شاعری

روز روشن کو جو نسبت ہے سیہ رات کے ساتھ

روز روشن کو جو نسبت ہے سیہ رات کے ساتھ اس نے رشتہ وہی رکھا ہے مری ذات کے ساتھ کچھ نہ تھا بخت میں ناکام محبت کے سوا زندگی کاٹ دی میں نے اسی سوغات کے ساتھ شب کی شب ایک چراغاں کا سماں رہتا ہے شام آ جاتی ہے جب تیرے خیالات کے ساتھ ابر غم دل سے اٹھے از سر مژگاں برسے چشم گریاں کو عجب ربط ...

مزید پڑھیے

میں پریشاں ہوں ملیں چند نوالے کیسے

میں پریشاں ہوں ملیں چند نوالے کیسے اس کو دولت وہ ملی ہے کہ سنبھالے کیسے انگلیاں اپنی نگینوں سے سجانے والے تجھ کو لگتے ہیں مرے ہاتھ کے چھالے کیسے علم سے پھیر لیں تو نے جو نگاہیں اپنی پھر ترے ذہن میں پھوٹیں گے اجالے کیسے دیکھتے رہ گئے پانی کی روانی ہم لوگ راستے لوگوں نے دریا میں ...

مزید پڑھیے

ادھر چراغ جل گئے ادھر چراغ جل گئے

ادھر چراغ جل گئے ادھر چراغ جل گئے جدھر جدھر اٹھی تری نظر چراغ جل گئے یہ اور بات رات بھر کا طے نہ کر سکے سفر مگر یہ کم نہیں کہ وقت پر چراغ جل گئے ہوا کا ایسا زور تھا کہ اک بلا کا شور تھا اسی فضا میں جو تھے با ہنر چراغ جل گئے ہے بات یوں تو رات کی مگر نہ احتیاط کی تو کیا کرو گے دفعتاً ...

مزید پڑھیے

وہی ہے گردش دوراں وہی لیل و نہار اب بھی

وہی ہے گردش دوراں وہی لیل و نہار اب بھی رہا کرتا ہے روز و شب کسی کا انتظار اب بھی کبھی دن بھر تری باتیں کبھی یادوں بھری راتیں تری فرقت میں جینے کے بہانے ہیں ہزار اب بھی ترا جلوہ جو پا جاتی چمن میں جا کے اٹھلاتی بھکارن بن کے بیٹھی ہے ترے در پر بہار اب بھی خوشی ہر چند ہے طاری گئی ...

مزید پڑھیے

فوجیوں کے سر تو دشمن کے سپاہی لے گئے

فوجیوں کے سر تو دشمن کے سپاہی لے گئے ہاتھ جو قیمت لگی ظل الٰہی لے گئے جرم میرا صرف اتنا تھا کہ میں مجرم نہ تھا قید تک مجھ کو ثبوت بے گناہی لے گئے اب وہی دنیا میں ٹھہرے امن عالم کے امیں جو اماں کی جا تک اسباب تباہی لے گئے شکوۂ جلوہ نمائی صرف ان کے لب پہ ہے جو تری محفل میں اپنی کم ...

مزید پڑھیے

ابھی اشکوں میں خوں شامل نہیں ہے

ابھی اشکوں میں خوں شامل نہیں ہے محبت کا جنوں کامل نہیں ہے زمانے سے محبت کا ابھی تک یہ حاصل ہے کہ کچھ حاصل نہیں ہے نہ آنکھیں پھوڑ اس دشت جنوں میں یہ راہ ناقۂ محمل نہیں ہے زمیں پر بیٹھ جا اے شیخ تو بھی یہ بزم مے تری محفل نہیں ہے طبیبوں سے کہو گھر لوٹ جائیں یہ درد دل وہ درد دل نہیں ...

مزید پڑھیے

اشک آنکھوں میں بھرے بیٹھے ہو

اشک آنکھوں میں بھرے بیٹھے ہو کتنے بزدل ہو ڈرے بیٹھے ہو تم کو مر کر بھی کہاں مرنا تھا زندگی میں ہی مرے بیٹھے ہو کفر بیتاب ہے بیعت کے لیے اور تم ہو کہ پرے بیٹھے ہو معرکے یوں کہیں سر ہوتے ہیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہو جو تھے کھوٹے وہ سبھی چل نکلے اور تم ہو کے کھرے بیٹھے ہو آ گیا ...

مزید پڑھیے

نہ گل خنداں نہ بلبل نغمہ خواں ہے

نہ گل خنداں نہ بلبل نغمہ خواں ہے ارے گلچیں یہ نظم گلستاں ہے چمن میں پھر بناتا ہوں نشیمن سنا ہے مضمحل برق تپاں ہے جسے کہتے تھے ہم سونے کی چڑیا یہ بھارت کیا وہی ہندوستاں ہے صدا آتی ہے پیہم ٹھوکروں سے یہ سنگ رہ گزر منزل رساں ہے غلط سمت سفر کا ہے یہ حاصل نہ جادہ ہے نہ منزل کا نشاں ...

مزید پڑھیے

فلک سے چاند چمن سے گلاب لے آئے

فلک سے چاند چمن سے گلاب لے آئے کہاں سے کوئی تمہارا جواب لے آئے ہزار رنگ ہیں حسن و جمال کے لیکن وہ رنگ اور ہے جس کو شباب لے آئے عجیب طرفہ تماشا ہے زندگی میری خوشی بھی آئے تو غم بے حساب لے آئے ترے خمیر میں شامل ہے گمرہی ورنہ فلک سے کتنے پیمبر کتاب لے آئے ادھر وہ تشنہ لبی ہے کہ جاں ...

مزید پڑھیے

ڈورے ڈالے لال پری ہے آنکھوں میں

ڈورے ڈالے لال پری ہے آنکھوں میں سو بھی جاؤ نیند بھری ہے آنکھوں میں پھر میت کے بار سے پلکیں بوجھل ہیں پھر کوئی امید مری ہے آنکھوں میں دیدہ وری کے سب قصے ان سے منسوب اپنی ثروت کم نظری ہے آنکھوں میں آنکھوں میں کٹتی ہے شب وہ کیا جانیں بے خبری سی بے خبری ہے آنکھوں میں ایک نظر میں دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4326 سے 4657