خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سدا
خانۂ زنجیر کا پابند رہتا ہوں سدا گھر عبث ہو پوچھتے مجھ خانماں برباد کا عشق قد یار میں کیا ناتوانی کا ہے زور غش مجھے آیا جو سایہ پڑ گیا شمشاد کا خود فراموشی تمہاری غیر کے کام آ گئی یاد رکھیے گا ذرا بھولے سے کہنا یاد کا خط لکھا کرتے ہیں اب وہ یک قلم مجھ کو شکست پیچ سے دل توڑتے ہیں ...