شاعری

تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیں

تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیں ابھی آگ سرد ہوئی نہیں ابھی اک الاؤ جلا نہیں مری بزم دل تو اجڑ چکی مرا فرش جاں تو سمٹ چکا سبھی جا چکے مرے ہم نشیں مگر ایک شخص گیا نہیں در و بام سب نے سجا لیے سبھی روشنی میں نہا لیے مری انگلیاں بھی جھلس گئیں مگر اک چراغ جلا نہیں غم ...

مزید پڑھیے

وہ پہلی جیسی وحشتیں وہ حال ہی نہیں رہا

وہ پہلی جیسی وحشتیں وہ حال ہی نہیں رہا کہ اب تو شوق راحت وصال ہی نہیں رہا تمام حسرتیں ہر اک سوال دفن کر چکے ہمارے پاس اب کوئی سوال ہی نہیں رہا تلاش رزق میں یہ شام اس طرح گزر گئی کوئی ہے اپنا منتظر خیال ہی نہیں رہا ان آتےجاتے روز و شب کی گردشوں کودیکھ کر کسی کے ہجر کا کوئی ملال ہی ...

مزید پڑھیے

مری روح میں جو اتر سکیں وہ محبتیں مجھے چاہئیں

مری روح میں جو اتر سکیں وہ محبتیں مجھے چاہئیں جو سراب ہوں نہ عذاب ہوں وہ رفاقتیں مجھے چاہئیں انہیں ساعتوں کی تلاش ہے جو کیلنڈروں سے اتر گئیں جو سمے کے ساتھ گزر گئیں وہی فرصتیں مجھے چاہئیں کہیں مل سکیں تو سمیٹ لا مرے روز و شب کی کہانیاں جو غبار وقت میں چھپ گئیں وہ حکایتیں مجھے ...

مزید پڑھیے

کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہے

کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہے یہاں کیا ہم سا کوئی بے سر و سامان رہتا ہے در و دیوار سناٹے کی چادر میں ہیں خوابیدہ بھلا ایسی جگہ زندہ کوئی انسان رہتا ہے مسلسل پوچھنے پر ایک چلمن سے جواب آیا یہاں اک دل شکستہ صاحب دیوان رہتا ہے جھجک کر میں نے پوچھا کیا کبھی باہر نہیں ...

مزید پڑھیے

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم اب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم کسی دہلیز پر آنکھوں کے یہ روشن دیئے رکھ کر ضمیر صبح کو جھنجھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم جدھر ہم جا رہے ہیں اس طرف ٹوٹا ہوا پل ہے یہ باگیں اس سے پہلے موڑ دینا چاہتے ہیں ہم یہ نوبت کل جو آنی ہے تو شرمندہ نہیں ...

مزید پڑھیے

کسی کو ہم سے ہیں چند شکوے کسی کو بے حد شکایتیں ہیں

کسی کو ہم سے ہیں چند شکوے کسی کو بے حد شکایتیں ہیں ہمارے حصے میں صرف اپنی صفائیاں ہیں وضاحتیں ہیں قدم قدم پر بدل رہے ہیں مسافروں کی طلب کے رستے ہواؤں جیسی محبتیں ہیں صداؤں جیسی رفاقتیں ہیں کسی کا مقروض میں نہیں پر مرے گریباں پہ ہاتھ سب کے کوئی مری چاہتوں کا دشمن کسی کو درکار ...

مزید پڑھیے

چرخ بھی چھو لیں تو جانا ہے اسی مٹی میں

چرخ بھی چھو لیں تو جانا ہے اسی مٹی میں مستقل اپنا ٹھکانا ہے اسی مٹی میں جن کے دامن پہ کبھی چاند ستارے چمکے دفن ان کا بھی فسانہ ہے اسی مٹی میں بے عمل ہاتھ لگائے بھی تو خالی جائے ہاں جفا کش کا خزانہ ہے اسی مٹی میں اس طرح چل کہ یہ پامال نہ ہونے پائے بے خبر آب ہے دانہ ہے اسی مٹی ...

مزید پڑھیے

کبھی جو آنکھوں میں پل بھر کو خواب جاگتے ہیں

کبھی جو آنکھوں میں پل بھر کو خواب جاگتے ہیں تو پھر مہینوں مسلسل عذاب جاگتے ہیں کسی کے لمس کی تاثیر ہے کہ برسوں بعد مری کتابوں میں اب بھی گلاب جاگتے ہیں برائی کچھ تو یقیناً ہے بے حجابی میں مگر وہ فتنے جو زیر نقاب جاگتے ہیں ستم شعارو ہمارا تم امتحان نہ لو ہمارے صبر سے صد انقلاب ...

مزید پڑھیے

مجھ سے مت پوچھ مرا حال دروں رہنے دے

مجھ سے مت پوچھ مرا حال دروں رہنے دے سن کے ٹپکے گا تری آنکھوں سے خوں رہنے دے فصل گل دشت خرد میں ہے اگرچہ موجود مجھ کو پا بستۂ زنجیر جنوں رہنے دے تو کرم مجھ پہ کرے گا تو جتائے گا ضرور حال جو میرا زبوں ہے تو زبوں رہنے دے سادگی سی کوئی زینت نہیں ہوتی جاناں اپنی ان شوخ اداؤں کا فسوں ...

مزید پڑھیے

جستجو نے تری ہر چند تھکا رکھا ہے

جستجو نے تری ہر چند تھکا رکھا ہے پھر بھی کیا غم کہ اسی میں تو مزہ رکھا ہے کچھ تو اپنی بھی طبیعت ہے گریزاں ان سے کچھ مزاج ان کا بھی بر دوش ہوا رکھا ہے کیا تجھے علم نہیں تیری رضا کی خاطر میں نے کس کس کو زمانے میں خفا رکھا ہے جب نظر اٹھی رخ یار پہ جا کر ٹھہری جیسے آنکھوں میں کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4325 سے 4657