شاعری

ان سرابوں سے گزرنے دے مجھے

ان سرابوں سے گزرنے دے مجھے انگلیاں ریت میں بھرنے دے مجھے جس ندی پار نہ اترا کوئی اس ندی پار اترنے دے مجھے کوئی سیاح مجھے ڈھونڈھے گا اک جزیرہ ہوں ابھرنے دے مجھے یوں نہ بے زار ہو اتنا خود سے تیرا چہرہ ہوں سنورنے دے مجھے دیکھ بے منظریٔ منظر کو کم سے کم رنگ تو بھرنے دے مجھے رو بہ ...

مزید پڑھیے

صبح تک میں سوچتا ہوں شام سے

صبح تک میں سوچتا ہوں شام سے جی رہا ہے کون میرے نام سے شہر میں سچ بولتا پھرتا ہوں میں لوگ خائف ہیں مرے انجام سے رات بھر جاگے گا چوکی دار ایک اور سب سو جائیں گے آرام سے سو برس کا ہو گیا میرا مزار اب نوازا جاؤں گا انعام سے ساتھ لاؤں گا تھکن بیکار کی گھر سے باہر جا رہا ہوں کام ...

مزید پڑھیے

نظر میں ہر دشواری رکھ

نظر میں ہر دشواری رکھ خوابوں میں بیداری رکھ دنیا سے جھک کر مت مل رشتوں میں ہمواری رکھ سوچ سمجھ کر باتیں کر لفظوں میں تہہ داری رکھ فٹ پاتھوں پر چین سے سو گھر میں شب بیداری رکھ تو بھی سب جیسا بن جا بیچ میں دنیاداری رکھ ایک خبر ہے تیرے لیے دل پر پتھر بھاری رکھ خالی ہاتھ نکل گھر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے

ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے یہ زخم گھر سے نکل کر دکھائی دیتا ہے سنا ہے اب بھی مرے ہاتھ کی لکیروں میں نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے اب انکسار بھی شامل ہے وضع میں اس کی اسے بھی اب کوئی ہمسر دکھائی دیتا ہے گرا نہ مجھ کو مرے خواب کی بلندی سے یہاں سے مجھ کو مرا گھر دکھائی ...

مزید پڑھیے

اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی

اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی خموشی سے گزر جاؤں گا میں بھی مجھے چھونے کی خواہش کون کرتا ہے کہ پل بھر میں بکھر جاؤں گا میں بھی بہت پچھتائے گا وہ بچھڑ کر خدا جانے کدھر جاؤں گا میں بھی ذرا بدلوں گا اس بے منظری کو پھر اس کے بعد مر جاؤں گا میں بھی کسی دیوار کا خاموش سایہ پکارے تو ...

مزید پڑھیے

افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میں

افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میں یوں اپنی عمر رفتہ کو لوٹا رہا ہوں میں اک اک قدم پہ درس وفا دے رہا ہوں میں یہ کس کی جستجو ہے کدھر جا رہا ہوں میں یا رب کسی کا دام حسیں منتظر نہ ہو پر شوق کے لگے ہیں اڑا جا رہا ہوں میں اس سحر رنگ و بو نے تو دیوانہ کر دیا دامن کے تار تار کو الجھا رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

توانا ہوں دل رنجور کی سوگند کیوں کھاؤں

توانا ہوں دل رنجور کی سوگند کیوں کھاؤں میں جب مختار ہوں مجبور کی سوگند کیوں کھاؤں مجھے عرش بریں کے جلوۂ دائم سے نسبت ہے کوئی واعظ ہوں میں بھی حور کی سوگند کیوں کھاؤں مرا طور تجلی رات دن ہے میرے پہلو میں نہیں جب آگ لینا طور کی سوگند کیوں کھاؤں مرا ہر نا چکیدہ اشک کا قطرہ ہے بے ...

مزید پڑھیے

لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر

لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر جن میں ہو کیف زندگی بہر خدا وہ کام کر طور حیات سے اڑا جذبۂ زیستن کی آگ جب کہیں جا کے نیت زندگی دوام کر پہلے یہ سوچ دام کے توڑنے کی سکت بھی ہے بعد کو دل میں خواہش دانۂ زیر دام کر تجھ کو تری ہی آنکھ سے دیکھ رہی ہے کائنات بات یہ راز کی نہیں اپنا ...

مزید پڑھیے

بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی

بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی شعلہ نہ چوم لے کہیں دامان زندگی مرنے کے بعد پھولوں سے تربت نواز دی ہوتا ہے کون زیست میں پرسان زندگی عیش و خوشی نشاط و طرب راحت و سکوں ہیں ان سے بڑھ کے کون حریفان زندگی بار الم اٹھانے کے قابل بنا دیا کیا کم ہوا ہے مجھ پہ یہ احسان زندگی آغاز باب نو ...

مزید پڑھیے

ندی کے پار اجالا دکھائی دیتا ہے

ندی کے پار اجالا دکھائی دیتا ہے مجھے یہ خواب ہمیشہ دکھائی دیتا ہے برس رہی ہیں عقیدت کی بدلیاں لیکن شعور آج پیاسا دکھائی دیتا ہے چراغ منزل فردا جلائے گا اک روز وہ راہگیر جو تنہا دکھائی دیتا ہے تری نگاہ نے ہلکا سا نقش چھوڑا تھا مگر یہ زخم تو گہرا دکھائی دیتا ہے کسی خیال کی مشعل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4156 سے 4657