شاعری

تم ثروت کو پڑھتی ہو

تم ثروت کو پڑھتی ہو کتنی اچھی لڑکی ہو بات نہیں سنتی ہو کیوں غزلیں بھی تو سنتی ہو کیا رشتہ ہے شاموں سے سورج کی کیا لگتی ہو لوگ نہیں ڈرتے رب سے تم لوگوں سے ڈرتی ہو میں تو جیتا ہوں تم میں تم کیوں مجھ پہ مرتی ہو آدم اور سدھر جائے تم بھی حد ہی کرتی ہو کس نے جینس کری ممنوع پہنو اچھی ...

مزید پڑھیے

ادائے عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں میں

ادائے عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں میں خود اپنے ساتھ ہوں یعنی خدا کے ساتھ ہوں میں مجاوران ہوس تنگ ہیں کہ یوں کیسے بغیر شرم و حیا بھی حیا کے ساتھ ہوں میں سفر شروع تو ہونے دے اپنے ساتھ مرا تو خود کہے گا یہ کیسی بلا کے ساتھ ہوں میں میں چھو گیا تو ترا رنگ کاٹ ڈالوں گا سو اپنے آپ سے ...

مزید پڑھیے

من جس کا مولا ہوتا ہے

من جس کا مولا ہوتا ہے وہ بالکل مجھ سا ہوتا ہے آنکھیں ہنس کر پوچھ رہی ہیں نیند آنے سے کیا ہوتا ہے مٹی کی عزت ہوتی ہے پانی کا چرچا ہوتا ہے جانتا ہوں منصور کو بھی میں اپنے ہی گھر کا ہوتا ہے اچھی لڑکی ضد نہیں کرتے دیکھو عشق برا ہوتا ہے وحشت کا اک گر ہے جس میں قیس اپنا بچہ ہوتا ...

مزید پڑھیے

جناب شیخ کی ہرزہ سرائی جاری ہے

جناب شیخ کی ہرزہ سرائی جاری ہے ادھر سے ظلم ادھر سے دہائی جاری ہے بچھڑ گیا ہوں مگر یاد کرتا رہتا ہوں کتاب چھوڑ چکا ہوں پڑھائی جاری ہے ترے علاوہ کہیں اور بھی ملوث ہوں تری وفا سے مری بے وفائی جاری ہے وہ کیوں کہیں گے کہ دونوں میں امن ہو جائے ہماری جنگ سے جن کی کمائی جاری ہے عجیب ...

مزید پڑھیے

پرائی نیند میں سونے کا تجربہ کر کے

پرائی نیند میں سونے کا تجربہ کر کے میں خوش نہیں ہوں تجھے خود میں مبتلا کر کے اصولی طور پہ مر جانا چاہیے تھا مگر مجھے سکون ملا ہے تجھے جدا کر کے یہ کیوں کہا کہ تجھے مجھ سے پیار ہو جائے تڑپ اٹھا ہوں ترے حق میں بد دعا کر کے میں چاہتا ہوں خریدار پر یہ کھل جائے نیا نہیں ہوں رکھا ہوں ...

مزید پڑھیے

خواب کا خواب حقیقت کی حقیقت سمجھیں

خواب کا خواب حقیقت کی حقیقت سمجھیں یہ سمجھنا ہے تو پھر پہلے طریقت سمجھیں میں جواباً بھی جنہیں گالی نہیں دیتا وہ لوگ میری جانب سے اسے خاص محبت سمجھیں میں تو مر کر بھی نہ بیچوں گا کبھی یار کا نام آپ تاجر ہیں نمائش کو عبادت سمجھیں میں کسی بیچ کے رستے سے نہیں پہنچا یہاں حاسدوں سے ...

مزید پڑھیے

میں جب وجود کے حیرت کدے سے مل رہا تھا

میں جب وجود کے حیرت کدے سے مل رہا تھا مجھے لگا میں کسی معجزے سے مل رہا تھا میں جاگتا تھا کہ جب لوگ سو چکے تھے تمام چراغ مجھ سے مرے تجربے سے مل رہا تھا ہوس سے ہوتا ہوا آ گیا میں عشق کی سمت یہ سلسلہ بھی اسی راستے سے مل رہا تھا خدا سے پہلی ملاقات ہو رہی تھی مری میں اپنے آپ کو جب سامنے ...

مزید پڑھیے

اک ہجرت کی آوازوں کا

اک ہجرت کی آوازوں کا کوئی بین سنے دروازوں کا زکریا پیڑوں کی مت سن یہ جنگل ہے خمیازوں کا ترے سر میں سوز نہیں پیارے تو اہل نہیں مرے سازوں کا اوروں کو صلاحیں دیتا ہے کوئی ڈسا ہوا اندازوں کا مرا نخرہ کرنا بنتا ہے میں غازی ہوں ترے غازوں کا اک ریڑھی والا منکر ہے تری توپوں اور ...

مزید پڑھیے

اف ادائیں دکھا رہی ہیں وہ

اف ادائیں دکھا رہی ہیں وہ مسکرا کر ستا رہی ہیں وہ ہم فقیرو کی اپنے کوچے میں ایک محفل سجا رہی ہیں وہ کب سے نظریں بچائے بیٹھے ہیں یہ خبر ہے کہ آ رہی ہیں وہ ہے گہن چاند کو لگا دیکھا رخ سے پردہ اٹھا رہی ہیں وہ سارے عالم میں پھیلی بے چینی زلف بکھرائے جا رہی ہیں وہ زلف ماتھے پہ ...

مزید پڑھیے

وہ حسن بے مثال کہاں جلوہ گر نہیں

وہ حسن بے مثال کہاں جلوہ گر نہیں اپنا قصور ہے ہمیں تاب نظر نہیں سنتے ہیں چاند رات کو آیا تھا بام تک پھر اس کے بعد کیا ہوا کچھ بھی خبر نہیں اس کے سراپا حسن کی تعریف کیا کریں سر تا قدم پری ہے فقط اس کے پر نہیں بکھرے ہوئے ہیں بال ستاروں کی چھاؤں میں سجدے میں گر پڑیں گے ستارے یہ در ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4214 سے 4657