شاعری

روح افسردہ طبیعت مری غم کوش ہوئی

روح افسردہ طبیعت مری غم کوش ہوئی زندگی اپنے ہی ماتم میں سیہ پوش ہوئی فکر فردا ہوئی یا فکر غم دوش ہوئی تیری یاد آئی کہ ہر بات فراموش ہوئی صحبت شیخ ہوئی صحبت مے نوش ہوئی جوش میں روح نہ پھر آئی جو مدہوش ہوئی زندگی ان کے فسانوں سے بھی اکتا سی گئی جو تھی سر تا بہ قدم گوش گراں گوش ...

مزید پڑھیے

اک راز غم دل جب خود رہ نہ سکا دل تک

اک راز غم دل جب خود رہ نہ سکا دل تک ہونے دو یہ رسوائی تم تک ہو کہ محفل تک افسانہ محبت کا پورا ہو تو کیسے ہو کچھ ہے دل قاتل تک کچھ ہے دل بسمل تک بس ایک نظر جس کی آتش زن محفل ہے وہ برق مجسم ہے محدود مرے دل تک یہ راہ محبت ہے سب اس میں برابر ہیں بھٹکے ہوئے راہی سے خضر رہ منزل تک ہے عزم ...

مزید پڑھیے

اک منتظر وعدہ کی شمع جلی ہوگی

اک منتظر وعدہ کی شمع جلی ہوگی سورج کے نکلنے سے کیا رات ڈھلی ہوگی بتلائیں ٹھکانا کیا چھٹے ہوئے گلشن میں گزرو گے تو دیکھو گے اک شاخ جلی ہوگی بس ایک تمنا ہو جس کے دل ویراں میں سوچو تو ذرا کتنے نازوں کی پلی ہوگی نکلے تری محفل سے تو ساتھ نہ تھا کوئی شاید مری رسوائی کچھ دور چلی ...

مزید پڑھیے

چلے بزم دوراں سے جب زہر پی کے

چلے بزم دوراں سے جب زہر پی کے بڑھے حوصلے اور بھی زندگی کے فسانوں سے میری ہی آوارگی کے معین ہوئے راستے زندگی کے زمانے کو دوں کیا کہ دامن میں میرے فقط چند آنسو ہیں وہ بھی کسی کے نگاہ کرم کی ضرورت نہیں ہے ذرا دیکھ لوں بے سہارے بھی جی کے ہیں مسرورؔ آنکھیں تمہاری جو پر نم بتاؤ یہ ...

مزید پڑھیے

دل کو شائستۂ احساس تمنا نہ کریں

دل کو شائستۂ احساس تمنا نہ کریں آپ اس انداز نظر سے مجھے دیکھا نہ کریں یک بہ یک لطف و عنایت کا ارادا نہ کریں آپ یوں اپنی جفاؤں کو تماشا نہ کریں ان کو یہ فکر ہے اب ترک تعلق کر کے کہ ہم اب پرسش احوال کریں یا نہ کریں ہاں مرے حال پہ ہنستے ہیں زمانے والے آپ تو واقف حالات ہیں ایسا نہ ...

مزید پڑھیے

نگاہ لطف کیا کم ہو گئی ہے

نگاہ لطف کیا کم ہو گئی ہے محبت اور محکم ہو گئی ہے طبیعت کشتۂ غم ہو گئی ہے چراغ بزم ماتم ہو گئی ہے مآل ضبط پیہم ہو گئی ہے مسرت حاصل غم ہو گئی ہے تمنا جب بڑھی ہے اپنی حد سے تو مایوسی کا عالم ہو گئی ہے نہ جانے کیوں عداوت ہی عداوت ہے سرشت ابن آدم ہو گئی ہے ہے محو رقص ہر برگ چمن ...

مزید پڑھیے

درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے

درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے زندگی بے مزا نہ ہو جائے ان تلون مزاجیوں کا شکار کوئی میرے سوا نہ ہو جائے لذت انتظار ہی نہ رہے کہیں وعدہ وفا نہ ہو جائے تیری رفتار اے معاذ اللہ حشر کوئی بپا نہ ہو جائے کامیابی ہی کامیابی ہو تو یہ بندہ خدا نہ ہو جائے میری بیتابیوں سے گھبرا کر کوئی مجھ ...

مزید پڑھیے

شریک حال دل بیقرار آج بھی ہے

شریک حال دل بیقرار آج بھی ہے کسی کی یاد مری غم گسار آج بھی ہے مجھے تو کل بھی نہ تھا ان پر اختیار کوئی اور ان کو مجھ پہ وہی اختیار آج بھی ہے تری طرف سے ظہور کرم نہیں نہ سہی ترے کرم کا مجھے اعتبار آج بھی ہے وہ رسم شوق کہاں اب مگر یہ عالم ہے کہ جیسے دل کو ترا انتظار آج بھی ہے کسی کا ...

مزید پڑھیے

محبت کا رگ و پے میں مری روح رواں ہونا

محبت کا رگ و پے میں مری روح رواں ہونا مبارک ہر نفس کو اک حیات جاوداں ہونا ہمارے دل کو آئے کس طرح پھر شادماں ہونا تری نظروں نے سیکھا ہی نہیں جب مہرباں ہونا ترے کوچہ میں ہونا اس پہ تیرا آستاں ہونا مبارک تیرے کوچے کی زمیں کو آسماں ہونا یہ حالت ہے کہ بیداری بھی ہے اک خواب کا ...

مزید پڑھیے

وہ کیا گئے پیام سفر دے گئے مجھے

وہ کیا گئے پیام سفر دے گئے مجھے اک جذبۂ جنون اثر دے گئے مجھے ہر سمت دیکھتی ہے جو ان کے جمال کو وہ اک نگاہ جلوہ نگر دے گئے مجھے ہر چند کرب مرگ ہے محسوس ہر نفس لطف حیات عشق مگر دے گئے مجھے تصویر حزن و یاس بنا کر چلے گئے لب ہائے خشک و دیدۂ تر دے گئے مجھے بیدار کر گئے سحر و شام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4239 سے 4657