شاعری

چھپ کے دنیا سے سواد دل خاموش میں آ

چھپ کے دنیا سے سواد دل خاموش میں آ آ یہاں تو مری ترسی ہوئی آغوش میں آ اور دنیا میں کہیں تیرا ٹھکانہ ہی نہیں اے مرے دل کی تمنا لب خاموش میں آ مئے رنگیں پس مینا سے اشارے کب تک ایک دن ساغر رندان بلا نوش میں آ عشق کرتا ہے تو پھر عشق کی توہین نہ کر یا تو بے ہوش نہ ہو ہو تو نہ پھر ہوش میں ...

مزید پڑھیے

آرزو کو دل ہی دل میں گھٹ کے رہنا آ گیا

آرزو کو دل ہی دل میں گھٹ کے رہنا آ گیا اور وہ یہ سمجھے کہ مجھ کو رنج سہنا آ گیا پونچھتا کوئی نہیں اب مجھ سے میرا حال دل شاید اپنا حال دل اب مجھ کو کہنا آ گیا سب کی سنتا جا رہا ہوں اور کچھ کہتا نہیں وہ زباں ہوں اب جسے دانتوں میں رہنا آ گیا زندگی سے کیا لڑیں جب کوئی بھی اپنا نہیں ہو ...

مزید پڑھیے

ترا لطف آتش شوق کو حد زندگی سے بڑھا نہ دے

ترا لطف آتش شوق کو حد زندگی سے بڑھا نہ دے کہیں بجھ نہ جائے چراغ ہی اسے دیکھ اتنی ہوا نہ دے ترا غم ہے دولت دل تری اسے آنسوؤں میں لٹا نہ دے وہی آہ نقد حیات ہے جسے لب پہ لا کے گنوا نہ دے مری زندگی کی حقیقتوں کو نہ پونچھ اور میں کیا کہوں مرا دوست آج وہی ہے جو مجھے زندگی کی دعا نہ ...

مزید پڑھیے

گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑی

گزر کو ہے بہت اوقات تھوڑی کہ ہے یہ طول قصہ رات تھوڑی جو مے زاہد نے مانگی مست بولے بہت یا قبلۂ حاجات تھوڑی کہاں غنچہ کہاں اس کا دہن تنگ بڑھائی شاعروں نے بات تھوڑی اٹھے کیا زانوے غم سے سر اپنا بہت گزری رہی ہیہات تھوڑی خیال ضبط گریہ ہے جو ہم کو بہت امسال ہے برسات تھوڑی پلائے لے ...

مزید پڑھیے

امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا

امیر لاکھ ادھر سے ادھر زمانہ ہوا وہ بت وفا پہ نہ آیا میں بے وفا نہ ہوا سر نیاز کو تیرا ہی آستانہ ہوا شراب خانہ ہوا یا قمار خانہ ہوا ہوا فروغ جو مجھ کو غم زمانہ ہوا پڑا جو داغ جگر میں چراغ خانہ ہوا امید جا کے نہیں اس گلی سے آنے کی بہ رنگ عمر مرا نامہ بر روانہ ہوا ہزار شکر نہ ضائع ...

مزید پڑھیے

مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے

مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے دیوانے کو ایک ہو بہت ہے موتی کی طرح جو ہو خداداد تھوڑی سی بھی آبرو بہت ہے جاتے ہیں جو صبر و ہوش جائیں مجھ کو اے درد تو بہت ہے مانند کلیم بڑھ نہ اے دل یہ درد کی گفتگو بہت ہے بے کیف ہو مے تو خم کے خم کیا اچھی ہو تو اک سبو بہت ہے کیا وصل کی شب میں مشکلیں ...

مزید پڑھیے

چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظ

چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظ مغز رندوں کا کھا گیا واعظ تیرے کہنے سے رند جائیں گے یہ تو ہے خانۂ خدا واعظ اللہ اللہ یہ کبر اور یہ غرور کیا خدا کا ہے دوسرا واعظ بے خطا میکشوں پہ چشم غضب حشر ہونے دے دیکھنا واعظ ہم ہیں قحط شراب سے بیمار کس مرض کی ہے تو دوا واعظ رہ چکا میکدے میں ساری ...

مزید پڑھیے

کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں

کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں گردن میں طوق بھی تو لڑکپن کے یار ہیں سینہ ہو کشتگان محبت کا یا گلا دونوں یہ تیرے خنجر آہن کے یار ہیں خاطر ہماری کرتا ہے دیر و حرم میں کون ہم تو نہ شیخ کے نہ برہمن کے یار ہیں کیا پوچھتا ہے مجھ سے نشاں سیل و برق کا دونوں قدیم سے مرے خرمن کے یار ...

مزید پڑھیے

وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا

وصل کی شب بھی خفا وہ بت مغرور رہا حوصلہ دل کا جو تھا دل میں بدستور رہا عمر رفتہ کے تلف ہونے کا آیا تو خیال لیکن اک دم کی تلافی کا نہ مقدور رہا جمع کس دن نہ ہوئے موسم گل میں میکش روز ہنگامہ تہ سایۂ انگور رہا گردش بخت کہاں سے ہمیں لائی ہے کہاں منزلوں وادئ غربت سے وطن دور رہا راست ...

مزید پڑھیے

اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو

اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو دل میں ہزار درد اٹھے آنکھ تر نہ ہو مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیب دو چار سال تک تو الٰہی سحر نہ ہو اک پھول ہے گلاب کا آج ان کے ہاتھ میں دھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو ڈھونڈے سے بھی نہ معنی باریک جب ملا دھوکا ہوا یہ مجھ کو کہ اس کی کمر نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4168 سے 4657