غم کے بادل پھر بھی چھائے رہ گئے
غم کے بادل پھر بھی چھائے رہ گئے آنکھ سے دریا کے دریا بہہ گئے خوف عقبیٰ اور اس دنیا کے بعد وہ بھی سہہ لیں گے جو یہ غم سہہ گئے کس نے دیکھا ہے جمال روئے دوست سب نقابوں میں الجھ کر رہ گئے مختصر تھی داستان عرض شوق بجھ کے کچھ تارے مژہ پر رہ گئے زیست ہے اک شام افسانے کا نام اپنی اپنی ...