شاعری

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی گزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھی یہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پر ہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم راز تو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی خطا ...

مزید پڑھیے

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا نہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا محبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دم بھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا پھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میں مگر عشق میں ہو گیا نام دل کا ہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میں خدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا یہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیں یہی لے ...

مزید پڑھیے

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے barely have I sipped a bit, why should this uproar be It's not that I've commited theft or daylight robbery نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے the preachers prattle can be to inexerience ascribed how does he know the joys thereof, has he ever imbibed اس ...

مزید پڑھیے

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا جو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا صبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہل کھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا تجربے نے حب دنیا سے سکھایا احتراز پہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا شیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیں دین کی خاطر سے ...

مزید پڑھیے

گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن

گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن ادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دن غضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کی عیاں ہے قدرت پروردگار عید کے دن سنبھل سکی نہ طبیعت کسی طرح میری رہا نہ دل پہ مجھے اختیار عید کے دن وہ سال بھر سے کدورت بھری جو تھی دل میں وہ دور ہو گئی بس ایک بار عید کے دن لگا لیا ...

مزید پڑھیے

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار ...

مزید پڑھیے

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی جوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی رنگ بنفشہ مٹ گیا سنبل تر نہیں رہا صحن چمن میں زینت نقش و نگار ہو چکی مستی لالہ اب کہاں اس کا پیالہ اب کہاں دور طرب گزر گیا آمد یار ہو چکی رت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئی تھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو ...

مزید پڑھیے

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے جو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہے اگرچہ سینے میں سانس بھی ہے نہیں طبیعت میں جان باقی اجل کو ہے دیر اک نظر کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمی چہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر ...

مزید پڑھیے

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتے سچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے کیوں ہم کو جلاتے ہو کہ ...

مزید پڑھیے

نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی

نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی زمیں ہماری بدل گئی ہے اگرچہ ہے آسمان باقی شب گزشتہ کے ساز و ساماں کے اب کہاں ہیں نشان باقی زبان شمع سحر پہ حسرت کی رہ گئی داستان باقی جو ذکر آتا ہے آخرت کا تو آپ ہوتے ہیں صاف منکر خدا کی نسبت بھی دیکھتا ہوں یقین رخصت گمان باقی فضول ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4299 سے 4657