صحرائے لا حدود میں تشنہ لبی کی خیر
صحرائے لا حدود میں تشنہ لبی کی خیر ماحول اشک بار میں لب کی ہنسی کی خیر لفاظ سارے بن گئے شاہ سخن یہاں صادق سخن وروں کی سخن پروری کی خیر مشرق میں ہندو و چین کے بازار یوں بڑھے جاہ و جلال مغرب و برطانوی کی خیر ہے عورتوں کی دھوم زمیں سے فلک تلک سعیٔ بقائے شوکت مردانگی کی خیر ارزاں ...