شاعری

لاکھ تیری ہی طرح کیوں نہ پرایا ہوتا

لاکھ تیری ہی طرح کیوں نہ پرایا ہوتا تجھ سا کوئی تو مرے دھیان میں آیا ہوتا وقت کے ساتھ تو چلتا ہے زمانہ سارا وقت کے ساتھ مری طرح نبھایا ہوتا میں ترے شہر میں تنہا ہوں نہ جانے کب سے تو نہ ہوتا تری دیوار کا سایا ہوتا کھلکھلاتے ہوئے لمحوں سے لپٹنے والو روٹھنے والی رتوں کو بھی منایا ...

مزید پڑھیے

کہیں سانحے ملیں گے کہیں حادثہ ملے گا

کہیں سانحے ملیں گے کہیں حادثہ ملے گا ترے شہر کی فضا سے مجھے اور کیا ملے گا کوئی سنگ توڑنے ہے سر راہ زندگانی میں ہر اک سے پوچھتا ہوں کہیں آئنا ملے گا تری جان بخش دینا مری مصلحت کا جز ہے مرے قاتلوں سے اک دن ترا سلسلہ ملے گا مرے قتل کی حقیقت نہ چھپا سکے گا کوئی مرے قاتلوں کے گھر میں ...

مزید پڑھیے

حیراں میں پہلی بار ہوا زندگی میں کل

حیراں میں پہلی بار ہوا زندگی میں کل اپنی جھلک دکھائی پڑی تھی کسی میں کل ماحول میں سجا کے اندھیروں کا اک فریب جگنو کو میں نے دیکھ لیا روشنی میں کل اچھے نہیں کہ حال پہ ماضی کا ہو اثر نہ پوچھ آج جو بھی ہوا بے کلی میں کل کوثر کی موج شکر کے سجدے میں گر پڑے کیا جانے میں نے کیا کہا تشنہ ...

مزید پڑھیے

میرا خط لکھ کے بلانا اسے اچھا نہ لگا

میرا خط لکھ کے بلانا اسے اچھا نہ لگا اس طرح پیار جتانا اسے اچھا نہ لگا کہہ کے ٹھوکر وہ تو راہوں میں گرا تھا لیکن میرا یوں ہاتھ بڑھانا اسے اچھا نہ لگا رہنے والی تھی وہ محلوں کی اسی کی خاطر میرا چھوٹا سا ٹھکانا اسے اچھا نہ لگا سن لیا پہلے تو ہنس ہنس کے فسانہ عنبرؔ پھر یہ بولی یہ ...

مزید پڑھیے

آئینہ دیکھ کر نہ تو شیشے کو دیکھ کر

آئینہ دیکھ کر نہ تو شیشے کو دیکھ کر حیران دل ہے آپ کے چہرے کو دیکھ کر یہ واقعہ بھی خوب سر رہ گزر ہوا پتھر نے منہ چھپا لیے شیشے کو دیکھ کر بازار سے گزرتے ہوئے لگ رہا ہے ڈر بچہ مچل نہ جائے کھلونے کو دیکھ کر جگنو کی کوششوں سے سحر کیسے ہو گئی حیران ہیں اندھیرے اجالے کو دیکھ کر سچ ...

مزید پڑھیے

گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفید

گر پڑے دانت ہوئے موئے سر اے یار سفید کیوں نہ ہو خوف اجل سے یہ سیہ کار سفید دو قدم فرط نزاکت سے نہیں چل سکتا رنگ ہو جاتا ہے اس کا دم رفتار سفید اس مسیحا کی جو آنکھیں ہوئیں گلزار میں سرخ ہو گئی خوف سے بس نرگس بیمار سفید گل نسریں کو نہیں جوش چمن میں بلبل ہے نزاکت کے سبب چہرۂ گلزار ...

مزید پڑھیے

زمزمہ کس کی زباں پر بہ دل شاد آیا

زمزمہ کس کی زباں پر بہ دل شاد آیا منہ نہ کھولا تھا کہ پر باندھنے صیاد آیا قد جو بوٹا سا ترا سرو رواں یاد آیا غش پہ غش مجھ کو چمن میں تہ شمشاد آیا لے اڑی دل کو سوئے دشت ہوائے وحشت پھر یہ جھونکا مجھے کر دینے کو برباد آیا کس قدر دل سے فراموش کیا عاشق کو نہ کبھی آپ کو بھولے سے بھی میں ...

مزید پڑھیے

لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیں

لطف اب زیست کا اے گردش ایام نہیں مے نہیں یار نہیں شیشہ نہیں جام نہیں کب مجھے یاد رخ و زلف سیہ فام نہیں کوئی شغل اس کے سوا صبح سے تا شام نہیں ہر سخن پر مجھے دیتا ہے وہ بد خو دشنام کون سی بات مری قابل انعام نہیں نیک نامی میں دلا فرقۂ عشاق ہیں عشق ہے وہ بدنام محبت میں جو بدنام ...

مزید پڑھیے

روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیا

روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیا دشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیا چٹکیاں دل میں مرے لینے لگا ناخن عشق گلبدن دیکھ کے اس گل کا بدن یاد آیا وہم ہی وہم میں اپنی ہوئی اوقات بسر کمر یار کو بھولے تو دہن یاد آیا برگ گل دیکھ کے آنکھوں میں ترے پھر گئے لب غنچہ چٹکا تو مجھے لطف سخن یاد ...

مزید پڑھیے

آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہوا

آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہوا انگشتری بنا مرا تن وہ نگیں ہوا رونق فزا لحد پہ جو وہ مہ جبیں ہوا گنبد ہماری قبر کا چرخ بریں ہوا کندہ جہاں میں کوئی نہ ایسا نگیں ہوا جیسا کہ تیرا نام مرے دل نشیں ہوا روشن ہوا یہ مجھ پہ کہ فانوس میں ہے شمع ہاتھ اس کا جلوہ گر جو تہ آستیں ہوا رکھتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4174 سے 4657