شاعری

وہ ہزار ہم پہ جفا سہی کوئی شکوہ پھر بھی روا نہیں

وہ ہزار ہم پہ جفا سہی کوئی شکوہ پھر بھی روا نہیں کہ جفا تو ان کی خطا نہیں جنہیں کوئی قدر وفا نہیں مری بد ظنی پہ یہ رنجشیں تو کسی بھی طور بجا نہیں کہ جہان عشق میں بد ظنی تو حضور جرم و خطا نہیں مرے عشق کو تری بے رخی ہی نصیب ہے تو یہی سہی تری بے رخی رہے شادماں مجھے بے رخی کا گلا ...

مزید پڑھیے

خود نظاروں پہ نظاروں کو ہنسی آتی ہے

خود نظاروں پہ نظاروں کو ہنسی آتی ہے باغبانوں پہ بہاروں کو ہنسی آتی ہے اب یہ کیوں ذکر بہاراں پہ چمن میں اکثر پھول تو پھول ہیں خاروں کو ہنسی آتی ہے مہر و اخلاص کی دنیا میں یہ کیا بات ہوئی آج یاروں ہی پہ یاروں کو ہنسی آتی ہے ایسی بے جان سی ہے میرے حریفوں کی ہنسی جیسے طوفاں پہ ...

مزید پڑھیے

ہنگامۂ آفات ادھر بھی ہے ادھر بھی

ہنگامۂ آفات ادھر بھی ہے ادھر بھی بربادیٔ حالات ادھر بھی ہے ادھر بھی ہونٹوں پہ تبسم کبھی پلکوں پہ ستارے یہ دل کی کرامات ادھر بھی ہے ادھر بھی بے چین اگر میں ہوں تو وہ بھی ہیں پریشاں در پردہ کوئی بات ادھر بھی ہے ادھر بھی آشفتگئ قلب و نظر چھپ نہ سکے گی اک محشر جذبات ادھر بھی ہے ...

مزید پڑھیے

جنون عشق کا جو کچھ ہوا انجام کیا کہئے

جنون عشق کا جو کچھ ہوا انجام کیا کہئے کسی سے اب یہ روداد دل ناکام کیا کہئے پھری کیوں کر نگاہ ساقیٔ گلفام کیا کہئے بھری محفل میں اسباب شکست جام کیا کہئے یہ کیسی دل میں ہے اک ظلمت بے نام کیا کہئے بجھا کیوں دفعتاً از خود چراغ شام کیا کہئے تغافل پر وہ دو حرف شکایت بھی قیامت ...

مزید پڑھیے

تنہائیوں میں اشک بہانے سے کیا ملا

تنہائیوں میں اشک بہانے سے کیا ملا خود کو دیا بنا کے جلانے سے کیا ملا مجھ سے بچھڑ کے ریت سا وہ بھی بکھر گیا اس جانے والے شخص کو جانے سے کیا ملا اب بھی مرے وجود میں ہر سانس میں وہی میں سوچتا ہوں اس کو بھلانے سے کیا ملا تو کیا گیا کہ دل مرا خاموش ہو گیا ان دھڑکنوں کے شور مچانے سے کیا ...

مزید پڑھیے

اک بند ہو گیا ہے تو کھولیں گے باب اور

اک بند ہو گیا ہے تو کھولیں گے باب اور ابھریں گے اپنی رات سے سو آفتاب اور روح بشر غلام ہے کوئی بھی ہو نظام اب بھی جہاں کو چاہئے کچھ انقلاب اور جب بھی بڑھی ہے تشنگی ملک‌ و عوام کی چھلکی ہے قصر شاہ میں تھوڑی شراب اور اخلاق کی نقاب میں لے کر ولی کا ڈھونگ نوچیں‌ گے میری لاش کو کتنے ...

مزید پڑھیے

ہم بھی گزر گئے یہاں کچھ پل گزار کے

ہم بھی گزر گئے یہاں کچھ پل گزار کے راتیں تھیں قرض کی یہاں دن تھے ادھار کے جیسے پرانا ہار تھا رشتہ ترا مرا اچھا کیا جو رکھ دیا تو نے اتار کے دل میں ہزار درد ہوں آنسو چھپا کے رکھ کوئی تو کاروبار ہو بن اشتہار کے کیا جانے اب بھی درد کو کیوں ہے مری تلاش ٹکڑے بھی اب کہاں بچے اس کے شکار ...

مزید پڑھیے

جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں

جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں جانے کس بات کی وہ ہم کو سزا دیتے ہیں حادثے جان تو لیتے ہیں مگر سچ یہ ہے حادثے ہی ہمیں جینا بھی سکھا دیتے ہیں رات آئی تو تڑپتے ہیں چراغوں کے لیے صبح ہوتے ہی جنہیں لوگ بجھا دیتے ہیں ہوش میں ہو کے بھی ساقی کا بھرم رکھنے کو لڑکھڑانے کی ہم افواہ ...

مزید پڑھیے

بکھرا ہوں جب میں خود یہاں کوئی مجھے گرائے کیوں

بکھرا ہوں جب میں خود یہاں کوئی مجھے گرائے کیوں پہلے سے راکھ راکھ ہوں پھر بھی کوئی بجھائے کیوں عیسیٰ نہ وہ نبیؐ کوئی ادنیٰ سا آدمی کوئی پھر بھی صلیب درد کو سر پہ کوئی اٹھائیں کیوں سارے جو غم گسار تھے کب کے رقیب بن چکے ایسے میں دوستوں کوئی اپنا یہ غم سنائے کیوں یکتا وہ ذات اکبری ...

مزید پڑھیے

وہی ہیں قتل و غارت اور وہی کہرام ہے ساقی

وہی ہیں قتل و غارت اور وہی کہرام ہے ساقی تمدن اور مذہب کی یہ خونی شام ہے ساقی کمال فن مرا اب تک نہاں ہے ایسے دنیا سے کہ جیوں عبدالحئی میں اک الف گمنام ہے ساقی میری گنگ و جمن تہذیب کی دختر ہے یہ اردو اسے مسلم بنانے کی یہ سازش آم ہے ساقی کریں گے امن کی باتیں دلوں میں بغض رکھیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4304 سے 4657