شاعری

غم کے بادل پھر بھی چھائے رہ گئے

غم کے بادل پھر بھی چھائے رہ گئے آنکھ سے دریا کے دریا بہہ گئے خوف‌ عقبیٰ اور اس دنیا کے بعد وہ بھی سہہ لیں گے جو یہ غم سہہ گئے کس نے دیکھا ہے جمال روئے دوست سب نقابوں میں الجھ کر رہ گئے مختصر تھی داستان عرض شوق بجھ کے کچھ تارے مژہ پر رہ گئے زیست ہے اک شام افسانے کا نام اپنی اپنی ...

مزید پڑھیے

نگاہ و دل کا افسانہ قریب اختتام آیا

نگاہ و دل کا افسانہ قریب اختتام آیا ہمیں اب اس سے کیا آئی سحر یا وقت شام آیا زبان عشق پر اک چیخ بن کر تیرا نام آیا خرد کی منزلیں طے ہو چکیں دل کا مقام آیا اٹھانا ہے جو پتھر رکھ کے سینہ پر وہ گام آیا محبت میں تری ترک محبت کا مقام آیا اسے آنسو نہ کہہ اک یاد ایام گذشتہ ہے مری عمر ...

مزید پڑھیے

انسان کے لئے اس دنیا میں دشنام سے بچنا مشکل ہے

انسان کے لئے اس دنیا میں دشنام سے بچنا مشکل ہے تقصیر سے بچنا ممکن ہے الزام سے بچنا مشکل ہے طائر کے لئے دشوار نہیں صیاد و قفس سے دور رہے لیکن جو شکل نشیمن ہے اس دام سے بچنا مشکل ہے دامن کو بچا بھی لیں شاید صحرا کے نکیلے کانٹوں سے گلشن کے مگر گل ہائے شرر اندام سے بچنا مشکل ہے اس ...

مزید پڑھیے

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے تو نے روکا بھی تھا مجرم کو خطا سے پہلے اشک آنکھوں میں ہیں ہونٹوں پہ بکا سے پہلے قافلۂ غم کا چلا بانگ درا سے پہلے یہ تو سچ ہے کہ تجھے ترک جفا کا حق ہے ہاں مگر پونچھ تو لے اہل وفا سے پہلے اڑ گیا جیسے یکایک مرے شانوں پر سے وہ جو اک بوجھ تھا تسلیم خطا ...

مزید پڑھیے

اب اپنے دیدہ و دل کا بھی اعتبار نہیں

اب اپنے دیدہ و دل کا بھی اعتبار نہیں اسی کو پیار کیا جس کے دل میں پیار نہیں نہیں کہ مجھ کو طبیعت پہ اختیار نہیں ہر اک جام سے پی لوں وہ بادہ خوار نہیں ہر ایک گام پہ کانٹوں کی ہیں کمیں گاہیں شباب آہ شگوفوں کی رہ گزار نہیں بھری ہوئی ہے وہ کام و دہن میں تلخی زیست کہ لب پہ جام محبت بھی ...

مزید پڑھیے

بھولے سے بھی لب پر سخن اپنا نہیں آتا

بھولے سے بھی لب پر سخن اپنا نہیں آتا ہاں ہاں مجھے دنیا میں پنپنا نہیں آتا دل کو سر الفت بھی ہے رسوائی کا ڈر بھی اس کو ابھی اس آنچ میں تپنا نہیں آتا یہ اشک مسلسل ہیں محض اشک مسلسل ہاں نام تمہارا مجھے جپنا نہیں آتا تم اپنے کلیجہ پہ ذرا ہاتھ تو رکھو کیوں اب بھی کہوگے کہ تڑپنا نہیں ...

مزید پڑھیے

مری باتوں پہ دنیا کی ہنسی کم ہوتی جاتی ہے

مری باتوں پہ دنیا کی ہنسی کم ہوتی جاتی ہے مری دیوانگی شاید مسلم ہوتی جاتی ہے توجہ کی نظر میری طرف کم ہوتی جاتی ہے میں خوش ہوں عشق کی بنیاد محکم ہوتی جاتی ہے ضرورت کچھ بھی کہنے کی بہت کم ہوتی جاتی ہے مری صورت ہی اب شوق مجسم ہوتی جاتی ہے کبھی تو نے پکارا تھا مجھے کچھ شک سا ہوتا ...

مزید پڑھیے

محبت سے بھی کار زندگی آساں نہیں ہوتا

محبت سے بھی کار زندگی آساں نہیں ہوتا بہل جاتا ہے دل غم کا مگر درماں نہیں ہوتا کلی دل کی کھلے افسوس یہ ساماں نہیں ہوتا گھٹائیں گھر کے آتی ہیں مگر باراں نہیں ہوتا محبت کے عوض میں او محبت ڈھونڈنے والے یہ دنیا ہے یہاں ایسا ارے ناداں نہیں ہوتا دل ناکام اک تو ہی نہیں ہے صرف مشکل ...

مزید پڑھیے

ہجر کی شب گھڑی گھڑی دل سے یہی سوال ہے

ہجر کی شب گھڑی گھڑی دل سے یہی سوال ہے جس کے خیال میں ہوں گم اس کو بھی کچھ خیال ہے ہائے ری بے بسی شوق دل کا عجیب حال ہے اس کا جواب سن چکا پھر بھی وہی سوال ہے خواب و فسوں نہیں تو کیا دل یہ جنوں نہیں تو کیا خلوت دوست اور تو تیرا کہاں خیال ہے میں ترے در کو چھوڑ دوں شرط وفا کو توڑ ...

مزید پڑھیے

کیوں زیست کا ہر ایک فسانہ بدل گیا

کیوں زیست کا ہر ایک فسانہ بدل گیا یہ ہم بدل گئے کہ زمانہ بدل گیا صیاد یاں وہی وہی طائر وہی ہیں دام لیکن جو زیر دام تھا دانہ بدل گیا بازیٔ حسن و عشق میں کچھ ہار ہے نہ جیت نظریں ملیں دلوں کا خزانہ بدل گیا بخت بشر وہی ہے بساط جہاں وہی ہر دور نو میں مات کا خانہ بدل گیا طاقت کے دوش پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4163 سے 4657