شاعری

دل کو درد آشنا کیا تو نے

دل کو درد آشنا کیا تو نے درد دل کو دوا کیا تو نے طبع انساں کو دی سرشت وفا خاک کو کیمیا کیا تو نے وصل جاناں محال ٹھہرایا قتل عاشق روا کیا تو نے تھا نہ جز غم بساط عاشق میں غم کو راحت فزا کیا تو نے جان تھی اک وبال فرقت میں شوق کو جاں گزا کیا تو نے تھی محبت میں ننگ منت غیر جذب دل کو ...

مزید پڑھیے

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

دھوم تھی اپنی پارسائی کی کی بھی اور کس سے آشنائی کی کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہت ہم کو طاقت نہیں جدائی کی منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سے تم کو عادت ہے خود نمائی کی لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیں صلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی ملتے غیروں سے ہو ملو لیکن ہم سے باتیں کرو صفائی کی دل رہا پائے بند ...

مزید پڑھیے

رنج اور رنج بھی تنہائی کا

رنج اور رنج بھی تنہائی کا وقت پہنچا مری رسوائی کا عمر شاید نہ کرے آج وفا کاٹنا ہے شب تنہائی کا تم نے کیوں وصل میں پہلو بدلا کس کو دعویٰ ہے شکیبائی کا ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم شوق تھا بادیہ پیمائی کا اس سے نادان ہی بن کر ملیے کچھ اجارہ نہیں دانائی کا سات پردوں میں نہیں ٹھہرتی ...

مزید پڑھیے

حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے

حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے کب ملیں دلبر سے دیکھا چاہئے ہے تجلی بھی نقاب روئے یار اس کو کن آنکھوں سے دیکھا چاہئے غیر ممکن ہے نہ ہو تاثیر غم حال دل پھر اس کو لکھا چاہئے ہے دل افگاروں کی دل داری ضرور گر نہیں الفت مدارا چاہئے ہے کچھ اک باقی خلش امید کی یہ بھی مٹ جائے تو پھر کیا ...

مزید پڑھیے

ہواؤں میں دلوں کا کارواں ہے

ہواؤں میں دلوں کا کارواں ہے مقدس عشق جب سے مہرباں ہے مرے دل کو سکوں آیا یہیں پر بڑا مخصوص تیرا آستاں ہے وہ مجھ سے دور جائے گا بھی کیسے جو میری روح کے اندر نہاں ہے محبت کے سفر پر جاؤ لیکن وہاں ہر موڑ پر اک امتحاں ہے مرے دل پر اسی کی ہے حکومت لکیروں میں مری جس کا نشاں ہے چھپا ...

مزید پڑھیے

خوابوں کی بات آنکھوں سے ٹالی نہیں گئی

خوابوں کی بات آنکھوں سے ٹالی نہیں گئی اک شب بھی میری خام خیالی نہیں گئی اس کا ہی ساتھ مجھ کو میسر نہیں ہوا یوں تو مری دعا کبھی خالی نہیں گئی مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی اکیلا رہا مگر چھوٹی سی بات دل سے نکالی نہیں گئی ساتھ اپنے میری نیند بھی لے کر چلا گیا جب سے گیا وہ آنکھ کی لالی نہیں ...

مزید پڑھیے

ہر اک رشتہ بکھرا بکھرا کیوں لگتا ہے

ہر اک رشتہ بکھرا بکھرا کیوں لگتا ہے اس دنیا میں سب کچھ جھوٹا کیوں لگتا ہے میرا دل کیوں سمجھ نہ پایہ ان باتوں کو جو ویسا ہوتا ہے ایسا کیوں لگتا ہے جو یادیں اکثر تڑپاتی ہے اس دل کو ان یادوں کا دل میں میلا کیوں لگتا ہے اس کو فکر وہ سب سے بڑا کیسے ہو جائے میں سوچوں وہ اتنا چھوٹا کیوں ...

مزید پڑھیے

جہاں میں ہر بشر مجبور ہو ایسا نہیں ہوتا

جہاں میں ہر بشر مجبور ہو ایسا نہیں ہوتا ہر اک راہی سے منزل دور ہو ایسا نہیں ہوتا تعلق ٹوٹنے کا غم کبھی ہم سے بھی پوچھو تم تمہارا زخم ہی ناسور ہو ایسا نہیں ہوتا گواہوں کو تو بک جانے کی مجبوری رہی ہوگی ہمیں بھی فیصلہ منظور ہو ایسا نہیں ہوتا محبت جرم ہے تو پھر سزا بھی ایک جیسی ...

مزید پڑھیے

زمانے بھر سے جدا اور با کمال کوئی

زمانے بھر سے جدا اور با کمال کوئی مرے خیالوں میں رہتا ہے بے مثال کوئی نہ جانے کتنی ہی راتوں کا جاگنا ٹھہرا مرے وجود سے الجھا ہے جب خیال کوئی تمہیں بتاؤ کہ پھر گفتگو سے کیا حاصل جواب ہونے کی ضد کر لے جب سوال کوئی کرم کے بخش دیا تو نے مشکلوں کا پہاڑ اب اس پہاڑ سے رستہ مگر نکال ...

مزید پڑھیے

مشکل کو سمجھنے کا وسیلہ نکل آتا

مشکل کو سمجھنے کا وسیلہ نکل آتا تم بات تو کرتے کوئی رستہ نکل آتا گھر سے جو مرے سونا یا پیسہ نکل آتا کس کس سے مرا خون کا رشتہ نکل آتا میرے لئے اے دوست بس اتنا ہی بہت تھا جیسا تجھے سوچا تھا تو ویسا نکل آتا میں جوڑ تو دیتا تری تصویر کے ٹکڑے مشکل تھا کہ وو پہلا سا چہرہ نکل آتا بس اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4185 سے 4657