شاعری

ہم راز رقیب ہو گئے ہو

ہم راز رقیب ہو گئے ہو اب میرے قریب ہو گئے ہو تم اپنا مکان بھی اجالو تاروں کے منیب ہو گئے ہو بیمار امید کو دعا دو مجبور طبیب ہو گئے ہو تابوت میں روح پھونکنے کو تم اذن صلیب ہو گئے ہو ہر پردہ کے بعد ایک پردہ حد درجہ عجیب ہو گئے ہو سونے کی انگشتری میں احمدؔ انگشت غریب ہو گئے ہو

مزید پڑھیے

شاخ ارماں کی وہی بے صبری آج بھی ہے

شاخ ارماں کی وہی بے صبری آج بھی ہے موجب گریۂ شام و سحری آج بھی ہے وہی آئینہ بکف دیدہ وری آج بھی ہے ان میں پہلے کی طرح خود نگری آج بھی ہے سنگ باروں کے لیے درد سری آج بھی ہے کل گراں تھی جو مری شیشہ‌ گری آج بھی ہے آج بھی مورد الزام ہے معصوم نگاہ جرم الزام سے کل بھی تھا بری آج بھی ...

مزید پڑھیے

اس پار تو خیر آسماں ہے

اس پار تو خیر آسماں ہے اس پار اگر دھواں دھواں ہے اندھا ہے غریب خوش گماں ہے اور سامنے کھائی ہے کنواں ہے دیوار کہن کے زیر سایہ بالو کے محل کی داستاں ہے جلتی ہوئی ریت کا سہارا جلتی ہوئی ریت بھی کہاں ہے پتھر کی لکیر کے علاوہ مٹی کا دیا بھی درمیاں ہے ہر شہر کے زیر پردہ جنگل احمدؔ ...

مزید پڑھیے

بازار کی فصیل بھی رخسار پر ملے

بازار کی فصیل بھی رخسار پر ملے دود چراغ جو کسی شوراب سے جلے ماتھے کی بندی ہاتھ کی راکھی دعا کے بول بیمار کے قریب مسیحائی میں ڈھلے کاغذ کی ناؤ ٹوٹا دیا تاش کا محل اپنے ہیں ہم جلیس یہی چند منچلے اتنا تو اہتمام رہے آرتی کے ساتھ گیہوں کی فصل کے لیے شوراب بھی ڈھلے احمدؔ اب آفتاب کے ...

مزید پڑھیے

خاک دیکھی ہے شفق زار فلک دیکھا ہے

خاک دیکھی ہے شفق زار فلک دیکھا ہے ظرف بھر تیری تمنا میں بھٹک دیکھا ہے ایسا لگتا ہے کوئی دیکھ رہا ہے مجھ کو لاکھ اس وہم کو سوچوں سے جھٹک دیکھا ہے قدرت ضبط بھی لوگوں کو دکھائی ہم نے صورت اشک بھی آنکھوں سے چھلک دیکھا ہے جانے تم کون سے منظر میں چھپے بیٹھے ہو میری آنکھوں نے بہت دور ...

مزید پڑھیے

آنکھیں بناتا دشت کی وسعت کو دیکھتا

آنکھیں بناتا دشت کی وسعت کو دیکھتا حیرت بنانے والے کی حیرت کو دیکھتا ہوتا نہ کوئی کار زمانہ مرے سپرد بس اپنے کاروبار محبت کو دیکھتا کر کے نگر نگر کا سفر اس زمین پر لوگوں کی بود و باش و روایت کو دیکھتا آتا اگر خیال شجر چھاؤں میں نہیں گھر سے نکل کے دھوپ کی حدت کو دیکھتا یوں لگ ...

مزید پڑھیے

میں خاک ہو رہا ہوں یہاں خاکدان میں

میں خاک ہو رہا ہوں یہاں خاکدان میں وہ رنگ بھر رہا ہے ادھر آسمان میں یہ کون بولتا ہے مرے دل کے اندروں آواز کس کی گونجتی ہے اس مکان میں پھر یوں ہوا کہ زمزمہ پرداز ہو گئی وہ عندلیب اور کسی گلستان میں اڑتی ہے خاک دل کے دریچوں کے آس پاس شاید مکین کوئی نہیں اس مکان میں یوں ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

شب ڈھلے گنبد اسرار میں آ جاتا ہے

شب ڈھلے گنبد اسرار میں آ جاتا ہے ایک سایہ در و دیوار میں آ جاتا ہے میں ابھی ایک حوالے سے اسے دیکھتا ہوں دفعتاً وہ نئے کردار میں آ جاتا ہے یوں شب ہجر شب وصل میں ڈھل جاتی ہے کوئی مجھ سا مری گفتار میں آ جاتا ہے مجھ سا دیوانہ کوئی ہے جو ترے نام کے ساتھ رقص کرتا ہوا بازار میں آ جاتا ...

مزید پڑھیے

بات کرنے کا نہیں سامنے آنے کا نہیں

بات کرنے کا نہیں سامنے آنے کا نہیں وہ مجھے میری اذیت سے بچانے کا نہیں دور اک شہر ہے جو پاس بلاتا ہے مجھے ورنہ یہ شہر کہیں چھوڑ کے جانے کا نہیں کیا یوں ہی رات کے پہلو میں کٹے گی یہ حیات کیا کوئی شہر کے لوگوں کو جگانے کا نہیں اجنبی لوگ ہیں میں جن میں گھرا رہتا ہوں آشنا کوئی یہاں ...

مزید پڑھیے

آتا ہی نہیں ہونے کا یقیں کیا بات کروں

آتا ہی نہیں ہونے کا یقیں کیا بات کروں ہے دور بہت وہ خواب نشیں کیا بات کروں کیا بات کروں جو عکس تھا میری آنکھوں میں وہ چھوڑ گیا اک شام کہیں کیا بات کروں کیا بات کروں جو گھڑیاں میری ہم دم تھیں وہ گھڑیاں ہی آزار بنیں کیا بات کروں کیا بات کروں مرے ساتھی مجھ سے چھوٹ گئے وہ لوگ نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4395 سے 4657