یہ کسی شخص کو کھونے کی تلافی ٹھہرا
یہ کسی شخص کو کھونے کی تلافی ٹھہرا میرا ہونا مرے ہونے میں اضافی ٹھہرا جرم آدم تری پاداش تھی دنیا ساری آخرش ہر کوئی حق دار معافی ٹھہرا یہ ہے تفصیل کہ یک لمحۂ حیرت تھا کوئی مختصر یہ کہ مری عمر کو کافی ٹھہرا کچھ عیاں ہو نہ سکا تھا تری آنکھوں جیسا وہ بدن ہو کے برہنہ بھی غلافی ...