ہوں یہی صاف صاف میں

سب کو بتا رہا ہوں یہی صاف صاف میں جلتے دیے سے کیسے کروں انحراف میں میں نے تو آسمان کے رنگوں کی بات کی کہنے لگی زمین بدل دوں غلاف میں گمراہ کب کیا ہے کسی راہ نے مجھے چلنے لگا ہوں آپ ہی اپنے خلاف میں ملتا نہیں ہے پھر بھی سرا آسمان کا کر کر کے تھک چکا ہوں زمیں کا طواف میں اب تو بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4432 سے 4657