شاعری

یہ کس لئے ہے تو اتنا اداس دروازے

یہ کس لئے ہے تو اتنا اداس دروازے پہن لیا ہے جو کالا لباس دروازے تو شام رنگ ہوا جا رہا ہے صبح سے کیوں جھلکتی ہے تری صورت سے یاس دروازے نہارتے ہو یہ کس کس کو نیم وا ہو کر پرائے دیس میں کیسی یہ آس دروازے حنائی ہاتھ کے وہ لمس چھن گئے جن سے بنے ہوئے ہیں سراپا سپاس دروازے مکیں مکاں ...

مزید پڑھیے

خاک میں ملنا تھا آخر بے نشاں ہونا ہی تھا

خاک میں ملنا تھا آخر بے نشاں ہونا ہی تھا جلنے والے کے مقدر میں دھواں ہونا ہی تھا ہم نہ کہتے تھے کہ دیدے پھوٹ جائیں گے ترے رات دن رونے سے آنکھوں کا زیاں ہونا ہی تھا حرف ساکت بن گیا تقطیع سے خارج ہوا اس غزل کی بزم سے مجھ کو نہاں ہونا ہی تھا کیا ہوا جو بھول بیٹھے ہیں سبھی قاری ...

مزید پڑھیے

مخالف آندھیوں میں عزم کے دیپک جلاتا ہوں

مخالف آندھیوں میں عزم کے دیپک جلاتا ہوں کبھی جب وقت پڑتا ہے تو خود کو آزماتا ہوں میں شہزادہ ہوا کا ہوں خلا میری ریاست ہے کبھی میں اڑتے اڑتے آسماں کو پھاند جاتا ہوں کبھی میں ریت ہی سے کھیلتا رہتا ہوں بچوں سا کبھی میں ذات کے گہرے سمندر میں نہاتا ہوں کبھی بے خود پڑا رہتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

لب دریا جو پیاسے مر گئے ہیں

لب دریا جو پیاسے مر گئے ہیں جنوں کا نام روشن کر گئے ہیں حسینی قافلہ جب یاد آیا کٹورے آنسوؤں سے بھر گئے ہیں جنہیں سورج نے بھی دیکھا نہ ہوگا وہ ننگے پاؤں ننگے سر گئے ہیں وہ کب کے جا بسے اس پار لیکن کئی یادیں یہاں بھی دھر گئے ہیں جنہیں تھا شوق میلہ دیکھنے کا وہ سارے لوگ اپنے گھر ...

مزید پڑھیے

جب میرا گھر بہشت سی گل وادیوں میں تھا

جب میرا گھر بہشت سی گل وادیوں میں تھا اس وقت میں گھرا ہوا شہزادیوں میں تھا وہ دن ہوا ہوئے وہ زمانے گزر گئے بندے کا جب قیام پری زادیوں میں تھا یک بار جو اجڑ گئے بستے ہوئے نگر لگتا ہے کوئی بھوت بھی ان وادیوں میں تھا بیٹھا تھا جس پہ میں نے وہی شاخ کاٹ دی خود میرا ہاتھ ہی مری ...

مزید پڑھیے

محبت کرنے والوں کے بہار افروز سینوں میں

محبت کرنے والوں کے بہار افروز سینوں میں رہا کرتی ہے شادابی خزاں کے بھی مہینوں میں ضیائے مہر آنکھوں میں ہے توبہ مہ جبینوں کے کہ فطرت نے بھرا ہے حسن خود اپنا حسینوں میں ہوائے تند ہے گرداب ہے پر شور دھارا ہے لیے جاتے ہیں ذوق عافیت سی شے سفینوں میں میں ہنستا ہوں مگر اے دوست اکثر ...

مزید پڑھیے

جو داغ بن کے تمنا تمام ہو جائے

جو داغ بن کے تمنا تمام ہو جائے ہمیں تو خون بھی رونا حرام ہو جائے شباب درد مری زندگی کی صبح سہی پیوں شراب یہاں تک کہ شام ہو جائے یہی ہے مصلحت انتہائے راز اخترؔ جہاں میں رسم محبت نہ عام ہو جائے

مزید پڑھیے

سننے والے فسانہ تیرا ہے

سننے والے فسانہ تیرا ہے صرف طرز بیاں ہی میرا ہے یاس کی تیرگی نے گھیرا ہے ہر طرف ہول ناک اندھیرا ہے اس میں کوئی مرا شریک نہیں میرا دکھ آہ صرف میرا ہے چاندنی چاندنی نہیں اخترؔ رات کی گود میں سویرا ہے

مزید پڑھیے

میرے رخ سے سکوں ٹپکتا ہے

میرے رخ سے سکوں ٹپکتا ہے گفتگو سے جنوں ٹپکتا ہے مست ہوں میں مری نظر سے بھی بادۂ لالہ گوں ٹپکتا ہے ہاں کبھی خواب عشق دیکھا تھا اب تک آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے آہ اخترؔ میری ہنسی سے بھی میرا حال زبوں ٹپکتا ہے

مزید پڑھیے

حیات انساں کی سر تا پا زباں معلوم ہوتی ہے

حیات انساں کی سر تا پا زباں معلوم ہوتی ہے یہ دنیا انقلاب آسماں معلوم ہوتی ہے مکدر ہے خزاں کے خون سے عیش بہار گل خزاں کی رت بہار بے خزاں معلوم ہوتی ہے مجھے ناکامی پیہم سے مایوسی نہیں ہوتی ابھی امید میری نوجواں معلوم ہوتی ہے کوئی جب نالہ کرتا ہے کلیجہ تھام لیتا ہوں فغان غیر بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4306 سے 4657