شاعری

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں وصل کا لطف مجھے وصل سے پہلے ہی ملا جب کہا یار نے گھبرا کے یہ کیا کرتے ہیں اس قدر تھا مجھے الفت میں بھروسا ان پر کی جفا بھی تو یہ سمجھا کہ وفا کرتے ہیں ہے یہی عرض خدا سے کہ فلاں بت مل جائے وہی اچھے جو نمازوں ...

مزید پڑھیے

محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نماز

محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نماز پڑھ لونگا پل صراط پہ مائلؔ قضا نماز سر جائے عمر بھر کی ہو یا رب ادا نماز آئے مری قضا تو پڑھوں میں قضا نماز مانگی نجات ہجر سے تو موت آ گئی روزے گلے پڑے جو چھڑانے گیا نماز دیکھو کہ پھنس نہ جائیں فرشتے بھی جال میں کیوں پڑھ رہے ہو کھول کے زلف رسا ...

مزید پڑھیے

وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں

وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں زمیں پہ بھی اضطراب میں ہوں فلک پہ بھی اضطراب میں ہوں نہ میں ہوا میں نہ خاک میں ہوں نہ آگ میں ہوں نہ آب میں ہوں شمار میرا نہیں کسی میں اگرچہ میں بھی حساب میں ہوں اگرچہ پانی کی موج بن کر ہمیشہ میں پیچ و تاب میں ہوں وہی ہوں قطرہ ...

مزید پڑھیے

میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث

میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث آج سے تیری جستجو ہے عبث سادگی میں ہے لاکھ لاکھ بناؤ آئنہ تیرے روبرو ہے عبث مجھ کو دونوں سے کچھ مزا نہ ملا دل عبث دل کی آرزو ہے عبث باد آب آگ خاک گرد روح زشت‌ رویوں میں خوبرو ہے عبث طور‌ و موسیٰ ہیں ذرہ ذرہ میں کب ترا جلوہ چار سو ہے عبث لپٹے ہیں ...

مزید پڑھیے

کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض

کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض حجاب کیوں ہے کہ خود تجلی بنی ہوئی ہے حجاب عارض نہ رک سکے گی ضیائے عارض جو سد رہ ہو نقاب عارض وہ ہوگی بے پردہ رکھ کے پردا غضب کی چنچل ہے تاب عارض چھپا نہ منہ دونوں ہاتھ سے یوں تڑپتی ہے برق تاب عارض لگا نہ دے آگ انگلیوں میں یہ گرمیٔ ...

مزید پڑھیے

تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا

تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا کتنا چرچا تھا تری انجمن آرائی کا داغ دل نقش ہے اک لالۂ صحرائی کا یہ اثاثہ ہے مری بادیہ پیمائی کا جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا وہ ترے جسم کی قوسیں ہوں کہ محراب حرم ہر حقیقت میں ملا خم تری انگڑائی کا افق ...

مزید پڑھیے

دعویٰ تو کیا حسن جہاں سوز کا سب نے

دعویٰ تو کیا حسن جہاں سوز کا سب نے دنیا کا مگر روپ بڑھایا تری چھب نے تو نیند میں بھی میری طرف دیکھ رہا تھا سونے نہ دیا مجھ کو سیہ چشمئ شب نے ہر زخم پہ دیکھی ہیں ترے پیار کی مہریں یہ گل بھی کھلائے ہیں تیری سرخی لب نے خوشبوئے بدن آئی ہے پھر موج صبا سے پھر کس کو پکارا ہے ترے شہر طرب ...

مزید پڑھیے

اعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کا

اعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کا الزام نہ دھر عشق پہ شوریدہ سری کا اس وقت مرے کلبۂ غم میں ترا آنا بھٹکا ہوا جھونکا ہے نسیم سحری کا تجھ سے ترے کوچے کا پتہ پوچھ رہا ہوں اس وقت یہ عالم ہے مری بے خبری کا یہ فرش ترے رقص سے جو گونج رہا ہے ہے عرش معلی مری عالی نظری کا کہرے میں تڑپتے ...

مزید پڑھیے

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے آب آدمی ہے قیامت سے لو لگائے ہوئے یہ دشت سے امڈ آیا ہے کس کا سیل جنوں کہ حسن شہر کھڑا ہے نقاب اٹھائے ہوئے یہ بھید تیرے سوا اے خدا کسے معلوم عذاب ٹوٹ پڑے مجھ پہ کس کے لائے ہوئے یہ سیل آب نہ تھا زلزلہ تھا پانی کا بکھر بکھر گئے قریے مرے بسائے ...

مزید پڑھیے

جب بھی آنکھوں میں تری رخصت کا منظر آ گیا

جب بھی آنکھوں میں تری رخصت کا منظر آ گیا آفتاب وقت نیزے کے برابر آ گیا دوستی کی جب دہائی دی تو شرق و غرب سے ہاتھ میں پتھر لیے یاروں کا لشکر آ گیا اس سفر میں گو تمازت تو بہت تھی ہجر کی میں تری یادوں کی چھاؤں سر پہ لے کر آ گیا گو زمین و آسماں مصروف گردش ہیں مگر جب بھی گردش کا سبب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4397 سے 4657