شاعری

ہر دل میں بے بسی کی چبھن چھوڑ جاؤں گا

ہر دل میں بے بسی کی چبھن چھوڑ جاؤں گا جب بھی تجھے اے ارض وطن چھوڑ جاؤں گا حاصل تمام عمر کا دھن چھوڑ جاؤں گا یعنی زبان گنگ و جمن چھوڑ جاؤں گا مغموم کس لیے ہے اری سر پھری خزاں میں تیرے نام اپنا چمن چھوڑ جاؤں گا کانٹے کریں گے یاد مری چاک دامنی پھولوں کو محو رنج و محن چھوڑ جاؤں ...

مزید پڑھیے

خوشا نصیب حقیقت یہ دل نے مانی ہے

خوشا نصیب حقیقت یہ دل نے مانی ہے حیات ہم کو بتانی نہیں بنانی ہے رکھے بھی کوئی تو کیوں کر تعلق خاطر میں اک جزیرہ مرے ارد گرد پانی ہے یہ کیا کہ رائی کا پربت بنا دیا تم نے ہمارا دل تو حوادث کی راجدھانی ہے ہماری پیٹھ میں خنجر اتارنے والے ستم کی طرز بدل دے بہت پرانی ہے بہت سے اہل ...

مزید پڑھیے

میں ہوا ہوں کہاں وطن میرا

میں ہوا ہوں کہاں وطن میرا دشت میرا نہ یہ چمن میرا میں کہ ہر چند ایک خانہ نشیں انجمن انجمن سخن میرا برگ گل پر چراغ سا کیا ہے چھو گیا تھا اسے دہن میرا میں کہ ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں کیا بگاڑے گی انجمن میرا ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے درد سر بن گیا بدن میرا

مزید پڑھیے

غبار و گرد نے سمجھا ہے رہنما مجھ کو

غبار و گرد نے سمجھا ہے رہنما مجھ کو تلاش کرتا پھرا ہے یہ قافلہ مجھ کو طویل راہ سفر پر ہیں پھوٹ پھوٹ پڑا نہ کیوں سمجھتے مرے پیر آبلہ مجھ کو شکست دل کی صدا ہوں بکھر بھی جانے دے خطوط و رنگ کی زنجیر مت پنہا مجھ کو زمین پر ہے سمندر فلک پہ ابر غبار اتارتی ہے کہاں دیکھیے ہوا مجھ ...

مزید پڑھیے

پھول کھلے ہیں لکھا ہوا ہے توڑو مت

پھول کھلے ہیں لکھا ہوا ہے توڑو مت اور مچل کر جی کہتا ہے چھوڑو مت رت متوالی چاند نشیلا رات جوان گھر کا آمد خرچ یہاں تو جوڑو مت ابر جھکا ہے چاند کے گورے مکھڑے پر چھوڑو لاج لگو دل سے منہ موڑو مت دل کو پتھر کر دینے والی یادو اب اپنا سر اس پتھر سے پھوڑو مت مت عمیقؔ کی آنکھوں سے دل ...

مزید پڑھیے

کون ہے یہ مطلع تخئیل پر مہتاب سا

کون ہے یہ مطلع تخئیل پر مہتاب سا میری رگ رگ میں بپا ہونے لگا سیلاب سا آگ کی لپٹوں میں ہے لپٹا ہوا سارا بدن ہڈیوں کی نلکیوں میں بھر گیا تیزاب سا خواہشوں کی بجلیوں کی جلتی بجھتی روشنی کھینچتی ہے منظروں میں نقشۂ اعصاب سا کس بلندی پر اڑا جاتا ہوں بر دوش ہوا آسماں بھی اب نظر آنے لگا ...

مزید پڑھیے

عمیقؔ چھیڑ غزل غم کی انتہا کب ہے

عمیقؔ چھیڑ غزل غم کی انتہا کب ہے یہ مالوے کی جنوں خیز چودھویں شب ہے مجھے شکایت تلخیٔ زہر غم کب ہے مرے لبوں پہ ابھی کیف شکر لب ہے لکیر کھنچتی چلی جا رہی ہے تابہ جگر فروغ مے ہے کہ مشق جراحت شب ہے یہ محویت ہے کہ رعب‌ جمال ہے طاری خلاف‌ رسم جنوں دل بہت مؤدب ہے کبھی حرم میں ہے کافر ...

مزید پڑھیے

بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے لہرے جادو والے ہیں

بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے لہرے جادو والے ہیں چندن سے چکنے شانوں پر مچل اٹھے دو کالے ہیں جنگل کی یا بازاروں کی دھول اڑی ہے سواگت کو ہم نے گھر کے باہر جب بھی اپنے پاؤں نکالے ہیں کیسا زمانہ آیا ہے یہ الٹی ریت ہے الٹی بات پھولوں کو کانٹے ڈستے ہیں جو ان کے رکھوالے ہیں گھر کے دکھڑے شہر ...

مزید پڑھیے

لمبی رات سے جب ملی اس کی زلف دراز

لمبی رات سے جب ملی اس کی زلف دراز کھل کر ساری گتھیاں پھر سے بن گئیں راز اس کی اک آواز سے شرمایا سنگیت سارنگی کا سوز کیا کیا ستار کا ساز میرا قائل ہو گیا یہ سارا سنسار رنگ ناز میں جب ملا میرا رنگ نیاز سازوں کا سنگیت کیا پایل کی جھنکار کون سنے اس شور میں دل تیری آواز ان آنکھوں ...

مزید پڑھیے

کہنے کو شمع بزم زمان و مکاں ہوں میں

کہنے کو شمع بزم زمان و مکاں ہوں میں سوچو تو صرف کشتۂ دور جہاں ہوں میں آتا ہوں میں زمانے کی آنکھوں میں رات دن لیکن خود اپنی نظروں سے اب تک نہاں ہوں میں جاتا نہیں کناروں سے آگے کسی کا دھیان کب سے پکارتا ہوں یہاں ہوں یہاں ہوں میں اک ڈوبتے وجود کی میں ہی پکار ہوں اور آپ ہی وجود کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4160 سے 4657