مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا وہ سر مزار ہوتا میں تہہ مزار ہوتا ترا مے کدہ سلامت ترے خم کی خیر ساقی مرا نشہ کیوں اترتا مجھے کیوں خمار ہوتا میں ہوں نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی کہیں پا کے آسرا ...