شاعری

فریب کھانا نہیں بار بار چیختا ہے

فریب کھانا نہیں بار بار چیختا ہے ندی کی تہ سے کوئی ریگزار چیختا ہے بدن کے غار سے بے اختیار چیختا ہے شکار ہونے سے پہلے شکار چیختا ہے تمام دن تو نہیں ٹوٹتا طلسم صدا تمام رات بھی بس انتظار چیختا ہے ادھر نہ جانا ادھر راستے میں منزل ہے سفر کا لطف سر رہ گزار چیختا ہے محاذ جنگ میں ...

مزید پڑھیے

وقت کر دے نہ پائمال مجھے

وقت کر دے نہ پائمال مجھے اب کسی شکل میں تو ڈھال مجھے عقل والوں میں ہے گزر میرا میری دیوانگی سنبھال مجھے میں زمیں بھولتا نہیں ہرگز تو بڑے شوق سے اچھال مجھے تجربے تھے جدا جدا اپنے تم کو دانہ دکھا تھا جال مجھے اور کب تک رہوں معطل سا کر دے ماضی مرے بحال مجھے

مزید پڑھیے

وہم ہی ہوگا مگر روز کہاں ہوتا ہے

وہم ہی ہوگا مگر روز کہاں ہوتا ہے دھندھ چھائی ہے تو اک چہرہ عیاں ہوتا ہے شام خوش رنگ پرندوں کے چہک جانے سے گھر ہوا جاتا ہے دن میں جو مکاں ہوتا ہے وو کوئی جذبہ ہو الفاظ کا محتاج نہیں کچھ نہ کہنا بھی خود اپنی ہی زباں ہوتا ہے بے سبب کچھ بھی نہیں ہوتا ہے یا یوں کہیے آگ لگتی ہے کہیں پر ...

مزید پڑھیے

کہنے کو کمرے میں سارے یکجا بیٹھے ہیں

کہنے کو کمرے میں سارے یکجا بیٹھے ہیں اپنے اپنے موبائل پر تنہا بیٹھے ہیں اپنے ہی خوابوں کو کرکے پنجرہ بیٹھے ہیں کرنے کیا آئے تھے لیکن کر کیا بیٹھے ہیں جانے کس کے ہاتھ لگا چہرہ جو اپنا تھا بے مطلب کب سے لے کر آئینہ بیٹھے ہیں ایک سبق رٹتے تو ہیں پر یاد نہیں ہوتا طفل مکتب کب سے ...

مزید پڑھیے

روشنی کے نہ تھے آثار بند کمرے میں

روشنی کے نہ تھے آثار بند کمرے میں وہ تو لو دے اٹھا کردار بند کمرے میں ہے گزر اپنا ہی مشکل تو پھر تعجب ہے کس طرح آ گیا بازار بند کمرے میں شعر جتنے کہے خارج کیے سوا اس سے صرف پرزوں کا ہے انبار بند کمرے میں چاند تاروں سے الگ ایک اور دنیا ہے بانچتا تھا کوئی اخبار بند کمرے میں تجربہ ...

مزید پڑھیے

ملاحظہ ہو مری بھی اڑان پنجرے میں

ملاحظہ ہو مری بھی اڑان پنجرے میں عطا ہوئے ہیں مجھے دو جہان پنجرے میں ہے سیرگاہ بھی اور اس میں آب و دانہ بھی رکھا گیا ہے مرا کتنا دھیان پنجرے میں اس ایک شرط پر اس نے رہا کیا مجھ کو رکھے گا رہن وہ میری اڑان پنجرے میں یہیں ہلاک ہوا ہے پرندہ خواہش کا تبھی تو ہیں یہ لہو کے نشان پنجرے ...

مزید پڑھیے

روشنی تیز ہوئی کوئی ستارا ٹوٹا

روشنی تیز ہوئی کوئی ستارا ٹوٹا دھار میں اب کے ندی کا ہی کنارا ٹوٹا تھرتھراتے ہوئے لب چپ تو لگا بیٹھے پر چپ نے ہی جوڑا بھی اظہار ہمارا ٹوٹا در بدر پھرتا کوئی خواب مرا آوارہ رات آنکھوں میں چلا آیا تھا ہارا ٹوٹا جانے کس موڑ پہ بچھڑی وہ صدا ماضی کی ایک تنکے کا سہارا تھا سہارا ...

مزید پڑھیے

ندی کا کیا ہے جدھر چاہے اس ڈگر جائے

ندی کا کیا ہے جدھر چاہے اس ڈگر جائے مگر یہ پیاس مجھے چھوڑ دے تو مر جائے کبھی تو دل یہی اکسائے خامشی کے خلاف لبوں کا کھلنا ہی اس کو کبھی اکھر جائے کبھی تو چل پڑے منزل ہی راستے کی طرح کبھی یہ راہ بھی چل چل کے پھر ٹھہر جائے کوئی تو بات ہے پچھلے پہر میں راتوں کے یہ بند کمرہ عجب روشنی ...

مزید پڑھیے

کسی کی نیک ہو یا بد جہاں میں خو نہیں چھپتی

کسی کی نیک ہو یا بد جہاں میں خو نہیں چھپتی چھپائے لاکھ خوشبو یا کوئی بدبو نہیں چھپتی زباں پر جب تلک آتی نہیں البتہ چھپتی ہے زباں پر جب کہ آئی بات اے گل رو نہیں چھپتی یہاں تو تجھ کو سو پردے لگے ہیں اہل تقوی سے بھلا رندوں سے کیوں اے دختر رز تو نہیں چھپتی سلیقہ کیا کرے اس میں کوئی ...

مزید پڑھیے

باتیں نہ کس نے ہم کو کہیں تیرے واسطے

باتیں نہ کس نے ہم کو کہیں تیرے واسطے اور ہم نے بھی نہ کس کی سہیں تیرے واسطے حیران در بہ در پڑے پھرتے ہیں رات دن خورشید و ماہ زہرہ جبیں تیرے واسطے سیماب و برق و شعلۂ جوالہ اور یہ دل بیتاب ان میں کون نہیں تیرے واسطے ہم نے تری تلاش میں اے برق وش کیا یاں ایک آسمان و زمیں تیرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4344 سے 4657