شاعری

خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سدا

خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سدا گھر عبث ہو پوچھتے مجھ خانماں برباد کا عشق قد یار میں کیا ناتوانی کا ہے زور غش مجھے آیا جو سایہ پڑ گیا شمشاد کا خود فراموشی تمہاری غیر کے کام آ گئی یاد رکھیے گا ذرا بھولے سے کہنا یاد کا خط لکھا کرتے ہیں اب وہ یک قلم مجھ کو شکست پیچ سے دل توڑتے ہیں ...

مزید پڑھیے

صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیا

صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیا مرغ سحر کے بولتے ہی دم نکل گیا دامن پہ لوٹنے لگے گر گر کے طفل اشک روئے فراق میں تو دل اپنا بہل گیا دشمن بھی گر مرے تو خوشی کا نہیں محل کوئی جہاں سے آج گیا کوئی کل گیا صورت رہی نہ شکل نہ غمزہ نہ وہ ادا کیا دیکھیں اب تجھے کہ وہ نقشا بدل گیا قاصد کو اس ...

مزید پڑھیے

ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتی

ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتی پوشاک جو پہنے ہے مرا یار بسنتی کیا فصل بہاری نے شگوفے ہیں کھلائے معشوق ہیں پھرتے سر بازار بسنتی گیندا ہے کھلا باغ میں میدان میں سرسوں صحرا وہ بسنتی ہے یہ گل زار بسنتی اس رشک مسیحا کا جو ہو جائے اشارہ آنکھوں سے بنے نرگس بیمار بسنتی گیندوں کے ...

مزید پڑھیے

دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورت

دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورت استادہ ہیں ہم باغ میں شمشاد کی صورت یاد آتی ہے بلبل پہ جو بیداد کی صورت رو دیتا ہوں میں دیکھ کے صیاد کی صورت آزاد ترے اے گل تر باغ جہاں میں بے جاہ و حشم شاد ہیں شمشاد کی صورت جو گیسوئے جاناں میں پھنسا پھر نہ چھٹا وہ ہیں قید میں پھر خوب ہے میعاد کی ...

مزید پڑھیے

الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آج

الجھا دل ستم زدہ زلف بتاں سے آج نازل ہوئی بلا مرے سر پر کہاں سے آج تڑپوں گا ہجر یار میں ہے رات چودھویں تن چاندنی میں ہوگا مقابل کتاں سے آج دو چار رشک ماہ بھی ہم راہ چاہئیں وعدہ ہے چاندنی میں کسی مہرباں سے آج ہنگام وصل رد و بدل مجھ سے ہے عبث نکلے گا کچھ نہ کام نہیں اور ہاں سے ...

مزید پڑھیے

بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سب

بانی جور و جفا ہیں ستم ایجاد ہیں سب راحت جاں کوئی دلبر نہیں جلاد ہیں سب کبھی طوبیٰ ترے قامت سے نہ ہوگا بالا باتیں کہنے کی یہ اے غیرت شمشاد ہیں سب مژہ و ابرو و چشم و نگہ و غمزہ و ناز حق جو پوچھو تو مری جان کے جلاد ہیں سب سرو کو دیکھ کے کہتا ہے دل بستۂ زلف ہم گرفتار ہیں اس باغ میں ...

مزید پڑھیے

بھولا ہوں میں عالم کو سرشار اسے کہتے ہیں

بھولا ہوں میں عالم کو سرشار اسے کہتے ہیں مستی میں نہیں غافل ہشیار اسے کہتے ہیں گیسو اسے کہتے ہیں رخسار اسے کہتے ہیں سنبل اسے کہتے ہیں گلزار اسے کہتے ہیں اک رشتۂ الفت میں گردن ہے ہزاروں کی تسبیح اسے کہتے ہیں زنار اسے کہتے ہیں محشر کا کیا وعدہ یاں شکل نہ دکھلائی اقرار اسے کہتے ...

مزید پڑھیے

رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرح

رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرح گرہ میں رکھتے ہیں ہم آبرو گہر کی طرح سنی صفت کسی خوش چشم کی جو مردم سے خیال دوڑ گیا آنکھ پر نظر کی طرح چھپی نہ خلق خدا سے حقیقت خط شوق اڑا جہاں میں کبوتر مرا خبر کی طرح سوائے یار نہ دیکھا کچھ اور عالم میں سما گیا وہ مری آنکھ میں نظر کی طرح عدم ...

مزید پڑھیے

بام سے ڈھل چکا ہے آدھا دن

بام سے ڈھل چکا ہے آدھا دن کس سے ملنے چلا ہے آدھا دن تم جو چاہو تو رک بھی سکتا ہے ورنہ کس سے رکا ہے آدھا دن جھانکتی شام کے کنارے پر مجھ سے پھر لڑ پڑا ہے آدھا دن اس نے دیکھا جہاں پلٹ کے مجھے بس وہیں رک گیا ہے آدھا دن آس کی آہٹیں جگائے ہوئے کھڑکیوں میں سجا ہے آدھا دن دھوپ کی ریشمیں ...

مزید پڑھیے

غزل گوئی کے فن کا یوں کبھی اظہار ہوتا ہے

غزل گوئی کے فن کا یوں کبھی اظہار ہوتا ہے محبت دل سے ہوتی ہے نظر سے پیار ہوتا ہے تصادم دو نگاہوں کا بھی کیا کیا گل کھلاتا ہے صمیم قلب سے پھر عشق کا اقرار ہوتا ہے محبت کرنے والوں کا حسین انجام کیا جانو شگفتہ پھول کھلتے ہیں گل گلزار ہوتا ہے وہ جس سے پیار کرتا ہے اسی کی چاہ میں ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4175 سے 4657