ہنس ہنس کر آنسو پی جانا آپ کے بس کی بات نہیں
ہنس ہنس کر آنسو پی جانا آپ کے بس کی بات نہیں
اپنے گھر میں آگ لگانا آپ کے بس کی بات نہیں
دیوانوں کی آنکھیں بھی آئینے جیسے ہوتی ہیں
دیوانوں سے آنکھ ملانا آپ کے بس کی بات نہیں
اب تو موت اٹھائے ہم کو تو شاید ہم اٹھ جائیں
ہم کو اپنے در سے اٹھانا آپ کے بس کی بات نہیں
ہر اک گام پہ اس کی گلی میں طنز کے پتھر چلتے ہیں
اس کی گلی میں آنا جانا آپ کے بس کی بات نہیں
یوں تو ہم نے آپ کی خاطر ہوش گنوائے جوگ لیا
لیکن اب ہم کو سمجھانا آپ کے بس کی بات نہیں
آپ کی یہ تنہائی اک دن میرا نام پکارے گی
الجھی ہوئی زلفیں سلجھانا آپ کے بس کی بات نہیں