غفلت میں سویا اب تلک پھر ہووے گا ہشیار کب
غفلت میں سویا اب تلک پھر ہووے گا ہشیار کب یاری لگایا خلق سوں پاوے گا اپنا یار کب جھوٹی محبت باندھ کر غافل رہا اپنے سوں حیف بلبل ہوں سنپڑا دام میں دیکھے گا پھر گل زار کب یہ خواب و خور فرزند و زن اور مال و زر زنداں ہوا تو چھوٹ کر اس قید سوں حاصل کرے دیدار کب حرص و ہوا بغض و حسد کبر ...