شاعری

تیری زلفوں کے پیچ و خم کی قسم

تیری زلفوں کے پیچ و خم کی قسم چین سے ہیں تیرے ستم کی قسم جس نے دیکھیں سو دل گنوا بیٹھا تیری آنکھیں وہ جام جم کی قسم ہم تو دیکھا کیے تھے حسرت سے سرخیٔ لب کو چشم نم کی قسم لڑکھڑانا ہے ان کی فطرت میں کون کھائے تیرے قدم کی قسم جانے کب پی تھی پر نشہ نہ گیا میرے ساقی تیرے کرم کی ...

مزید پڑھیے

تیرے وعدے پہ اعتبار کیا

تیرے وعدے پہ اعتبار کیا مضطرب دل نے بار بار کیا ہم نے تو اس جہان فانی میں ہو سکا جتنا انتظار کیا اس کو آنہ ہے آئے گا لیکن کب قضا نے خیال یار کیا دامن عشق وقت نے آخر دیکھ تو کیسا تار تار کیا دل کے خس خانے جب سلگنے لگے ہم نے آنکھوں کو آبشار کیا تیری مجبوریاں رہی ہوں گی ٹھیک ہے ہم ...

مزید پڑھیے

ہجر بنا آزار سفر کیسے کٹتا

ہجر بنا آزار سفر کیسے کٹتا عشق کے روگ ہزار سفر کیسے کٹتا دھوپ کا بوجھ سروں پر آخر آن گرا ختم ہوئے اشجار سفر کیسے کٹتا کیا بتلائیں اپنی خالی جھولی میں سانسیں تھیں دو چار سفر کیسے کٹتا دیکھتے دیکھتے نظروں سے معدوم ہوئے رستوں کے آثار سفر کیسے کٹتا پیچھے بے حس دن کے خوف تھا اور ...

مزید پڑھیے

اپنی دیوار اپنے در والے

اپنی دیوار اپنے در والے ہم صبا زاد تھے سحر والے یہ اڑانیں پروں پہ لکھی ہیں ہم پرندے نہیں شجر والے کھل رہا ہے شگاف صبح فلک شب کے وقفے نہیں ہیں ڈر والے کیا خدا آئے گا زمیں پر اب کھو گئے کس جگہ ہنر والے مل بھی جاتے تو رک نہیں پاتے ہم سفر والے تم سفر والے

مزید پڑھیے

میری املاک سمجھ بے سر و سامانی کو

میری املاک سمجھ بے سر و سامانی کو ایک مدت سے میں لاحق ہوں پریشانی کو اب یہ معمول کے غم مجھ کو رلانے سے رہے سانحے چاہئیں اشکوں کی فراوانی کو لوٹ آئے گی جو افلاک سے فریاد مری کون بخشے گا سند میری ثنا خوانی کو پیش منظر بھی وہی تھا جو پس ذات رہا غم کی میراث ملی آنکھ کی حیرانی ...

مزید پڑھیے

یہ کیا کہ خلق کو پورا دکھائی دیتا ہوں

یہ کیا کہ خلق کو پورا دکھائی دیتا ہوں مگر میں خود کو ادھورا سجھائی دیتا ہوں اجل کو جا کے گریبان سے پکڑ لائے میں زندگی کو وہاں تک رسائی دیتا ہوں میں اپنے جسم کے سب منقسم حوالوں کو بنام رزق سخن کی کمائی دیتا ہوں وہ زندگی میں مجھے پھر کبھی نہیں ملتا میں اپنے خوابوں سے جس کو رہائی ...

مزید پڑھیے

تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں عطائے کشف کے اتمام ہو جانے سے ڈرتا ہوں زمین و عرش کے باہم تعلق کے تناظر میں زمین و عرش کا ادغام ہو جانے سے ڈرتا ہوں کبھی سب کر گزرنے کا جنوں بے چین رکھتا ہے کبھی یوں بھی ہوا سب کام ہو جانے سے ڈرتا ہوں محبت ارتباط قلب سے مشروط ہوتی ہے یقین و ...

مزید پڑھیے

خسارہ در خسارہ کر لیا جائے

خسارہ در خسارہ کر لیا جائے جنوں کو استعارہ کر لیا جائے یہ نقطہ بھی قرین مصلحت ہے عداوت کو گوارہ کر لیا جائے درون دل یم افسردگی ہے کوئی تنکا سہارا کر لیا جائے سخن ہائے برائے گفتنی سے غزل کو شاہپارہ کر لیا جائے سر آب رواں صحرا بچھا کر سرابوں سے کنارہ کر لیا جائے ضیا آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

در شہی سے در گدائی پہ آ گیا ہوں

در شہی سے در گدائی پہ آ گیا ہوں میں نرم بستر سے چارپائی پہ آ گیا ہوں بدن کی ساری تمازتیں ماند پڑ رہی ہیں وہ بے بسی ہے کہ پارسائی پہ آ گیا ہوں نہیں ہے چہرے کا حال پڑھنے کی خو کسی میں سکوت توڑا ہے لب کشائی پہ آ گیا ہوں حصول گنج عطائے غیبی کے واسطے اب صفات ربی کی جبہ سائی پہ آ گیا ...

مزید پڑھیے

حسب مقصود ہو گیا ہوں میں

حسب مقصود ہو گیا ہوں میں راکھ کا دود ہو گیا ہوں میں ایک کمرے تلک بصیرت ہے کتنا محدود ہو گیا ہوں میں نام پہلے برائے نام تو تھا اب تو مفقود ہو گیا ہوں میں یوں کھنچے مفلسی میں سب رشتے جیسے مردود ہو گیا ہوں میں منفعت بانٹتا رہا کل تک آج بے سود ہو گیا ہوں میں شہر رد و قبول میں آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4215 سے 4657