شاعری

جانے یہ کس کی بنائی ہوئی تصویریں ہیں

جانے یہ کس کی بنائی ہوئی تصویریں ہیں تاج سر پر ہیں مگر پاؤں میں زنجیریں ہیں کیا مری سوچ تھی کیا سامنے آیا میرے کیا مرے خواب تھے کیا خواب کی تعبیریں ہیں کتنے سر ہیں کہ جو گردن زدنی ہیں اب بھی ہم کہ بزدل ہیں مگر ہاتھ میں شمشیریں ہیں چار جانب ہیں سیہ رات کے سائے لیکن افق دل پہ نئی ...

مزید پڑھیے

جنگ جاری ہے خاندانوں میں

جنگ جاری ہے خاندانوں میں غیر محفوظ ہوں مکانوں میں لفظ پتھرا گئے ہیں ہونٹوں پر لوگ کیا کہہ گئے ہیں کانوں میں رات گھر میں تھی سرپھری آندھی صرف کانٹے ہیں پھول دانوں میں معبدوں کی خبر نہیں مجھ کو خیریت ہے شراب خانوں میں اب سپر ڈھونڈ کوئی اپنے لیے تیر کم رہ گئے کمانوں میں ناخدا ...

مزید پڑھیے

یکم جنوری ہے نیا سال ہے

یکم جنوری ہے نیا سال ہے دسمبر میں پوچھوں گا کیا حال ہے بچائے خدا شر کی زد سے اسے بیچارہ بہت نیک اعمال ہے بتانے لگا رات بوڑھا فقیر یہ دنیا ہمیشہ سے کنگال ہے ہے دریا میں کچا گھڑا سوہنی کنارے پہ گم صم مہیوال ہے میں رہتا ہوں ہر شام شکوہ بہ لب مرے پاس دیوان اقبالؔ ہے

مزید پڑھیے

مرے حال پر مہربانی کرے

مرے حال پر مہربانی کرے خدا سے کہو حکم ثانی کرے میں اک بوند پانی بڑی چیز ہوں سمندر مری پاسبانی کرے پڑھیں لوگ تحریر دیوار و در خلاصہ مری بے زبانی کرے ازل سے میں اس کے تعاقب میں ہوں جو لمحہ مجھے غیر فانی کرے وہ بخشے اجالے کسی صبح کو کوئی شام روشن سہانی کرے مرے سائے میں سب ہیں ...

مزید پڑھیے

لوگ بنتے ہیں ہوشیار بہت

لوگ بنتے ہیں ہوشیار بہت ورنہ ہم بھی تھے خاکسار بہت گھر سے بے تیشہ کیوں نکل آئے راستے میں ہیں کوہسار بہت تجھ سے بچھڑے تو اے نگار حیات مل گئے ہم کو غم گسار بہت ہاتھ شل ہو گئے شناور کے اب یہ دریا ہے بے کنار بہت ہم فقیروں کو کم نظر آئے اس نگر میں تھے شہریار بہت اس نے مجبور کر دیا ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ منظر شام و سحر پہ کیا گزری

نہ پوچھ منظر شام و سحر پہ کیا گزری نگاہ جب بھی حقیقت سے آشنا گزری ہمارے واسطے ویرانئ نظر ہر سو ہمیں نے دشت سجائے ہمیں پہ کیا گزری نہ جانے کیسی حقیقت کا آئنہ ہوں میں نظر نظر مرے نزدیک سے خفا گزری یہ زرد ہو گئے کیسے ہرے بھرے اشجار جو لوگ سائے میں بیٹھے تھے ان پہ کیا گزری غروب ...

مزید پڑھیے

دور بیٹھا ہوا تنہا سب سے

دور بیٹھا ہوا تنہا سب سے جانے کیا سوچ رہا ہوں کب سے اپنی تائید بھی دشوار ہوئی آئنہ ٹوٹ گیا ہے جب سے گھر سے نکلوں تو منا کر لاؤں وہ تبسم جو خفا ہے لب سے میرے الفاظ وہی ہیں لیکن میرا مفہوم جدا ہے سب سے جب سے آزاد کیا ہے اس نے ہر نفس ایک سزا ہے تب سے

مزید پڑھیے

خوف بن کر یہ خیال آتا ہے اکثر مجھ کو

خوف بن کر یہ خیال آتا ہے اکثر مجھ کو دشت کر جائے گا اک روز سمندر مجھ کو میں سراپا ہوں خبرنامۂ امروز جہاں کل بھلا دے نہ یہ دنیا کہیں پڑھ کر مجھ کو ہر نفس مجھ میں تغیر کی ہوائے لرزاں مرتسم کر نہ سکا کوئی بھی منظر مجھ کو اپنے ساحل پہ میں خود تشنہ دہن بیٹھا ہوں دیکھ دریا کی ترائی سے ...

مزید پڑھیے

وہ سرپھری ہوا تھی سنبھلنا پڑا مجھے

وہ سرپھری ہوا تھی سنبھلنا پڑا مجھے میں آخری چراغ تھا جلنا پڑا مجھے محسوس کر رہا تھا اسے اپنے آس پاس اپنا خیال خود ہی بدلنا پڑا مجھے سورج نے چھپتے چھپتے اجاگر کیا تو تھا لیکن تمام رات پگھلنا پڑا مجھے موضوع گفتگو تھی مری خامشی کہیں جو زہر پی چکا تھا اگلنا پڑا مجھے کچھ دور تک تو ...

مزید پڑھیے

ہر گام حادثہ ہے ٹھہر جائیے جناب

ہر گام حادثہ ہے ٹھہر جائیے جناب رستہ اگر ہو یاد تو گھر جائیے جناب زندہ حقیقتوں کے تلاطم ہیں سامنے خوابوں کی کشتیوں سے اتر جائیے جناب انصاف کی صلیب ہوں سچائیوں کا زہر مجھ سے ملے بغیر گزر جائیے جناب دن کا سفر تو کٹ گیا سورج کے ساتھ ساتھ اب شب کی انجمن میں بکھر جائیے جناب کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4154 سے 4657