شاعری

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے شام کریں کیسے اس دن کی ٹھنڈی صورت دیکھیں کن کی ادھر ادھر تو دھواں اڑاتی آگ اگلتی خلقت ہے جس کو ہم نے چاہا تھا وہ کہیں نہیں اس منظر میں جس نے ہم کو پیار کیا وہ سامنے والی مورت ہے پھول ببول کے اچھے ...

مزید پڑھیے

پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئی

پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئی اب تک ترے آنے کی شہادت نہیں آئی موسم تھا نمائش کا مگر آنکھ نہ کھولی جاناں ترے زخموں کو سیاست نہیں آئی جو روح سے آزار کی مانند لپٹ جائے ہم پر وہ گھڑی اے شب وحشت نہیں آئی اے دشت انا الحق ترے قربان ابھی تک وہ منزل اظہار صداقت نہیں آئی ہم لوگ ...

مزید پڑھیے

تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں

تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں خطا معاف یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیں غزل فضا بھی ڈھونڈتی ہے اپنے خاص رنگ کی ہمارا مسئلہ فقط قلم دوات ہی نہیں ہماری ساعتوں کے حصہ دار اور لوگ ہیں ہمارے سامنے فقط ہماری ذات ہی نہیں ورق ورق پہ ڈائری میں آنسوؤں کا نم بھی ہے یہ صرف بارشوں سے بھیگے ...

مزید پڑھیے

نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کا

نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کا سو یہ حال ان دنوں ہے مرے دل کی بے کسی کا میں شکستہ بام و در میں جسے جا کے ڈھونڈتا تھا کوئی یاد تھی کسی کی کوئی نام تھا کسی کا میں ہواؤں سے ہراساں وہ گھٹن سے دل گرفتہ میں چراغ تیرگی کا وہ گلاب روشنی کا ابھی ریل کے سفر میں ہیں بہت نہال دونوں کہیں ...

مزید پڑھیے

دھڑکن دھڑکن یادوں کی بارات اکیلا کمرہ

دھڑکن دھڑکن یادوں کی بارات اکیلا کمرہ میں اور میرے زخمی احساسات اکیلا کمرہ گئے دنوں کی تصویروں کے بجھتے ہوئے نقوش تازہ ترک تعلق کے صدمات اکیلا کمرہ دوش ہوا پر اڑنے والے خزاں کے آخری پتے اپنی اکیلی جان غم حالات اکیلا کمرہ آخری شب کے چاند سے کرنا بالکنی میں باتیں اس کے شہر میں ...

مزید پڑھیے

محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری

محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری سب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مری حق کس سے مانگتا کہ مکینوں کے ساتھ ساتھ دیوار و بام و در کو ضرورت نہ تھی مری سچ بول کے بھی دیکھ لیا ان کے سامنے لیکن انہیں پسند صداقت نہ تھی مری میں جن پہ مر مٹا تھا وہ کاغذ کے پھول تھے رسمی مکالمے تھے محبت نہ تھی ...

مزید پڑھیے

دل ہیں یوں مضطرب مکانوں میں

دل ہیں یوں مضطرب مکانوں میں مچھلیاں جیسے مرتبانوں میں دھوپ سے ڈھونڈتے ہیں راہ فرار لوگ شیشے کے سائبانوں میں بے ارادہ کلام کی خواہش بے سبب لکنتیں زبانوں میں تیری آمد پہ جیسے لوٹ آیا وقت گزرے ہوئے زمانوں میں دل دھڑکتا ہے ہر ستارے کا آج کی رات آسمانوں میں زنگ آلود ہو گئے ...

مزید پڑھیے

مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مرے جذبات سے تھا

مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مرے جذبات سے تھا اس کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھا اب جو بچھڑا ہے تو کیا روئیں جدائی پہ تری یہی اندیشہ ہمیں پہلی ملاقات سے تھا دل کے بجھنے کا ہواؤں سے گلا کیا کرنا یہ دیا نزع کے عالم میں تو کل رات سے تھا مرکز شہر میں رہنے پہ مصر تھی خلقت اور میں وابستہ ...

مزید پڑھیے

مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا

مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا مرے موسموں کے مزاج داں تجھے میرا کتنا خیال تھا کسی اور چہرے کو دیکھ کر تری شکل ذہن میں آ گئی ترا نام لے کے ملا اسے میرے حافظے کا یہ حال تھا کبھی موسموں کے سراب میں کبھی بام و در کے عذاب میں وہاں عمر ہم نے گزار دی جہاں سانس لینا محال ...

مزید پڑھیے

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں بہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسے وہ مجھ سے پوچھنے آئی ہے کچھ لکھا نہیں مجھ پر میں اس کو کیسے سمجھاؤں مرے اشعار کیسے ہیں مری سوچیں ہیں کیسی کون ان سوچوں کا مرکز ہے جو میرے ذہن میں پلتے ہیں وہ افکار کیسے ہیں مرے دل کا الاؤں آج تک دیکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4327 سے 4657