آئینۂ نگاہ میں عکس شباب ہے
آئینۂ نگاہ میں عکس شباب ہے دنیا سمجھ رہی ہے کہ آنکھوں میں خواب ہے روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے اے سوز جاں گداز ابھی میں جوان ہوں اے درد لا علاج یہ عمر شباب ہے
آئینۂ نگاہ میں عکس شباب ہے دنیا سمجھ رہی ہے کہ آنکھوں میں خواب ہے روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے اے سوز جاں گداز ابھی میں جوان ہوں اے درد لا علاج یہ عمر شباب ہے
کوئی مآل محبت مجھے بتاؤ نہیں میں خواب دیکھ رہا ہوں مجھے جگاؤ نہیں کسی کی یاد ہے ان کی مہک سے وابستہ مجھے یہ پھول خدا کے لیے سنگھاؤ نہیں محبت اور جوانی کے تذکرے نہ کرو کسی ستائے ہوئے کو بہت ستاؤ نہیں یہ کہہ رہا ہے محبت کی کاوشوں سے دل یہ میرے ہنسنے کے دن ہیں مجھے رلاؤ نہیں اجڑ ...
دل کے ارمان دل کو چھوڑ گئے آہ منہ اس جہاں سے موڑ گئے وہ امنگیں نہیں طبیعت میں کیا کہیں جی کو صدمے توڑ گئے بادۂ باس کے مسلسل دور ساغر آرزو کو پھوڑ گئے مٹ گئے وہ نظارہ ہائے جمیل لیکن آنکھوں میں عکس چھوڑ گئے ہم تھے عشرت کی گہری نیندیں تھیں آئے آلام اور جھنجھوڑ گئے
سرشار ہوں چھلکتے ہوئے جام کی قسم مست شراب شوق ہوں خیام کی قسم عشرت فروش تھا مرا گزرا ہوا شباب کہتا ہوں کھا کے عشرت ایام کی قسم ہوتی تھی صبح عید مری صبح پر نثار کھاتی تھی شام عیش مری شام کی قسم اخترؔ مذاق درد کا مارا ہوا ہوں میں کھاتے ہیں اہل درد مرے نام کی قسم
کیا خبر تھی اک بلائے ناگہانی آئے گی نامرادی کی نشانی یہ جوانی آئے گی سب کہیں گے کون کرتا ہے ہمارے راز فاش جب مرے لب پر محبت کی کہانی آئے گی نامرادی سے کہو منہ پھیر لے اپنا ذرا میری دنیا میں عروس کامرانی آئے گی جب خزاں کی نذر ہو جائے گی دنیا سے شباب یاد اخترؔ یہ ستم آرا جوانی آئے ...
یہ حسین فطرت کے حسن کا انیلا پن زندگی کے عارض پر یہ کریہہ پیلا پن اف یہ بیتی راتوں کی یاد کا کٹیلا پن آنے والی صبحوں کے دھیان کا رسیلا پن کھائے گا شکست اک دن صبر و ضبط پیہم سے درد کا تسلسل اور جبر کا ہٹیلا پن زندگی کی موسیقی کس ستم کی شاکی ہے حزن ہے نواؤں میں لے میں ہے چٹیلا پن
لطف لے لے کے پیے ہیں قدح غم کیا کیا ہم نے فردوس بنائے ہیں جہنم کیا کیا آنسوؤں کو بھی پیا جرعۂ صہبا کی طرح ساغر و جام بنے دیدۂ پر نم کیا کیا حلقۂ دام وفا عقدۂ غم موج نشاط یہ زمانہ بھی دکھاتا ہے چم و خم کیا کیا لذت ہجر کبھی عشرت دیدار کبھی آرزو نے بھی طبیعت کو دیئے دم کیا کیا کس کس ...
خواہش عیش نہیں درد نہانی کی قسم بوالہوس کھایا کریں عشرت فانی کی قسم اک غم انگیز حقیقت ہے ہماری ہستی قصہ خواں تیری غم انگیز کہانی کی قسم دل کی گہرائیوں میں آگ دبی رکھتا ہوں چشم گریاں سے برستے ہوئے پانی کی قسم جب سے آئی ہے خدا رکھے جوانی اخترؔ ہم ہر اک بات پر کھاتے ہیں جوانی کی ...
ہر وقت نوحہ خواں سی رہتی ہیں میری آنکھیں اک دکھ بھری کہانی کہتی ہیں میری آنکھیں جذبات دل کی شدت سہتی ہیں میری آنکھیں گل رنگ اور شفق گوں رہتی ہیں میری آنکھیں عیش و طرب کے جلسے درد و الم کے منظر کیا کچھ نہ ہم نے دیکھا کہتی ہیں میری آنکھیں جب سے دل و جگر کی ہمدرد بن گئی ...
صدا کچھ ایسی مرے گوش دل میں آتی ہے کوئی بنائے کہن جیسے لڑکھڑاتی ہے رچا ہوا ہے فضاؤں میں ایک اتھاہ ہراس دماغ شل ہے مگر روح سنسناتی ہے مجھے یقین ہے آندھی کوئی اٹھی ہے کہیں کہ لو چراغ شبستاں کی تھرتھراتی ہے امید یاس کے گہرے خموش جنگل میں ہوائے شام کی مانند سرسراتی ہے سوال ہے غم ...