شاعری

کسی کو چھوڑ دیتا ہوں کسی کے ساتھ چلتا ہوں

کسی کو چھوڑ دیتا ہوں کسی کے ساتھ چلتا ہوں میں چلتا ہوں تو پھر وابستگی کے ساتھ چلتا ہوں ستارے بانٹنے والے کسی پل لوٹ آئیں گے چلو کچھ دیر یوں ہی تیرگی کے ساتھ چلتا ہوں مجھے یہ کیا پڑی ہے کون میرا ہم سفر ہوگا ہوا کے ساتھ گاتا ہوں ندی کے ساتھ چلتا ہوں وہ کہتے ہیں زمانہ تیز ہے لمبی ...

مزید پڑھیے

وہی غم ہے وہی ایذا رسانی

وہی غم ہے وہی ایذا رسانی اگرچہ اب نہیں آنکھوں میں پانی جو بازاری ہیں حاکم بن گئے ہیں وہ ہیں محکوم جو ہیں خاندانی کبھی ایسا کرو کچھ کر دکھاؤ کہاں تک اور کب تک لن ترانی دکھائے گا میاں آنکھیں زمانہ اگر قائم رہے گی بے زبانی سہارا دو جہاں میں بیکسوں کو پرانی ہو گئی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ

سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ جو اس نے آئنہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹ نظر لڑی جو نظر سے تو دل پر آئی چوٹ گرے کلیم سر طور ایسی کھائی چوٹ لبوں پہ بن گئی مسی جو دل پر آئی چوٹ جگہ بدل کے لگی کرنے خود نمائی چوٹ بڑے دماغ سے مارا نظر سے جب مارا بڑے غرور سے آئی جو دل پر آئی چوٹ کسی کا ...

مزید پڑھیے

جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف

جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف گردش میں چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرف عارض پہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف ہیں آج دو سورج گہن ایک اس طرف ایک اس طرف مطلب اشاروں سے کہا میں ان اشاروں کے فدا آنکھیں بھی ہیں گرم سخن ایک اس طرف ایک اس طرف جس دم سکندر مر گیا حال تہی دستی ...

مزید پڑھیے

چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا

چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا چلمن تو بیچ میں ہے اشارے ہوئے تو کیا بوسہ دہی کا لطف ملا حسن بڑھ گیا رخسار لال لال تمہارے ہوئے تو کیا بے پردہ منہ دکھا کے مرے ہوش اڑاؤ تم پردے کی آڑ سے جو نظارے ہوئے تو کیا مجھ کو کڑھا کڑھا کے وہ ماریں گے جان سے دلبر ہوئے تو کیا مرے پیارے ہوئے ...

مزید پڑھیے

کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب

کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب اعمال نامہ کا تو ہے پیشانی پر جواب رک رک کے ہنس کے یوں ہی تو دے فتنہ گر جواب دیتا ہے اور لطف مجھے تیرا ہر جواب کس سے مثال دوں تری زلف دراز کو عمر‌ طویل خضر ہے اک مختصر جواب مشکل کے وقت دل ہی سے کچھ مشورہ کریں کیوں دیں کسی کو غیر سے ہم پوچھ کر ...

مزید پڑھیے

وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ

وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ ہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذ وہ ہم نہیں جو ہوں دیوانے ایسے کاموں سے کسے پلاتے ہو پانی میں گھول کر تعویذ اٹھے گا پھر نہ کلیجے میں میٹھا میٹھا درد اگر لکھے مرے دل پر تری نظر تعویذ کہاں وہ لوگ کہ جن کے عمل کا شہرا تھا کچھ اس زمانے میں ...

مزید پڑھیے

قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہو

قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہو کعبۂ جان و دل تمہیں تو ہو لا مکاں دور دل بہت نزدیک منفصل متصل تمہیں تو ہو میرے پہلو میں دل نہ کیوں ہو خوش دل کے پہلو میں دل تمہیں تو ہو تم سے مل کر خجل ہمیں تو ہیں ہم سے چھٹ کر خجل تمہیں تو ہو دل کی سختی کا ہے گلہ تم سے جس نے رکھی یہ سل تمہیں تو ہو جیتے جی ...

مزید پڑھیے

آفتاب آئے چمک کر جو سر جام شراب

آفتاب آئے چمک کر جو سر جام شراب رند سمجھیں کہ ہے صادق سحر‌ جام شراب سب کے ہاتھوں پہ تھا شب بھر سفر جام شراب ہر خط دست بنا رہ گزر جام شراب دختر رز پہ گریں مست پتنگوں کی طرح شمع محفل ہو یہ لخت جگر جام شراب تھام لے دست سبو آئے جو چلنے میں لچک خط بغداد ہو موئے کمر جام شراب طور سینا ...

مزید پڑھیے

کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشق

کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشق کہ لا مکاں ہی کی چوکھٹ ہے آستانۂ عشق نگاہیں ڈھونڈھ رہی ہیں دل یگانۂ عشق اشارے پوچھ رہے ہیں کہاں ہے خانۂ عشق پھریں گے حشر میں گرد دل یگانۂ عشق کریں گے پیش خدا ہم طواف خانۂ عشق نئی صدا ہو نئے ہونٹھ ہوں نیا لہجہ نئی زباں سے کہوں گر کہوں فسانۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4396 سے 4657