شاعری

زندگی میں پیار کا سودا کرو

زندگی میں پیار کا سودا کرو اچھا گاہک ہو تو بک جایا کرو پربتوں کے پار رہتا ہے وہ چاند جب اندھیرا ہو تو مل آیا کرو اس طرح تم کو جنوں ہو جائے گا شب گئے اٹھ اٹھ کے مت رویا کرو ایک دن وہ خود ہی بھاگا آئے گا رات جب سو جائے تم جاگا کرو دن ڈھلے کچھ اور گھبراتا ہے دل شام سے پہلے چلے آیا ...

مزید پڑھیے

اس چمن کا عجیب مالی ہے

اس چمن کا عجیب مالی ہے جس نے ہر شاخ کاٹ ڈالی ہے دن اجالا گنوا کے بیٹھ گیا رات نے روشنی چرا لی ہے غم کی عصمت بچی ہوئی تھی مگر وقت نے وہ بھی روند ڈالی ہے معجزہ ہو جو بچ نکل جائے پانچ شہباز ایک لالی ہے یہ ترا عدل کیا ہوا یا رب کوئی ادنیٰ ہے کوئی عالی ہے آنکھ میں چبھ گئے کئی منظر اب ...

مزید پڑھیے

گزرے جدھر سے نور بکھیرے چلے گئے

گزرے جدھر سے نور بکھیرے چلے گئے وہ ہم سفر ہوئے تو اندھیرے چلے گئے اب میں ہوں اور شدت غم کی ہے تیز دھوپ ان گیسوؤں کے سائے گھنیرے چلے گئے میرے تفکرات کو ڈستی رہی تھی جو ناگن چلی گئی وہ سپیرے چلے گئے امید کے شجر پہ وہ ہلچل نہیں رہی چڑیاں گئیں تو رین بسیرے چلے گئے اندھے سفر کو گھر ...

مزید پڑھیے

جستجو میں کمال کرتا جا

جستجو میں کمال کرتا جا تپتے صحراؤں سے گزرتا جا سرد آہوں سے دل کی آگ بجھا گرم اشکوں سے جام بھرتا جا آج میرا بھرم بھی رہ جائے اک اچٹتی نگاہ کرتا جا میری پہچان ہو جہاں سے الگ میرے خاکے میں رنگ بھرتا جا خود سے ملنے کی ہے اگر چاہت خوف کے جال کو کترتا جا تجھ کو حسرتؔ بنائے گی ...

مزید پڑھیے

گھونسلے راکھ ہو گئے جل کے

گھونسلے راکھ ہو گئے جل کے مٹ گئے سب نشان جنگل کے آگ برسا کے اڑ گیا بادل پر نکل آئے موئے بادل کے چیتھڑے اوڑھ کر جو سوتا ہوں خواب آتے ہیں مجھ کو مخمل کے سانپ ان سے لپٹ گئے اکثر ہم نے بوئے تھے پیڑ صندل کے جس میں انسانیت نہیں رہتی ہم درندے ہیں ایسے جنگل کے جو ہوا پر سوار ہو صاحب کب ...

مزید پڑھیے

زمانے ہو گئے تیرے کرم کی آس لگی

زمانے ہو گئے تیرے کرم کی آس لگی قریب مے کدہ صحرا سی مجھ کو پیاس لگی لہو رلاتے ہیں مجھ کو سہاونے منظر چٹکتی چاندنی تیرے بنا اداس لگی نہ اس میں مے ہے نہ پانی تو پیاس کیسے بجھے یہ زندگی مجھے ٹوٹا ہوا گلاس لگی یہ گرم گرم سے آنسو بتا رہے ہیں یہی ضرور آگ کہیں دل کے آس پاس لگی یہاں تو ...

مزید پڑھیے

اگر فقیر سے ملنا ہے تو سنبھل پہلے

اگر فقیر سے ملنا ہے تو سنبھل پہلے امیر بن کے نہ جا پیرہن بدل پہلے پڑے گی تجھ پہ سنہری کرن محبت کی حریم ذات کے جنگل سے خود نکل پہلے سلام کہنے کو آئے گی خود بخود منزل محبتوں کے کٹھن راستوں پہ چل پہلے جٹائیں کانچ کے بندے تو خوب ہیں لیکن تو خواہشوں پہ بھی جوگی بھبھوت مل پہلے شمار ...

مزید پڑھیے

اتنا بھی نہیں کرتے انکار چلے آؤ

اتنا بھی نہیں کرتے انکار چلے آؤ سو بار بلایا ہے اک بار چلے آؤ ہوں فاصلے نقشوں کے یا فرق ہوں شہروں کے دل سے تو نہیں دوری سرکار چلے آؤ اک منتظر وعدہ بیدار تو ہے کب سے ہو جائے مقدر بھی بیدار چلے آؤ اندیشۂ رسوائی کیوں راہ میں حائل ہو کر لیں گے زمانے کو ہموار چلے آؤ تا چند وہی رنجش ...

مزید پڑھیے

بیداد تغافل سے تو بڑھتا نہیں غم اور

بیداد تغافل سے تو بڑھتا نہیں غم اور میرے لئے سیکھو کوئی انداز ستم اور مغموم تو دونوں ہیں مگر فرق ہے اتنا ان کو کوئی غم اور ہے مجھ کو کوئی غم اور ظاہر میں جفاؤں پہ وہ شرمندہ ہیں لیکن نظریں یہی کہتی ہیں ابھی ہوں گے ستم اور ہر بات میں کرتے ہو جو تفریق من و تو اس کا تو یہ مطلب ہوا تم ...

مزید پڑھیے

جینے کے اگر چند سہارے بھی ملے ہیں

جینے کے اگر چند سہارے بھی ملے ہیں تو جان سے جانے کے اشارے بھی ملے ہیں ہر چند رہ عشق کے غم سخت ہیں لیکن اس راہ کے کچھ غم ہمیں پیارے بھی ملے ہیں کچھ اپنی وفاؤں سے جو امید تھی ہم کو کچھ ان کی نگاہوں کے سہارے بھی ملے ہیں اے راہرو راہ جنوں بھول نہ جانا اس راہ میں جی جان سے ہارے بھی ملے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4303 سے 4657