فریب کھانا نہیں بار بار چیختا ہے
فریب کھانا نہیں بار بار چیختا ہے ندی کی تہ سے کوئی ریگزار چیختا ہے بدن کے غار سے بے اختیار چیختا ہے شکار ہونے سے پہلے شکار چیختا ہے تمام دن تو نہیں ٹوٹتا طلسم صدا تمام رات بھی بس انتظار چیختا ہے ادھر نہ جانا ادھر راستے میں منزل ہے سفر کا لطف سر رہ گزار چیختا ہے محاذ جنگ میں ...