پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے
پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے شام کریں کیسے اس دن کی ٹھنڈی صورت دیکھیں کن کی ادھر ادھر تو دھواں اڑاتی آگ اگلتی خلقت ہے جس کو ہم نے چاہا تھا وہ کہیں نہیں اس منظر میں جس نے ہم کو پیار کیا وہ سامنے والی مورت ہے پھول ببول کے اچھے ...