شاعری

صحرائے لا حدود میں تشنہ لبی کی خیر

صحرائے لا حدود میں تشنہ لبی کی خیر ماحول اشک بار میں لب کی ہنسی کی خیر لفاظ سارے بن گئے شاہ سخن یہاں صادق سخن وروں کی سخن پروری کی خیر مشرق میں ہندو و چین کے بازار یوں بڑھے جاہ و جلال مغرب و برطانوی کی خیر ہے عورتوں کی دھوم زمیں سے فلک تلک سعیٔ بقائے شوکت مردانگی کی خیر ارزاں ...

مزید پڑھیے

شام آئی ہے لئے ہاتھ میں یادوں کے چراغ

شام آئی ہے لئے ہاتھ میں یادوں کے چراغ وہ ترے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں کے چراغ میرے اس گھر میں اندھیرا کبھی ہوتا ہی نہیں ہیں مرے سینے میں جلتے ہوئے زخموں کے چراغ لاکھ طوفان ہوں کٹیا مری روشن ہی رہی ایک برسات سے بجھنے لگے محلوں کے چراغ زندگی تلخ حقیقت کی ہے اندھی سی گلی اپنی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

تازہ ہوا کے واسطے کھڑکی نہ بن سکا

تازہ ہوا کے واسطے کھڑکی نہ بن سکا دے دوں کسی کو چھاؤں وہ بدلی نہ بن سکا بیٹا بسا بدیس میں دولت کے ڈھیر پر لیکن وہ بوڑھے باپ کی لاٹھی نہ بن سکا شاعر کا واسطہ بڑا گہرا ہے بھوک سے اس کا کلام آج بھی روٹی نہ بن سکا کیوں کر کروں امید تو مجھ سا بنے گا دوست جیسا میں چاہتا ہوں وہ خود بھی ...

مزید پڑھیے

مجھ کو پریم کہانی کر دو

مجھ کو پریم کہانی کر دو میرا سی دیوانی کر دو مرلی کی اک تان سنا کر رادھا کو مستانی کر دو آج تو جانے کی ضد چھوڑو آج تو شام سہانی کر دو ہجر کا دن کیوں چڑھنے پائے وصل کی شب طولانی کر دو باقی رات بھی جاگتے گزرے لمبی رام کہانی کر دو امرت رس کا مینہ برسا کر سارے منظر دھانی کر ...

مزید پڑھیے

ہم کو یاد نہ آؤ اب

ہم کو یاد نہ آؤ اب بھر جانے دو گھاؤ اب آگ بجھاؤ تن من کی ایسا مینہ برساؤ اب جانا ہے اس پار ہمیں مانجھی اور نہ ناؤ اب اپنے روزہ داروں کو عید کا چاند دکھاؤ اب روٹھا یار منانا ہے کوئی سوانگ رچاؤ اب رو رو کے مر جائیں گے ہم سے دور نہ جاؤ اب تجھ پر کیا افتاد پڑی حسرتؔ نیر بہاؤ اب

مزید پڑھیے

دھواں صفت ہوں خلاؤں کا ہے سفر مجھ کو

دھواں صفت ہوں خلاؤں کا ہے سفر مجھ کو اڑا رہی ہیں ہوائیں ادھر ادھر مجھ کو میں اس کی آنکھ سے گر کر وجود کھو بیٹھا وہ ڈھونڈھتا ہے بھلا کیوں ڈگر ڈگر مجھ کو جواں ہوں حوصلے جس کے وہ میرے ساتھ چلے کڑکتی دھوپ میں صحرا کا ہے سفر مجھ کو بدن کو چھوڑ کے تیری تلاش میں نکلا نہ روک پائیں گے ...

مزید پڑھیے

وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا

وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا ورق ورق کو محبت کا باب کر دے گا اجالے کے لئے اس کو صدا لگاؤ اب یہ کام چٹکیوں میں آفتاب کر دے گا وہ جب بھی دیکھے گا مستی بھری نظر سے مجھے مرے وجود کو یکسر شراب کر دے گا مجھے یقین ہے اعجاز لمس سے اک دن وہ خار کو بھی شگفتہ گلاب کر دے گا ہزار چپ سہی پر اس ...

مزید پڑھیے

آخری امید بھی آنکھوں سے چھلکائے ہوئے

آخری امید بھی آنکھوں سے چھلکائے ہوئے کون سی جانب چلے ہیں تیرے ٹھکرائے ہوئے اپنی گلیاں اپنی بستی بھول بیٹھا ہے وہ چاند ایک یگ گزرا ہے اس کو نور برسائے ہوئے جستجو والے تمہاری راہ میں مر مٹ گئے ایک مدت سے تمہیں پردیس ہیں بھائے ہوئے اے بہار زندگی اب دیر ہے کس بات کی باسی پھولوں کی ...

مزید پڑھیے

اک یاد سو رہے کو اٹھاتی ہے آج بھی

اک یاد سو رہے کو اٹھاتی ہے آج بھی خود جاگتی ہے مجھ کو جگاتی ہے آج بھی یہ کیسی مطربہ ہے جو چھپ کر جہان سے دھیمے سروں میں رات کو گاتی ہے آج بھی صدیاں گزر گئیں جسے ڈوبے ہوئے یہاں اس کو صدائے شوق بلاتی ہے آج بھی جس شہر آرزو کے نشانات مٹ گئے دل کی نگاہ پھر وہیں جاتی ہے آج بھی ہونٹوں ...

مزید پڑھیے

عشق جنموں کا ہے سفر شاید

عشق جنموں کا ہے سفر شاید ختم ہوگا نہ عمر بھر شاید آج کچا گھڑا ہے ناؤ مری پار لگ جاؤں ڈوب کر شاید حرف مطلب سنا کے رو دینا کام کر جائے چشم تر شاید خود کو ہم بارہا پکار آئے آج ہم بھی نہیں تھے گھر شاید اور کرنی ہے جستجو اپنی اور پھرنا ہے در بدر شاید کون پاگل کو کو بہ کو ڈھونڈے پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4305 سے 4657