بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی
بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی گزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھی یہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پر ہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم راز تو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی خطا ...