شاعری

ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے

ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے منہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گے کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں نہ کریں گے ہے ذہن میں اک بات تمہارے متعلق خلوت میں جو پوچھو گے تو پنہاں نہ کریں گے واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر افسوس یہ کافر کو ...

مزید پڑھیے

دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے

دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے اب کار عاشقی تو بہر کیف کر پڑے عشق بتاں کا دین پہ جو کچھ اثر پڑے اب تو نباہنا ہے جب اک کام کر پڑے مذہب چھڑایا عشوۂ دنیا نے شیخ سے دیکھی جو ریل اونٹ سے آخر اتر پڑے بیتابیاں نصیب نہ تھیں ورنہ ہم نشیں یہ کیا ضرور تھا کہ انہیں پر نظر پڑے بہتر یہی ہے ...

مزید پڑھیے

کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے

کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے چلی ہے کیسی ہوا الٰہی کہ ہر طبیعت میں برہمی ہے مری وفا میں ہے کیا تزلزل مری اطاعت میں کیا کمی ہے یہ کیوں نگاہیں پھری ہیں مجھ سے مزاج میں کیوں یہ برہمی ہے وہی ہے فضل خدا سے اب تک ترقی کار حسن و الفت نہ وہ ہیں مشق ستم میں قاصر نہ خون دل ...

مزید پڑھیے

زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق وفا (ردیف .. ھ)

زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق وفا یعنی یہ پردہ تو اٹھ سکتا ہے آسانی کے ساتھ گفتگوئے صورت و معنی ہے عنوان حیات کھیلتے ہیں وہ مری فطرت کی حیرانی کے ساتھ تم نے ہر ذرے میں برپا کر دیا طوفان شوق اک تبسم اس قدر جلووں کی طغیانی کے ساتھ دل کی آبادی ہے اخترؔ دل کی بربادی کا نام اک تعلق ...

مزید پڑھیے

خواب آسودگی سنہرا ہے

خواب آسودگی سنہرا ہے زندگی پر تو سخت پہرا ہے دھوپ نفرت کی بڑھ گئی لوگو اب محبت پہ چھایا گہرا ہے حق پرستوں کا نام آ تنگی سارے عالم میں جن کا شہرہ ہے ہو دکھاوا یا ہو عمل اچھا فیصلہ نیتوں پہ ٹھہرا ہے دور کتنے بھی تم رہو اخترؔ رشتہ دل سے تو دل کا گہرا ہے

مزید پڑھیے

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے خراب شوق رہے وقف انتظار رہے اب اور کیا ترے وعدوں کا اعتبار رہے میں راز عشق کو رسوا کروں معاذ اللہ یہ بات اور ہے دل پر نہ اختیار رہے چمن میں رکھ تو رہا ہوں بنا نشیمن کی خدا کرے کہ زمانہ بھی سازگار رہے جنوں کا رخ ...

مزید پڑھیے

حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے

حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے ترے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نے مجھی کو پردۂ ہستی میں دے رہا ہے فریب وہ حسن جس کو کیا جلوہ آفریں میں نے چٹک میں غنچے کی وہ صوت جاں فزا تو نہیں سنی ہے پہلے بھی آواز یہ کہیں میں نے رہین منزل وہم و گماں رہا اخترؔ اسی میں ڈھونڈھ لیا جادۂ یقیں ...

مزید پڑھیے

دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں

دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں وہ نگاہوں سے وار کرتے ہیں حال دل جب انہیں سناتا ہوں آنکھ وہ اشک بار کرتے ہیں ہم نے ان سے کبھی گلہ نہ کیا وہ تو شکوے ہزار کرتے ہیں آ بھی جاؤ کہ تاب ضبط نہیں ہر گھڑی انتظار کرتے ہیں آنکھ ان سے لڑی ہے جب اخترؔ گل و بلبل سا پیار کرتے ہیں

مزید پڑھیے

اجالوں کی نمائش ہو رہی ہے

اجالوں کی نمائش ہو رہی ہے اندھیروں سے بھی سازش ہو رہی ہے کوئی منصف نہیں شاید میسر ستم گر سے جو نالش ہو رہی ہے وہ مانے یا نہ مانے اس کی مرضی منانے کی تو کاوش ہو رہی ہے ستم گر سے کوئی پوچھے تو اتنا یہ مجھ پر کیوں نوازش ہو رہی ہے ادب کی روک کر تعمیر خود ہی ترقی کی گزارش ہو رہی ...

مزید پڑھیے

کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک

کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک سمجھے نہ کہ سیدھی ہے مری راہ کہاں تک منطق بھی تو اک چیز ہے اے قبلہ و کعبہ دے سکتی ہے کام آپ کی واللہ کہاں تک افلاک تو اس عہد میں ثابت ہوئے معدوم اب کیا کہوں جاتی ہے مری آہ کہاں تک کچھ صنعت و حرفت پہ بھی لازم ہے توجہ آخر یہ گورنمنٹ سے تنخواہ کہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4298 سے 4657