شاعری

آوارہ ہوں رین بسیرا کوئی نہیں میرا

آوارہ ہوں رین بسیرا کوئی نہیں میرا گلی گلی کرتا ہوں پھیرا کوئی نہیں میرا تیری آس پہ جیتا تھا میں وہ بھی ختم ہوئی اب دنیا میں کون ہے میرا کوئی نہیں میرا تیرے بجائے کون تھا میرا پہلے بھی پھر بھی جب سے ساتھ چھٹا ہے تیرا کوئی نہیں میرا جب بھی چاند سے چہرے دیکھے بھیگ گئیں ...

مزید پڑھیے

زہر کی چٹکی ہی مل جائے برائے درد دل

زہر کی چٹکی ہی مل جائے برائے درد دل کچھ نہ کچھ تو چاہئے بابا دوائے درد دل رات کو آرام سے ہوں میں نہ دن کو چین سے ہائے ہائے وحشت دل ہائے ہائے درد دل درد دل نے تو ہمیں بے حال کر کے رکھ دیا کاش کوئی اور غم ہوتا بجائے درد دل اس نے ہم سے خیریت پوچھی تو ہم چپ ہو گئے کوئی لفظوں میں بھلا ...

مزید پڑھیے

دیا جلائے گی تو اور میں بجھاؤں گا

دیا جلائے گی تو اور میں بجھاؤں گا مجھے نہ چاہ میں نفرت سے پیش آؤں گا میں سخت دل ہی رہوں گا یہی رعایت ہے میں بار بار ترا دل نہیں دکھاؤں گا مجھے پتا نہیں کیا ہو گیا ہے کچھ دن سے پتا چلا بھی تو تجھ کو نہیں بتاؤں گا میں چاہتا ہوں مری بات کا اثر کم ہو زیادہ دیر مگر جھوٹ کہہ نہ پاؤں ...

مزید پڑھیے

یہ عشق ہوتا ہے بن سکھائے کہ اس کا کوئی نصاب کیسا

یہ عشق ہوتا ہے بن سکھائے کہ اس کا کوئی نصاب کیسا ہر اک ہے اس راہ کا مسافر فقیر کیسا نواب کیسا اصول ہے یہ دیار دل کا کہ آنے والا گیا نہ واپس ہر اک ستم مسکرا کے سہنا سوال کیسا جواب کیسا سکون دل کا مقام پوچھو وفا کی منزل کے راہیوں سے کٹھن ہے ہر دن مسافتوں کا یہ رتجگوں کا عذاب ...

مزید پڑھیے

ہیں جتنے بھی روپ زندگی کے کسی پہ نہ اعتبار آیا

ہیں جتنے بھی روپ زندگی کے کسی پہ نہ اعتبار آیا وہاں سے دامن بچا کے گزرے جہاں پہ کوئی فرار آیا ہوئی جو تقسیم راحتوں کی عنایتوں کی یا چاہتوں کی کسی کے حصے میں نارسائی کسی کے بس انتظار آیا وہ جس سے دل کے ہیں دیپ جلتے بس ایک چہرہ ہے شہر بھر میں اس ایک چہرے پہ جانے کیسے ہمارا دل بار ...

مزید پڑھیے

اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں

اداسی کے جزیرے پر غموں کے سائے گہرے ہیں نگاہوں کے سمندر میں لہو رنگ اشک ٹھہرے ہیں کہیں تنہائیوں نے وحشتوں سے دوستی کر لی کہیں دل پر گزشتہ موسموں کے اب بھی پہرے ہیں کہیں برکھا کی رت نے دل کی دنیا خوں میں نہلا دی کہیں ویران راہوں پر قدم صدیوں سے ٹھہرے ہیں سجایا ہے کہیں آنکھوں نے ...

مزید پڑھیے

محبتوں کا حسیں مگر مختصر سا ہے یہ فسانہ چھوڑو

محبتوں کا حسیں مگر مختصر سا ہے یہ فسانہ چھوڑو بچھڑ کے تم سے ہیں جی رہے ہم گزر گیا اک زمانہ چھوڑو تمہارا ہر اک ستم سہا ہے بڑی اذیت ہے تم سے پائی مرے ستم گر ہوئے ہیں گھائل ہمیں اب ایسے ستانا چھوڑو وہ جس جگہ سے گزر ہمارا رہا تھا اک بس تمہاری خاطر ہمارا دل یہ کہے ہے ہم سے اب اس کی ...

مزید پڑھیے

اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ

اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ کہہ تو سکتا ہوں مگر مجبور کر سکتا نہیں اختیار اپنی جگہ ہے بے بسی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ سچائی ہوتی ہے نہاں ہر بات میں کہنے والے ٹھیک کہتے ہیں سبھی اپنی جگہ صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں خود بنا لیتی ہے ...

مزید پڑھیے

اگرچہ آئنۂ دل میں ہے قیام اس کا

اگرچہ آئنۂ دل میں ہے قیام اس کا نہ کوئی شکل ہے اس کی نہ کوئی نام اس کا وہی خدا کبھی ملوائے گا ہمیں اس سے جو انتظار کراتا ہے صبح و شام اس کا ہمارے ساتھ نہیں جا سکا تھا وہ لیکن رہا خیال سیاحت میں گام گام اس کا خدا کو پیار ہے اپنے ہر ایک بندے سے سفید فام ہے اس کا سیاہ فام اس کا کما ...

مزید پڑھیے

مشتاق بدستور زمانہ ہے تمہارا

مشتاق بدستور زمانہ ہے تمہارا آنے سے فسوں خیز نہ آنا ہے تمہارا لیلیٰ کی حکایت بھی حکایت ہے تمہاری شیریں کا فسانہ بھی فسانہ ہے تمہارا اس دل کی خبر تم سے زیادہ کسے ہوگی انداز مگر بے خبرانہ ہے تمہارا تم حسن مجسم ہو بلا شرکت غیرے ناقابل تقسیم خزانہ ہے تمہارا دل میں کوئی آ جائے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4055 سے 4657