شاعری

پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری

پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری کانٹوں میں بھی ہوگی خو تمہاری اس دل پہ ہزار جان صدقے جس دل میں ہے آرزو تمہاری دو دن میں گلو بہار کیا کی رنگت وہ رہی نہ بو تمہاری چٹکا جو چمن میں غنچۂ گل بو دے گئی گفتگو تمہاری مشتاق سے دور بھاگتی ہے اتنی ہے اجل میں خو تمہاری گردش سے ہے مہر و مہ کے ...

مزید پڑھیے

گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں

گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں سحر ہوئی تو وہ آنکھیں نہ وہ نگاہیں تھیں نکل کے چہرے پہ میدان صاف خط نے کیا کبھی یہ شہر تھا ایسا کہ بند راہیں تھیں فراق میں ترے عاشق کو جا کے کل دیکھا کہ وہ تو ہیچ تھا کچھ اشک تھے کچھ آہیں تھیں بگولے اب ہیں کہ غربت ہے گور شاہاں پر سروں پہ ...

مزید پڑھیے

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوست تو اگر ہے مرے پلے میں تو ڈر کس کا ہے کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے سخت دونوں میں خدا جانے سفر کس کا ہے چھپ رہا ہے قفس تن میں جو ہر طائر دل آنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر کس کا ...

مزید پڑھیے

اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے

اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے ہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بیتابی کو ہجر اچھا نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے آ گیا اس کا تصور تو پکارا یہ شوق دل میں جم جائے الٰہی ...

مزید پڑھیے

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری میں نے آغوش تصور میں بھی کھینچا تو کہا پس گئی پس گئی بے درد نزاکت میری آئینہ صبح شب وصل جو دیکھا تو کہا دیکھ ظالم یہ تھی شام کو صورت ...

مزید پڑھیے

دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیں

دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیں اپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں ہو ہی رہتا ہے کسی بت کا نظارہ تا شام صبح کو اٹھ کے جو ہم نام خدا لیتے ہیں مجلس وعظ میں جب بیٹھتے ہیں ہم میکش دختر رز کو بھی پہلو میں بٹھا لیتے ہیں ایسے بوسے کے عوض مانگتے ہیں دل کیا خوب جی میں سوچیں تو وہ کیا دیتے ...

مزید پڑھیے

پہلے تو مجھے کہا نکالو

پہلے تو مجھے کہا نکالو پھر بولے غریب ہے بلا لو بے دل رکھنے سے فائدہ کیا تم جان سے مجھ کو مار ڈالو اس نے بھی تو دیکھی ہیں یہ آنکھیں آنکھ آرسی پر سمجھ کے ڈالو آیا ہے وہ مہ بجھا بھی دو شمع پروانوں کو بزم سے نکالو گھبرا کے ہم آئے تھے سوئے حشر یاں پیش ہے اور ماجرا لو تکیے میں گیا تو ...

مزید پڑھیے

کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا

کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا شب وصال بھی وہ شوخ بے حجاب نہ تھا نقاب الٹ کے بھی دیکھا تو بے نقاب نہ تھا لپٹ کے چوم لیا منہ مٹا دیا ان کا نہیں کا ان کے سوا اس کے کچھ جواب نہ تھا مرے جنازے پہ اب آتے شرم آتی ہے حلال کرنے کو بیٹھے تھے جب ...

مزید پڑھیے

چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ

چاند سا چہرہ نور کی چتون ماشاء اللہ ماشاء اللہ طرفہ نکالا آپ نے جوبن ماشاء اللہ ماشاء اللہ گل رخ نازک زلف ہے سنبل آنکھ ہے نرگس سیب زنخداں حسن سے تم ہو غیرت گلشن ماشاء اللہ ماشاء اللہ ساقیٔ بزم روز ازل نے بادۂ حسن بھرا ہے اس میں آنکھیں ہیں ساغر شیشہ ہے گردن ماشاء اللہ ماشاء ...

مزید پڑھیے

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے سجدہ گاہ اہل عرفاں اور ہے ہو کے خوش کٹواتے ہیں اپنے گلے عاشقوں کی عید قرباں اور ہے روز و شب یاں ایک سی ہے روشنی دل کے داغوں کا چراغاں اور ہے خال دکھلاتی ہے پھولوں کی بہار بلبلو اپنا گلستاں اور ہے قید میں آرام آزادی وبال ہم گرفتاروں کا زنداں اور ہے بحر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4169 سے 4657