شاعری

کوئی احساس مکمل نہیں رہنے دیتا

کوئی احساس مکمل نہیں رہنے دیتا درد کا ساتھ مسلسل نہیں رہنے دیتا ہوش کی سرد نگاہوں سے تکے جاتا ہے کون ہے جو مجھے پاگل نہیں رہنے دیتا وقت طوفان بلا خیز کے گرداب میں ہے سر پہ میرے مرا آنچل نہیں رہنے دیتا ہاتھ پھیلاؤں تو چھو لیتا ہے جھونکے کی طرح ایک پل بھی مجھے بے کل نہیں رہنے ...

مزید پڑھیے

جب مرے شہر کی ہر شام نے دیکھا اس کو

جب مرے شہر کی ہر شام نے دیکھا اس کو کیوں نہ پھر میرے در و بام نے دیکھا اس کو حرف در حرف مرے دل میں اتر آیا ہے مجھ سے پہلے مرے الہام نے دیکھا اس کو میری آنکھوں نے تو اک بار ہی منظر دیکھا پھر ہر اک لمحۂ دشنام نے دیکھا اس کو دن ڈھلے خواب دریچے میں اتر آتا ہے جب بھی دیکھا ہے یہاں شام ...

مزید پڑھیے

مری آنکھوں میں منظر دھل رہا تھا

مری آنکھوں میں منظر دھل رہا تھا سر مژگاں ستارا گھل رہا تھا بہت سے لفظ دستک دے رہے تھے سکوت شب میں رستہ کھل رہا تھا جو اگلا وقت کے آتش فشاں نے وہ لمحہ خاک میں پھر رل رہا تھا ہوا تھا قرمزی پانی جہاں سے وہاں کل شام تک اک پل رہا تھا تمہارے نام سے آگے کا رستہ اجل کی آہٹوں میں کھل رہا ...

مزید پڑھیے

ہم ستاروں میں ترا عکس نا ڈھلنے دیں گے

ہم ستاروں میں ترا عکس نا ڈھلنے دیں گے چاند کو شام کی دہلیز پہ جلنے دیں گے آج چھو لیں گے کوئی عرش مرے وہم و گماں خواب کو نیند کی آنکھوں میں مچلنے دیں گے ہم بھی دیکھیں گے کہاں تک ہے رسائی اپنی دل کو بہلائیں گے ہم اور نا سنبھلنے دیں گے شب کی آغوش میں پھیلیں نہ گماں کے سائے اب نگاہوں ...

مزید پڑھیے

بہت بے زار ہوتی جا رہی ہوں

بہت بے زار ہوتی جا رہی ہوں میں خود پر بار ہوتی جا رہی ہوں تمہیں اقرار کے رستے پہ لا کر میں خود انکار ہوتی جا رہی ہوں کہیں میں ہوں سراپا رہ گزر اور کہیں دیوار ہوتی جا رہی ہوں بہت مدت سے اپنی کھوج میں تھی سو اب اظہار ہوتی جا رہی ہوں بھنور دل کی تہوں میں بن رہے ہیں میں بے پتوار ...

مزید پڑھیے

اس کے دھیان کی دل میں پیاس جگا لی جائے

اس کے دھیان کی دل میں پیاس جگا لی جائے ایک بھی شام نہ پھر اس کے نام سے خالی جائے آنکھوں میں کاجل کی پرت جما لی جائے سکھیوں سے یوں پریت کی جوت چھپا لی جائے ریت ہے سورج ہے وسعت ہے تنہائی لیکن ناں اس دل کی خام خیالی جائے آنکھوں میں بھر کر اس دشت کی حیرانی وحشت کی عمدہ تصویر بنا لی ...

مزید پڑھیے

بھنور میں پیر تھے اور آنکھ اک ستارے پر

بھنور میں پیر تھے اور آنکھ اک ستارے پر الجھ رہی تھی نظر دوسرے کنارے پر تکان اوڑھ تو لیں ہم نئی مسافت کی تراش دیں نہ ہوائیں کہیں ہمارے پر نہ جانے سحر تھا کیسا کسی کی آنکھوں میں ہم اپنے گھر سے نکل آئے اک اشارے پر زمیں پہ پھر کوئی جائے امان مل نہ سکی مجھے کسی نے بلایا تھا اک ستارے ...

مزید پڑھیے

جب اشکوں میں صدائیں ڈھل رہی تھیں

جب اشکوں میں صدائیں ڈھل رہی تھیں سر مژگاں دعائیں جل رہی تھیں لہو میں زہر گھلتا جا رہا تھا مرے اندر بلائیں پل رہی تھیں مقید حبس میں اک مصلحت کے امیدوں کی ردائیں گل رہی تھیں پروں میں یاسیت جمنے لگی تھی بہت مدت ہوائیں شل رہی تھیں وہاں اس آنکھ نے بدلے تھے تیور یہاں ساری دشائیں جل ...

مزید پڑھیے

چاند ابھرے گا تو پھر حشر دکھائی دے گا

چاند ابھرے گا تو پھر حشر دکھائی دے گا شب کی پہنائی میں ہر عکس دہائی دے گا میرے چہرے پہ کسی اور کی آنکھیں ہوں گی پھر کہاں کس کو کسی اور سجھائی دے گا آپ نے آنکھ میں جو خواب سجا رکھے ہیں ان کو تعبیر مرا دست حنائی دے گا میری حیرت مری وحشت کا پتہ پوچھتی ہے دیکھیے کون کسے پہلے رسائی دے ...

مزید پڑھیے

صبا کی بات سنیں پھول سے کلام کریں

صبا کی بات سنیں پھول سے کلام کریں بہار آئے تو ہم بھی جنوں میں نام کریں نہ کوئی ریت کا ٹیلہ نہ سایہ دار درخت رہ وفا میں مسافر کہاں قیام کریں قدم قدم پہ ملے بولتے ہوئے پتھر تمہی بتاؤ کہ اب کس سے ہم کلام کریں مہک اڑاتی ہوئی آئی ہے نسیم بہار کہو اب اہل چمن سے کہ فکر دام کریں ہماری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4173 سے 4657