شاعری

وقت سفر قریب ہے بستر سمیٹ لوں

وقت سفر قریب ہے بستر سمیٹ لوں بکھرا ہوا حیات کا دفتر سمیٹ لوں پھر جانے ہم ملیں نہ ملیں اک ذرا رکو میں دل کے آئینے میں یہ منظر سمیٹ لوں یاروں نے جو سلوک کیا اس کا کیا گلا پھینکے ہیں دوستوں نے جو پتھر سمیٹ لوں کل جانے کیسے ہوں گے کہاں ہوں گےگھر کے لوگ آنکھوں میں ایک بار بھرا گھر ...

مزید پڑھیے

یاد فراق یار ترا شکریہ بہت

یاد فراق یار ترا شکریہ بہت کل رات دل میں درد ہمارے اٹھا بہت کل رات تیرے غم نے لگائی تھی پھر سبیل کل رات ہم نے زہر ہلاہل پیا بہت مدت کے بعد پھر سے ملاقات ہو گئی ہم کو اداس دیکھ کے رویا کیا بہت شاید نسیم تیرا بدن چھو کے آئی تھی اپنی سحر میں رنگ قیامت رہا بہت اجملؔ نہ آپ سا بھی ...

مزید پڑھیے

راستے کے پیچ و خم کیا شے ہیں سوچا ہی نہیں

راستے کے پیچ و خم کیا شے ہیں سوچا ہی نہیں ہم سفر پر جب سے نکلے مڑ کے دیکھا ہی نہیں دو گھڑی رک کر ٹھہر کر سوچتے منزل کی بات راستے میں کوئی ایسا موڑ آیا ہی نہیں زندگی کے ساتھ ہم نکلے تھے لے کر کتنے خواب زندگی بھی ختم ہے موسم بدلتا ہی نہیں اک دیا یادوں کا تھا روشن تھی جس سے بزم ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی رہتا ہے اب خدشا مجھے

ہر گھڑی رہتا ہے اب خدشا مجھے پی نہ جائے وقت کا دریا مجھے گو حقیقت تھا مگر اے زندگی خواب سا تو نے سدا دیکھا مجھے جب بھی ملتا ہوں وہی چہرہ لیے بد دعا دیتا ہے آئینا مجھے چھوڑ آیا ہوں سلگتی ریت میں جانے کیا کہتا ہو نقش پا مجھے اس کے دل میں خود وفا ناپید تھی دوستی کی بھیک کیا دیتا ...

مزید پڑھیے

آزار بہت لذت آزار بہت ہے

آزار بہت لذت آزار بہت ہے دل دست ستم گر کا طلب گار بہت ہے اقرار کی منزل بھی ضرور آئے گی اک دن اس وقت تو بس لذت انکار بہت ہے یاران سفر کوئی دوا ڈھونڈ کے لاؤ انسان مرے دور کا بیمار بہت ہے ہاں دیکھیو عرفان بغاوت نہ جھلس جائے منظر مری دنیا کا شرر بار بہت ہے ہم گھر کی پناہوں سے جو ...

مزید پڑھیے

تری نظر بھی نہیں حرف مدعا بھی نہیں

تری نظر بھی نہیں حرف مدعا بھی نہیں خدا گواہ مرے پاس کچھ رہا بھی نہیں ہزار منزل غم سے گزر چکے لیکن ابھی جنون محبت کی ابتدا بھی نہیں غم فراق یہ شب کس طرح سے گزرے گی کہ اب تو آس کی موہوم سی ضیا بھی نہیں نہ جانے کس لئے اب بھی ہے دل سے بڑھ کے عزیز سیاہ دل بھی نہیں اور پارسا بھی ...

مزید پڑھیے

خود سے نکلوں بھی تو رستہ نہیں آسان مرا

خود سے نکلوں بھی تو رستہ نہیں آسان مرا میری سوچیں ہیں گھنی خوف ہے گنجان مرا ہے کسی اور سمے پر گزر اوقات مری دن خسارہ ہے مجھے رات ہے نقصان مرا میرا تہذیب و تمدن ہے یہ وحشت میری میرا قصہ، مری تاریخ ہے نسیان مرا میں کسی اور ہی عالم کا مکیں ہوں پیارے میرے جنگل کی طرح گھر بھی ہے ...

مزید پڑھیے

اب بھی اکثر دھیان تمہارا آتا ہے

اب بھی اکثر دھیان تمہارا آتا ہے دیکھو گزرا وقت دوبارہ آتا ہے آہ نہیں آتی ہے اب تو ہونٹوں تک سینے سے بس اک انگارہ آتا ہے جانے کس دنیا میں سوتی جاگتی ہیں جن آنکھوں سے خواب ہمارا آتا ہے دن بھر جنگل کی آوازیں آتی ہیں رات کو گھر میں جنگل سارا آتا ہے جن راتوں میں چاند ہو یا پھر چاند ...

مزید پڑھیے

پس فصیل زمانوں کا انتظار نہ ہو

پس فصیل زمانوں کا انتظار نہ ہو یہ شہر اور کسی شہر کا غبار نہ ہو یہ خواب بھی نہ کسی خواب کا اشارہ ہو یہ نیند اور کسی نیند کا خمار نہ ہو یہ دشت اور کسی دشت کا سراب سہی یہ باغ اور کسی باغ کی بہار نہ ہو بہت دنوں سے یہی سوچ کر پریشاں ہوں کہ تو بھی میرے گماں ہی کا اعتبار نہ ہو کوئی تو ...

مزید پڑھیے

ایسا ایک مقام ہو جس میں دل جیسی ویرانی ہو

ایسا ایک مقام ہو جس میں دل جیسی ویرانی ہو یادوں جیسی تیز ہوا ہو درد سے گہرا پانی ہو ایک ستارہ روشن ہو جو کبھی نہ بجھنے والا ہو رستہ جانا پہچانا ہو رات بہت انجانی ہو وہ اک پل جو بیت گیا اس میں ہی رہیں تو اچھا ہے کیا معلوم جو پل آئے وہ فانی ہو لافانی ہو منظر دیکھنے والا ہو پر کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4321 سے 4657