شاعری

مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا

مرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا وہ سر مزار ہوتا میں تہہ مزار ہوتا ترا مے کدہ سلامت ترے خم کی خیر ساقی مرا نشہ کیوں اترتا مجھے کیوں خمار ہوتا میں ہوں نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی کہیں پا کے آسرا ...

مزید پڑھیے

وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہے

وعدۂ وصل اور وہ کچھ بات ہے ہو نہ ہو اس میں بھی کوئی گھات ہے خلق ناحق درپئے اثبات ہے ہے دہن اس کا کہاں اک بات ہے بوسۂ چاہ زنخداں غیر لیں ڈوب مرنے کی یہ اے دل بات ہے گھر سے نکلے ہو نہتے وقت قتل یہ بھی بہر قتل عاشق گھات ہے میں نے اتنا ہی کہا بنواؤ خط یہ بگڑنے کی بھلا کیا بات ہے بعد ...

مزید پڑھیے

ہے خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جواب

ہے خموشی ظلم چرخ دیو پیکر کا جواب آدمی ہوتا تو ہم دیتے برابر کا جواب جو بگولا دشت غربت میں اٹھا سمجھا یہ میں کرتی ہے تعمیر دیوانی مرے گھر کا جواب ساتھ خنجر کے چلے گی وقت ذبح اپنی زبان جان دینے والے دیتے ہیں برابر کا جواب سجدہ کرتا ہوں جو میں ٹھوکر لگاتا ہے وہ بت پاؤں اس کا بڑھ ...

مزید پڑھیے

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں The one that I desire, this heart cannot displace The one who is unattainable I seek to embrace ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہا کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں throwing dust upon my blood my murderer proclaims Tis not henna on my palms that I cannot efface ضبط کمبخت نے ...

مزید پڑھیے

ہم لوٹتے ہیں وہ سو رہے ہیں

ہم لوٹتے ہیں وہ سو رہے ہیں کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں کیا رنگ جہاں میں ہو رہے ہیں دو ہنستے ہیں چار رو رہے ہیں دنیا سے الگ جو ہو رہے ہیں تکیوں میں مزے سے سو رہے ہیں پہنچی ہے ہماری اب یہ حالت جو ہنستے تھے وہ بھی رو رہے ہیں تنہا تہ خاک بھی نہیں ہم حسرت کے ساتھ سو رہے ہیں سوتے ہیں لحد ...

مزید پڑھیے

جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا

جب سے باندھا ہے تصور اس رخ پر نور کا سارے گھر میں نور پھیلا ہے چراغ طور کا بخت واژوں سے جلے کیوں دل نہ مجھ محرور کا مرہم کافور سے منہ آ گیا ناسور کا اس قدر مشتاق ہوں زاہد خدا کے نور کا بت بھی بنوایا کبھی میں نے تو سنگ طور کا تجھ کو لائے گھر میں جنت کو جلایا رشک سے ہم بغل تجھ سے ...

مزید پڑھیے

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے ہے جوانی خود جوانی کا سنگار سادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے کون ویرانے میں دیکھے گا بہار پھول جنگل میں کھلے کن کے لیے ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی بھیجنی ہے ایک کمسن کے ...

مزید پڑھیے

اسیر خواب نئی جستجو کے در کھولیں

اسیر خواب نئی جستجو کے در کھولیں ہوا پہ ہاتھ رکھیں اور اپنے پر کھولیں سمیٹے اپنے سرابوں میں بارشوں کا جمال کہاں کا قصد ہے یہ راز خوش نظر کھولیں اسے بھلانے کی پھر سے کریں نئی سازش چلو کہ آج کوئی نامۂ دگر کھولیں الجھتی جاتی ہیں گرہیں ادھورے لفظوں کی ہم اپنی باتوں کے سارے اگر ...

مزید پڑھیے

رستہ روکتی خاموشی نے کون سی بات سنانی ہے

رستہ روکتی خاموشی نے کون سی بات سنانی ہے رات کی آنکھیں جان رہی ہیں کس کے پاس کہانی ہے آنکھ نے وحشت اوڑھی ہے یا منظر میں حیرانی ہے دشت نے دامن جھاڑ کے پوچھا اب کیسی ویرانی ہے منظر ہے کھڑکی کے اندر یا ہے کھڑکی سے باہر گردوں کی گیرائی ہے یا خاک نے چادر تانی ہے کوندے سے لپکے پڑتے ...

مزید پڑھیے

کیوں امبر کی پہنائی میں چپ کی راہ ٹٹولیں

کیوں امبر کی پہنائی میں چپ کی راہ ٹٹولیں اپنی ذات کی بنت ادھیڑیں سانس میں خاک سمو لیں دھول میں لپٹی اس خواہش کی ساری پرتیں کھولیں دھرتی جنگل صحرا پربت پاؤں بیچ پرو لیں اپنے خواب کے ہاتھوں میں تکلے کی نوک چبھو لیں کسی محل کے سناٹے میں ایک صدی تک سو لیں ایک صدا کے لمس میں وقت کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4172 سے 4657