شاعری

تو اگر دل نواز ہو جائے

تو اگر دل نواز ہو جائے سوز ہم رنگ ساز ہو جائے دل جو آگاہ راز ہو جائے ہر حقیقت مجاز ہو جائے لذت غم کا یہ تقاضا ہے مدت غم دراز ہو جائے نغمۂ عشق چھیڑتا ہوں میں زندگی نے نواز ہو جائے اس کی بگڑی بنے نہ کیوں اے عشق جس کا تو کارساز ہو جائے حسن مغرور ہے مگر توبہ عشق اگر بے نیاز ہو ...

مزید پڑھیے

کسی کے وعدۂ فردا پر اعتبار تو ہے

کسی کے وعدۂ فردا پر اعتبار تو ہے طلوع صبح قیامت کا انتظار تو ہے مری جگہ نہ رہی تیری بزم میں لیکن تری زباں پہ مرا ذکر ناگوار تو ہے متاع درد کو دل سے عزیز رکھتا ہوں کہ یہ کسی کی محبت کی یادگار تو ہے یہ اور بات کہ اقرار کر سکیں نہ کبھی مری وفا کا مگر ان کو اعتبار تو ہے مقام دل کوئی ...

مزید پڑھیے

محبت کیا محبت کا صلا کیا

محبت کیا محبت کا صلا کیا غم بربادئ جنس وفا کیا دل بے مدعا کا مدعا کیا ہمارا حال ہم سے پوچھنا کیا ہمیں دنیا میں اپنے غم سے مطلب زمانے کی خوشی سے واسطا کیا ستم ہائے فراواں چاہتا ہوں کرم کی آرزو کیا التجا کیا ہم اس کے اور اس کا غم ہمارا اس انداز کرم کا پوچھنا کیا رہا دل کو نہ اب ...

مزید پڑھیے

اب جام نگاہوں کے نشہ کیوں نہیں دیتے

اب جام نگاہوں کے نشہ کیوں نہیں دیتے اب بول محبت کے مزا کیوں نہیں دیتے تم کھول کے زلفوں کو اڑا کیوں نہیں دیتے تم شان گھٹاؤں کی گھٹا کیوں نہیں دیتے اک گھونٹ کی امید سمندر سے نہیں جب پھر آگ سمندر میں لگا کیوں نہیں دیتے ہے منتظر حشر بہت دیر سے دنیا گھنگھرو ترے پیروں کے صدا کیوں ...

مزید پڑھیے

میں پیٹ سے اپنے خود ہی کپڑا اٹھا رہا ہوں بتا رہا ہوں

میں پیٹ سے اپنے خود ہی کپڑا اٹھا رہا ہوں بتا رہا ہوں میں اپنے بچوں کو آج بھوکا سلا رہا ہوں بتا رہا ہوں بساط سے بڑھ کے خرچ خود کو کیا ہے میں نے مری خطا ہے اور اب میں چادر سے پاؤں اپنے چھپا رہا ہوں بتا رہا ہوں انا کو اپنی میں اپنے ہاتھوں سے ہار دوں گا یا مار دوں گا غرور کو اپنے خاک ...

مزید پڑھیے

کبھی صدیوں کو لمحہ مارتا ہے

کبھی صدیوں کو لمحہ مارتا ہے کبھی دریا کو قطرہ مارتا ہے کہیں پر ایک کو مجمعے نے مارا کہیں مجمعے کو تنہا مارتا ہے میں یہ فہم و فراست بیچ تو دوں مجھے دل کا کٹہرا مارتا ہے حوالے جب سے تیرے دل کیا ہے اسے تیرا حوالہ مارتا ہے تجھے گھر سے بھگا سکتا ہوں تیرے مگر بہنوں کا چہرہ مارتا ...

مزید پڑھیے

بھلا کشکول کے آگے یہ کاسہ کون کرتا ہے

بھلا کشکول کے آگے یہ کاسہ کون کرتا ہے ہو دل اپنا تو پھر دوجے کی آشا کون کرتا ہے یہاں ہم ہیں بھرے بیٹھے وہاں ان کو بھی غصہ ہے چلو پھر دیکھتے ہیں اب تماشا کون کرتا ہے تمہارا پیار ہے نہ جو سنو رتی برابر ہے یہ خود ہی دیکھ لو تولے کو ماشا کون کرتا ہے سنا ہے دونوں ہی اک دوسرے سے پیار ...

مزید پڑھیے

چلے تھے بھر کے ریت جب سفر کی جسم و جاں میں ہم

چلے تھے بھر کے ریت جب سفر کی جسم و جاں میں ہم تو ساحلوں کا عکس دیکھتے تھے بادباں میں ہم طیور تھے جو گھونسلوں میں پیکروں کے اڑ گئے اکیلے رہ گئے ہیں اپنے خواب کے مکاں میں ہم ہماری جستجو بھی اب تو ہو گئی ہے گرد گرد کہ نقش پا کو ڈھونڈتے ہیں رہ کے ہر نشاں میں ہم اشاریت تھی بے زباں تھا ...

مزید پڑھیے

بن کے ساحل کی نگاہوں میں تماشا ہم لوگ

بن کے ساحل کی نگاہوں میں تماشا ہم لوگ نقش پا ڈھونڈ رہے ہیں سر دریا ہم لوگ سائے چھوٹے تو پگھلنے لگے پھر دھوپ میں جسم کاش ہوتے نہ کبھی خود سے شناسا ہم لوگ ہم کو نفرت ہے اندھیروں سے مگر کیا کیجے کہ اجالوں سے بھی رکھتے نہیں رشتہ ہم لوگ کچھ نظر آتا نہیں جن میں دھندلکوں کے سوا کرتے ...

مزید پڑھیے

ہاتھوں سے میرے چھین کر دل کا مآل لے گئی

ہاتھوں سے میرے چھین کر دل کا مآل لے گئی جانے کہاں کہاں مجھے گردش حال لے گئی کام نہ کوئی آ سکا لیکن یہ آنکھ کی نمی سلسلۂ غبار سے مجھ کو نکال لے گئی موج ہوس کے دوش پر کوہ سیاہ تک گیا مجھ کو ہوائے شوق پھر تا بہ زوال لے گئی انگلیاں توڑے کوئی کر لے زبان سنگ کی دیکھیے سبقت شرف صوت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4240 سے 4657