شاعری

زباں ہے مگر بے زبانوں میں ہے

زباں ہے مگر بے زبانوں میں ہے نصیحت کوئی اس کے کانوں میں ہے چلو ساحلوں کی طرف رخ کریں ابھی تو ہوا بادبانوں میں ہے زمیں پر ہو اپنی حفاظت کرو خدا تو میاں آسمانوں میں ہے نہ جانے یہ احساس کیوں ہے مجھے وہ اب تک مرے پاسبانوں میں ہے سجا تو لیے ہم نے دیوار و در اداسی ابھی تک مکانوں میں ...

مزید پڑھیے

بنتے ہیں فرزانے لوگ

بنتے ہیں فرزانے لوگ کتنے ہیں دیوانے لوگ دیر و حرم کی راہ سے ہی جاتے ہیں مے خانے لوگ دیکھ کے مجھ کو گم صم ہیں آئے تھے سمجھانے لوگ کیا سنتے ناصح کی بات ہم ٹھہرے دیوانے لوگ نیچی نظر سے مجھ کو نہ دیکھو گھڑ لیں گے افسانے لوگ دیوانہ کہتے ہیں امیرؔ خوب مجھے پہچانے لوگ

مزید پڑھیے

آنکھیں کھلی ہوئی ہیں تو منظر بھی آئے گا

آنکھیں کھلی ہوئی ہیں تو منظر بھی آئے گا کاندھوں پہ تیرے سر ہے تو پتھر بھی آئے گا ہر شام ایک مسئلہ گھر بھر کے واسطے بچہ بضد ہے چاند کو چھو کر بھی آئے گا اک دن سنوں گا اپنی سماعت پہ آہٹیں چپکے سے میرے دل میں کوئی ڈر بھی آئے گا تحریر کر رہا ہے ابھی حال تشنگاں پھر اس کے بعد وہ سر منبر ...

مزید پڑھیے

ہر رہ گزر میں کاہکشاں چھوڑ جاؤں گا

ہر رہ گزر میں کاہکشاں چھوڑ جاؤں گا زندہ ہوں زندگی کے نشاں چھوڑ جاؤں گا میں بھی تو آزماؤں گا اس کے خلوص کو اس کے لبوں پہ اپنی فغاں چھوڑ جاؤں گا میری طرح اسے بھی کوئی جستجو رہے از راہ احتیاط گماں چھوڑ جاؤں گا میرا بھی اور کوئی نہیں ہے ترے سوا اے شام غم تجھے میں کہاں چھوڑ جاؤں ...

مزید پڑھیے

نظر نظر حیرانی دے

نظر نظر حیرانی دے مجھ کو میرا ثانی دے جگنو پھول ستارہ چاند اپنی کوئی نشانی دے انسانوں کو دانا کر تھوڑی سی نادانی دے ہر چہرہ بے رنگت ہے شکل کوئی نورانی دے تیرے بچے پیاسے ہیں ان پودوں کو پانی دے راون رات جگاتا ہے کوئی رام کہانی دے مجھ کو مجھ سے دور نہ رکھ ملنے کی آسانی ...

مزید پڑھیے

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا گرا دیا ہے تو ساحل پہ انتظار نہ کر اگر وہ ڈوب گیا ہے تو دور نکلے گا اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا یقیں نہ آئے تو اک بات پوچھ کر دیکھو جو ہنس رہا ہے وہ زخموں سے چور نکلے گا اس آستین سے ...

مزید پڑھیے

اپنے ہم راہ خود چلا کرنا

اپنے ہم راہ خود چلا کرنا کون آئے گا مت رکا کرنا خود کو پہچاننے کی کوشش میں دیر تک آئنہ تکا کرنا رخ اگر بستیوں کی جانب ہے ہر طرف دیکھ کر چلا کرنا وہ پیمبر تھا، بھول جاتا تھا صرف اپنے لیے دعا کرنا یار کیا زندگی ہے سورج کی صبح سے شام تک جلا کرنا کچھ تو اپنی خبر ملے مجھ کو میرے ...

مزید پڑھیے

پائیں ہر ایک راہگزر پر اداسیاں

پائیں ہر ایک راہگزر پر اداسیاں نکلی ہوئی ہیں کب سے سفر پر اداسیاں خوابیدہ شہر جاگنے والا ہے لوٹ آؤ بیٹھی ہوئی ہیں شام سے گھر پر اداسیاں میں خوف سے لرزتا رہا پڑھ نہیں سکا پھیلی ہوئی تھیں ایک خبر پر اداسیاں سورج کے ہاتھ سبز قباؤں تک آ گئے اب ہیں یہاں ہر ایک شجر پر اداسیاں اپنے ...

مزید پڑھیے

وہ اک لفظ جو بے صدا جائے گا

وہ اک لفظ جو بے صدا جائے گا وہی مدتوں تک سنا جائے گا کوئی ہے جو میرے تعاقب میں ہے مجھے میرا چہرہ دکھا جائے گا وہ اک شخص جو دشمن جاں سہی مگر پھر بھی اپنا کہا جائے گا جلے گی کوئی مشعل جاں ابھی مگر پھر اندھیرا سا چھا جائے گا نفی جرأت حق نمائی سہی مگر کب کسی سے کہا جائے گا یہاں اک ...

مزید پڑھیے

آج کی رات بھی گزری ہے مری کل کی طرح

آج کی رات بھی گزری ہے مری کل کی طرح ہاتھ آئے نہ ستارے ترے آنچل کی طرح حادثہ کوئی تو گزرا ہے یقیناً یارو ایک سناٹا ہے مجھ میں کسی مقتل کی طرح پھر نہ نکلا کوئی گھر سے کہ ہوا پھرتی تھی سنگ ہاتھوں میں اٹھائے کسی پاگل کی طرح تو کہ دریا ہے مگر میری طرح پیاسا ہے میں تیرے پاس چلا آؤں گا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4155 سے 4657