یہ کس لئے ہے تو اتنا اداس دروازے
یہ کس لئے ہے تو اتنا اداس دروازے پہن لیا ہے جو کالا لباس دروازے تو شام رنگ ہوا جا رہا ہے صبح سے کیوں جھلکتی ہے تری صورت سے یاس دروازے نہارتے ہو یہ کس کس کو نیم وا ہو کر پرائے دیس میں کیسی یہ آس دروازے حنائی ہاتھ کے وہ لمس چھن گئے جن سے بنے ہوئے ہیں سراپا سپاس دروازے مکیں مکاں ...