شاعری

جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے

جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے الگ نقشے سے یہ معمار کیوں ہے خدا آزاد تھا حاکم کی حد سے خدا کے شہر میں سرکار کیوں ہے بہت آسان ہے مل جل کے بہنا ندی اور دھار میں پیکار کیوں ہے ہزاروں رنگ کے پھولوں سے کھنچ کر بنا ہے شہد تو بیکار کیوں ہے کسی بھی سمت سے آ کر پرندے سجائیں جھیل تو آزار ...

مزید پڑھیے

بھر نہیں پایا ابھی تک زخم کاری ہائے ہائے

بھر نہیں پایا ابھی تک زخم کاری ہائے ہائے دل کو تھامے ہیں لہو پھر بھی ہے جاری ہائے ہائے درد کا احساس گھٹ جاتا اگر چاہے کوئی ہو رہی ہے اور الٹے دل فگاری ہائے ہائے جسم تو پہلے ہی زخمی تھا مگر باقی تھا دل اب عدو کے ہاتھ میں خنجر ہے بھاری ہائے ہائے ہجر میں ویسے بھی آتی ہے مصیبت جان ...

مزید پڑھیے

جو دل باندھے وہ جادو جانتا ہے

جو دل باندھے وہ جادو جانتا ہے مرا محبوب اردو جانتا ہے بڑے ظالم ہیں عشق و مشک دونوں مری وحشت کو آہو جانتا ہے پتہ اس کا تو ہم رندوں سے پوچھو خدا کو کب یہ سادھو جانتا ہے امیر شہر کیا سمجھے گا ان کو مرے اشکوں کو جگنو جانتا ہے میں سو پردوں میں تجھ کو ڈھونڈ لوں گا کہ بھنورا تیری ...

مزید پڑھیے

جان تک کر دی فدا لیکن صلہ کچھ بھی نہیں

جان تک کر دی فدا لیکن صلہ کچھ بھی نہیں آپ کی نظروں میں کیا میری وفا کچھ بھی نہیں چھین لیں خوشیاں مری آنکھوں سے میری نیند بھی زندگی تو نے مجھے اب تک دیا کچھ بھی نہیں سینکڑوں مجھ پر ستم کرتا رہا وہ عمر بھر پھر بھی میں نے آج تک اس سے کہا کچھ بھی نہیں دے رہے ہیں گالیاں یا پھر دعائیں ...

مزید پڑھیے

کیجیے ہنر کا ذکر کیا آبروئے ہنر نہیں

کیجیے ہنر کا ذکر کیا آبروئے ہنر نہیں سب کے بنائے ہم نے گھر اور ہمارا گھر نہیں کیسا عجیب وقت ہے کوئی بھی ہم سفر نہیں دھوپ بھی معتبر نہیں سایہ بھی معتبر نہیں جو میرے خواب میں رہی پیکر رنگ نور تھی یہ تو لہولہان ہے یہ تو مری سحر نہیں بھٹکے ہوئے ہیں قافلے کیسے ملیں گی منزلیں سب تو ...

مزید پڑھیے

نہ رہبری کا کوئی سلسلہ نظر آئے

نہ رہبری کا کوئی سلسلہ نظر آئے چلو وہ راہ جو بے نقش پا نظر آئے اڑا گئے ہیں بہت دھول جانے والے لوگ چھٹے غبار تو کچھ راستہ نظر آئے بس ایک لمس کا احساس کر گیا بے چین مہک ہی تیری نہ دست ہوا نظر آئے نگاہ چاہیے بس اہل دل فقیروں کی برا بھی دیکھوں تو مجھ کو بھلا نظر آئے ہمیں یہ شرم کہ ہم ...

مزید پڑھیے

سانسوں میں شہر بھر کی اتر جانا چاہیے

سانسوں میں شہر بھر کی اتر جانا چاہیے خوشبو ہو تم تو تم کو بکھر جانا چاہیے کرنا ہے آپ کو جو نئے راستوں کی کھوج سب جس طرف نہ جائیں ادھر جانا چاہیے اس بے وفا پہ مرنے کو آمادہ دل نہیں لیکن وفا کی ضد ہے کہ مر جانا چاہیے دیوار بن کے وقت اگر راستہ نہ دے جھونکا ہوا کا بن کے گزر جانا ...

مزید پڑھیے

تلوار بنو درد کے مارے ہوئے لوگو

تلوار بنو درد کے مارے ہوئے لوگو یوں ہار کے بیٹھو نہیں ہارے ہوئے لوگو ہمت ہو تو تعبیریں بھی کرتی ہیں عنایت آنکھوں میں چلو خواب سنوارے ہوئے لوگو تم مٹی ہو مٹی کو حقارت سے نہ دیکھو اے عرش معلی سے اتارے ہوئے لوگو محتاج اسی در کے ہیں حاکم کہ غنی ہوں جاؤ نہ کہیں ہاتھ پسارے ہوئے ...

مزید پڑھیے

آپ کا کوئی سفر بے سمت بے منزل نہ ہو

آپ کا کوئی سفر بے سمت بے منزل نہ ہو زندگی ایسی نہ جینا جس کا مستقبل نہ ہو آج کے شہزادے سب کچھ چاہتے ہیں اس طرح سختیٔ موسم بھی کم ہو راہ بھی مشکل نہ ہو تیرا سرمایہ تری دولت یہی اک چیز ہے ایک پل کردار کی تعمیر سے غافل نہ ہو اس نے خوشیوں کے خزانے وا کئے مجھ پر مگر بے تحاشا روشنی کی ...

مزید پڑھیے

زندگی بوجھل ہوئی آزار سے

زندگی بوجھل ہوئی آزار سے جسم جھکتا جا رہا ہے بار سے دوستوں نے اس قدر دھوکے دیے اور رغبت بڑھ گئی اغیار سے زندگی کا اک نیا امکاں ہوا اک دریچہ کھل گیا دیوار سے اب بیاں کیسے کروں روداد غم کام مشکل ہے دل نا چار سے ہجر کی راتوں میں بہتا ہی رہا ایک نالہ چشم دریا بار سے مثل مجنوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4102 سے 4657