شاعری

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے ہاں اے نگاہ شوق ذرا دیکھ بھال کے پہنچے ہیں تا کمر جو ترے گیسوئے رسا معنی یہ ہیں کمر بھی برابر ہے بال کے بوس و کنار و وصل حسیناں ہے خوب شغل کمتر بزرگ ہوں گے خلاف اس خیال کے قامت سے تیرے صانع قدرت نے اے حسیں دکھلا دیا ہے حشر کو سانچے میں ڈھال ...

مزید پڑھیے

ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو

ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو جان دینے کو ہوں موجود کوئی بات تو ہو دل بھی حاضر سر تسلیم بھی خم کو موجود کوئی مرکز ہو کوئی قبلۂ حاجات تو ہو دل تو بے چین ہے اظہار ارادت کے لیے کسی جانب سے کچھ اظہار کرامات تو ہو دل کشا بادۂ صافی کا کسے ذوق نہیں باطن افروز کوئی پیر خرابات تو ...

مزید پڑھیے

حال دل میں سنا نہیں سکتا

حال دل میں سنا نہیں سکتا لفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا عشق نازک مزاج ہے بے حد عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا ہوش عارف کی ہے یہی پہچان کہ خودی میں سما نہیں سکتا پونچھ سکتا ہے ہم نشیں آنسو داغ دل کو مٹا نہیں سکتا مجھ کو حیرت ہے اس کی قدرت پر الم اس کو گھٹا نہیں سکتا

مزید پڑھیے

درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو

درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو بندگی حالت سے ظاہر ہے خدا ہو یا نہ ہو جھومتی ہے شاخ گل کھلتے ہیں غنچے دم بہ دم با اثر گلشن میں تحریک صبا ہو یا نہ ہو وجد میں لاتے ہیں مجھ کو بلبلوں کے زمزمے آپ کے نزدیک با معنی صدا ہو یا نہ ہو کر دیا ہے زندگی نے بزم ہستی میں شریک اس کا کچھ ...

مزید پڑھیے

جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا

جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا اب خشک مزاج آنکھیں بھی ہوئیں دل نے بھی مچلنا چھوڑ دیا ناوک فگنی سے ظالم کی جنگل میں ہے اک سناٹا سا مرغان خوش الحاں ہو گئے چپ آہو نے اچھلنا چھوڑ دیا کیوں کبر و غرور اس دور پہ ہے کیوں دوست فلک کو سمجھا ہے گردش سے یہ اپنی باز آیا یا رنگ ...

مزید پڑھیے

خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے

خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے کسی کو اس کی خبر نہیں ہے مریض کا دم نکل رہا ہے فنا اسی رنگ پر ہے قائم فلک وہی چال چل رہا ہے شکستہ و منتشر ہے وہ کل جو آج سانچے میں ڈھل رہا ہے یہ دیکھتے ہو جو کاسۂ سر غرور غفلت سے کل تھا مملو یہی بدن ناز سے پلا تھا جو آج مٹی میں گل رہا ...

مزید پڑھیے

خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے

خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے بھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادے لطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرم طبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادے کمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے بڑھ رہے ہیں سوار مشرق کی راہ میں ہیں تو مغربی ...

مزید پڑھیے

ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا

ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا نثار ہونے کی دو اجازت محل نہیں ہے نہیں نہیں کا اگر ہو ذوق سجود پیدا ستارہ ہو اوج پر جبیں کا نشان سجدہ زمین پر ہو تو فخر ہے وہ رخ زمیں کا صبا بھی اس گل کے پاس آئی تو میرے دل کو ہوا یہ کھٹکا کوئی شگوفہ نہ یہ کھلائے پیام لائی نہ ہو ...

مزید پڑھیے

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے

اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے ان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے ذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیط آپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے دیکھ لیتے جو انہیں تو مجھے رکھتے معذور شیخ صاحب مگر اس بزم میں جا ہی نہ سکے عقل مہنگی ہے بہت عشق خلاف تہذیب دل کو اس عہد میں ہم کام میں ...

مزید پڑھیے

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے اخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے دیکھو جسے وہ پانیر آفس میں ہے ڈٹا بہر خدا مجھے بھی کہیں چھاپ دیجئے چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں اخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کو طول شب فراق کو تو ناپ دیجئے سنتے نہیں ہیں شیخ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4296 سے 4657