شاعری

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا کہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہوا غریب دل نے بہت آرزوئیں پیدا کیں مگر نصیب کا لکھا کہ سب کا خون ہوا وہ اپنے حسن سے واقف میں اپنی عقل سے سیر انہوں نے ہوش سنبھالا مجھے جنون ہوا امید چشم مروت کہاں رہی باقی ذریعہ باتوں کا جب صرف ٹیلیفون ...

مزید پڑھیے

طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا

طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا گئے فرہاد و مجنوں اب کسی سے دل نہیں ملتا بھری ہے انجمن لیکن کسی سے دل نہیں ملتا ہمیں میں آ گیا کچھ نقص یا کامل نہیں ملتا پرانی روشنی میں اور نئی میں فرق اتنا ہے اسے کشتی نہیں ملتی اسے ساحل نہیں ملتا پہنچنا داد کو مظلوم کا مشکل ہی ہوتا ...

مزید پڑھیے

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی واعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی طیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہے صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی چمکا ترا جمال جو محفل میں وقت شام پروانہ بیقرار ہوا شمع جل گئی عقبیٰ کی باز پرس کا ...

مزید پڑھیے

نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے

نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے صدف میں رہتے یہ موتی تو بے بہا ہوتے مجھ ایسے رند سے رکھتے ضرور ہی الفت جناب شیخ اگر عاشق خدا ہوتے گناہ گاروں نے دیکھا جمال رحمت کو کہاں نصیب یہ ہوتا جو بے خطا ہوتے جناب حضرت ناصح کا واہ کیا کہنا جو ایک بات نہ ہوتی تو اولیا ہوتے مذاق عشق نہیں ...

مزید پڑھیے

انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف

انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف نظر اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف توجہ اپنی ہو کیا فن شاعری کی طرف نظر ہر ایک کی جاتی ہے عیب ہی کی طرف لکھا ہوا ہے جو رونا مرے مقدر میں خیال تک نہیں جاتا کبھی ہنسی کی طرف تمہارا سایہ بھی جو لوگ دیکھ لیتے ہیں وہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے پری کی ...

مزید پڑھیے

بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے

بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے نقد دل موجود ہے پھر کیوں نہ سودا لیجئے دل تو پہلے لے چکے اب جان کے خواہاں ہیں آپ اس میں بھی مجھ کو نہیں انکار اچھا لیجئے پاؤں پکڑ کر کہتی ہے زنجیر زنداں میں رہو وحشت دل کا ہے ایما راہ صحرا لیجئے غیر کو تو کر کے ضد کرتے ہیں کھانے میں شریک مجھ سے کہتے ...

مزید پڑھیے

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا اٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا وہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہوا پھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا قیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگے اگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا آرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہت نام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ...

مزید پڑھیے

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے منزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے کیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثبات ہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے دل نے دیکھا ہے بساط قوت ادراک کو کیا بڑھے اس بزم میں آنکھیں اٹھانے کے لیے خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب بدلیاں اٹھیں مگر ...

مزید پڑھیے

جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے

جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے گھنگھروؤں کی جانب در کچھ صدا آئی تو ہے عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے آپ کے سر کی قسم میرے سوا کوئی نہیں بے تکلف آئیے کمرے میں تنہائی تو ہے جب کہا میں نے تڑپتا ہے بہت اب دل مرا ہنس کے فرمایا تڑپتا ہوگا ...

مزید پڑھیے

تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے

تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے بلا کے پیچ میں آیا ہوا ہے نہ کیوں کر بوئے خوں نامے سے آئے اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے چلے دنیا سے جس کی یاد میں ہم غضب ہے وہ ہمیں بھولا ہوا ہے کہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا وہ تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے جفا ہو یا وفا ہم سب میں خوش ہیں کریں کیا اب تو دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4297 سے 4657